دہشت گرد آمروں نے پیدا کئے ،یہی سوچ پھر متحرک ہے ، قوم متحد ہوجائے ، بلور کا خون رائیگا ں نہیں جائے گا:پنجاب اسمبلی

دہشت گرد آمروں نے پیدا کئے ،یہی سوچ پھر متحرک ہے ، قوم متحد ہوجائے ، بلور کا ...
دہشت گرد آمروں نے پیدا کئے ،یہی سوچ پھر متحرک ہے ، قوم متحد ہوجائے ، بلور کا خون رائیگا ں نہیں جائے گا:پنجاب اسمبلی

  

 لاہور(نواز طاہر سے)پنجاب اسمبلی نے دہشت گردوں کے حملے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور صوبہ خیبرپختونخوا کے سینئر صوبائی وزیر حاجی بشیر احمد بلور کی شہادت پرگہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیںخراج تحسین پیش کیا ہے اور دہشت گردوں کیخلاف پوری قوم کو متحد ہونے کی اپیل کی ہے ۔ اراکینِ اسمبلی نے دہشت گردی کی بنیادی وجہ آمروں کے شخصی فیصلے اور خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروپوں کی سیاسی وابستگی بھی قراردی ہے ۔ اسمبلی دہشت گردی کی لعنت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کی تجدید کی اور غیر جمہوری قوتوں کی مذمت بھی کی جس پو ایوان میں شیم شیم کے نعرے بھی سنے گئے ۔ حاجی بشیر بلور کی شہادت پر انہیں خراجِ تحسین متفقہ قرارداد کے ذریعے پیش کیا گیا جبکہ تقاریر میں اراکین نے افغان مہاجرین کو دہشت گردی کا باعث اور فوجی صدور ضیا ءالحق و پرویز مشرف کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ دو روز کے وقفہ سے شروع ہونے والے اجلاس کے آغاز میں سپیکر نے خود ہی حاجی بشیر احمد بلور کیلئے فاتحہ خوانی کروائی ۔ ۔ اس کے بعد ایجنڈا معرضِ التواءمیں رکھ دیا گیا اور دہشت گردی کے اس واقع کی شدید مذمت کی گئی جس دوران تمام جماعتوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے، ملک و ملت کے تحفظ اور دہشت گردی کی لعنت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کی تجدید کی۔اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قرار داد میں بشیر احمد بلور اور دیگر افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کی شہادت کو قومی نقصان قرار دیا گیا ۔قرارداد میں کہا گیا کہ بشیر بلورایک جرات مند اور دلیر انسان تھے جنہوں نے اپنے مقصد اور نظریہ کی خاطر اپنی جان دے دی لیکن دہشت گردی کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ یہ ایوان ملک کے کسی بھی حصہ میں ہونے والی دہشت گردی کی ہر قسم کی کاروائی کی بھی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام قوم کو متحد ہونا ہو گا۔قرارداد پیش کرنے سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر رانا ثناءاللہ نے کہاکہ بشیر احمد بلور کی شہادت نہ ان کے خاندان، نہ عوامی نیشنل پارٹی اور نہ خیبر پختونخواہ بلکہ پورے پاکستان کا نقصان ہے‘ 70 اور 80 کی دہائی میں بعض قوتوں کی جانب سے اپنائی جانے والی پالیسیوں کے سبب ملک جہنم نما صورتحال کا شکار ہے‘ ان قوتوں نے آج بھی کوئی سبق نہیں سیکھا‘ انہوں نے کہاکہ امریکی ڈالروں کی بنیاد پر پاکستانی سرحدوں پر لال آندھی کا خوف دلا کر جہاد شروع کیا گیالیکن روس کی شکست کے بعد جہاد کے لیے تیار کیے جانے والوں کو رینجرز یا کسی سیکورٹی ادارے میں بھرتی نہ کیا گیا ‘ سوال پیدا ہوتا کہ سرحدوں کی حفاظت افواج کرتی ہیں ان سے لال آندھی کو کیوں نہ روکا گیا؟ رانا ثناءاللہ نے کہاکہ جن ہاتھوں میں کلاشنکوف دی گئی اب کھلا چھوڑنے کے بعد وہ اس ہاتھ سے کسی کو بریانی نہیں کھلائیں گے ‘ وہ قوتیں ہوش کے ناخن لیں اور وہ ملک ، قوم اور جمہوریت کے لیے مثبت کردار ادا کریں اور پچاس پچاس کروڑ کے جلسے کرا کے جمہوریت کو آگے بڑھنے سے نہ روکیںبلکہ ملک میں منصفانہ اور آزاد انتخابات ہونے دیں اور آمریت کے کرتا دھرتا ملک کو سیدھی راہ پر چلنے دیں۔ حاجی بشیر احمد بلور کی شہادت پر گہرے رنج و دکھ اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری ظہیر الدین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے پس منظر اور وجوہات کا تعین کر کے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تاہم اس کے لیے پوری قوم اور تمام جماعتوں ، گروپوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی کی ساجدہ میر کا کہنا تھا کہ بشیر بلور اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر پورا ایوان سوگوار ہے ‘ حاجی بشیر احمد بلور ایک نڈر، بہادر اور جمہوریت پسند انسان تھے۔ ان کی شہادت تمام جمہوری قوتوں کے لیے دکھ کا باعث ہے، دہشت  گردی ایک مائنڈ سیٹ ہے جس نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور ساتھیوںکو شہید کیا ‘ اسی مائنڈ سیٹ سے لڑتے ہوئےبشیر بلور بھی امن کی شمع روشن کر گئے ہیں اور شہداءکی فہرست میں اپنا نام شامل کر کے امر ہو گئے ہیں‘ ہم سب نے اس مائنڈ سیٹ کا مقابلہ کرنا ہے‘ قوم نہ تو دہشت گردوں سے ڈرتی ہے اور نہ ہی ان کے عزائم پورے ہونے دے گی‘ پیپلزپارٹی کے رکن احسان الحق نولاٹیہ نے کہاکہ سانحہ پشاور قابل مذمت ہے ‘ اصل بات یہ ہے کہ یہاں کبھی بنیادی جمہوریت کبھی اسلامی جمہوریت اور اب حقیقی جمہوریت کے نام پر آئین پاکستان کو سبوتاژ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد افضل خان نے کا کہنا تھا کہ پورا ایوان سیاسی وابستگی سے بالا اور یک آواز اس کی مذمت کر رہا ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ غیر جمہوری سوچ کے ساتھ پاکستاسن پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں‘ وہ جمہوریت کو پامال کرنے اور اپنا یجنڈا پاکستان پر مسلط کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہونگے‘ پاکستان پیپلزپارٹی کے سید ناظم حسین شاہ نے حاجی بشیر احمد بلور اور ساتھیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گرد اور دہشت گردی آمروں کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستان میں آئی اور آج اس کی وجہ سے ہم لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں مقابلہ کرنے والے ہیں‘ ہماری قیادت، دوستوںاور بشیر احمد بلور سمیت جمہوریت پسندوں اور محب وطنوں نے جان کی قربانی دی ہے‘ اب وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا اور ملک میں مکمل امن ہو گا۔ اجلاس جمعرات کی سہ پہر 3بجے تک ملتوی کر دیا۔

مزید : قومی