اسمبلی میں سوگ اور‘ رونا ‘ غالب رہا، جمہوریت’ اپنی ’ہی بھلی ۔ ۔۔

اسمبلی میں سوگ اور‘ رونا ‘ غالب رہا، جمہوریت’ اپنی ’ہی بھلی ۔ ۔۔
اسمبلی میں سوگ اور‘ رونا ‘ غالب رہا، جمہوریت’ اپنی ’ہی بھلی ۔ ۔۔

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری( نواز طاہرسے )اسلامی تعلیمات میں انتقال پر یہ تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ حیات کو فنا ہے جلد یا بدیر یہ ہوکر رہنا ہے، اسلئے اس پر ماتم نہ کریں بلکہ مغرفت کی دعا کریں ، انسان جذبات سے گوندھی مٹی کا بناہے اور پیاروں کے بچھڑ جانے پر غمگین ہوجاتاہے ،صبر نہیں کرتا بلکہ دھاڑیں مار مار کر روتا ہے ۔ کچھ دھاڑیں نظر آتی ہیں کچھ آنکھوں میں چھُپ جاتی ہیں اور بعض الفاظ کی شکل میں ابل پڑتی ہیں ۔ بشیر بلور کی خودکش حملے میںہلاکت ، دوروز بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد اور پہلی مسلم خاتون وزیراعظم کا اعزاز پانے والی محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ،ان پر رپورٹیں اور پیغامات کیلئے نیوز چینل کی ریکارڈنگ نے پنجاب اسمبلی کا بیرونی ماحول سوگوار بنارکھا تھا ۔یہ سوگ اسمبلی کے اندر بھی نمایا ںرہا ۔ دکھ الفاظ میں ضرور محسوس ہوا جذبات نے اس قسم کی ترجمانی سے عاری ہی لگے ۔بشیر بلور پر خودکش حملے اور ان کی ساتھیوں سمیت موت پر اسمبلی میں متفقہ مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی ۔اراکین نے کھل کر دہشت گردی کی مذمت کی جس دوران اراکین کی کیفیت بھی ایسی ہی لگی جیسے کسی کی موت پر قریبی رشتے داروں کے بجائے دور کے عزیزوں یاجاننے والوں کے بین سنے جاتے ہیں اور عام طور کہا جاتا ہے کہ ’اسے تو اپنے دکھ پر رونا آرہا ہے‘ اسی طرح ن لیگ اور پیپلز پاٹی نے بھی شائد اپنے دکھ یاد کئے ۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ آج ملک جس دہشت گردی کا شکار ہے اس کی وجہ فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کا جمہوریت پر شب خون مارنا اور انتہاپسندی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ افغانیوں کو کلیجے سے لگانا ہے ، مسلم لیگ ن کو بھی پرویز مشرف کے لگائے ہوئے زخم بُری طرح یاد آئے ۔جس حد تک ممکن تھا امریکہ کو برا بھلا کہا گیا،غیر جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی لتاڑا گیا ۔ اسی دوران ایک روز قبل مینارِ پاکستان تلے ہونے والے عوامی تحریک کے جلسے کا ذکر بھی کیا گیا اور خیال ظہار کیا گیا کہ اس کے پیچھے بھی غیر جمہوری قوتیں ہیں ۔ن لیگ کی طرف سے برملا کہا گیا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے غیر جمہوری ’سبق دہرانے‘کی خواشمند قوتیں جمہورت پر رحم کھائیں ،اس کی تائید میں پیپلز پارٹی کی طرف سے صرف ’شیم شیم ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ۔مینارِ پاکستان پر ایک سال پہلے بھی ایک بہت بڑا جلسہ ہوا تھا ۔اس پر بھی ایسا ہی رد، عمل آیا تھا ۔ اظہارِ رائے ہی کے نتیجے میں سجنے والے اس ایوان میں معلوم نہیں مینارِ پاکستان کے سائے تلے ہونے والے اظہارِ رائے پرکیوں اعتراض کیا گیا ؟جبکہ اس جلسے میں قومی پرچم جس تعداد سے لہرائے گئے شائد کبھی پہلے ایک نظر میں نہیں دیکھے گئے جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے قذافی سٹیڈیم میں قومی پرچم لہرانے کا خود بھی عالمی ریکارڈ بنایا ؟ جب اس جلسے پر اور اس میں ہونے والی تقریر پر وزیرقانون نے تنقید کی اور کروڑوں روپے کے فنڈز استعمال ہونے کا ذکر کیا اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کو پس پردہ قراردیا تو پریس گیلری میں بھی مینارِ پاکستان کا جلس، اس میں ہونے والی تقریر، سوچ اور ایجنڈا زیر بحث رہا لیکن سوال صرف ایک ہی اٹھایا گیا کہ اگر مرکز اور صوبے کی حکمران جماعتیں جانتی ہیں کہ جمہوری نظام کیخلاف فنڈز اسٹیبلشمنٹ نے فراہم کئے ہیں تو اس کی تحقیقات کیوں نہیں کرتیں؟جموریت کیخلاف سازش تو بلاشبہ غدار ی ہے کیونکہ اس جمہوریت کی خاطر اس ملک نے بہت کچھ گنوایا ہے ؟ اگر حکمران جماعتوں کو جمہوریت عزیز نہیں اور اس کیخلاف ہونے والی سازش کی تحقیقات نہیں کراسکتیں تو ایوانوں پر قبضے کیا صرف پروٹوکول کیلئے ہی ہیں ؟اور اگر جمہوریت کیخلاف سازش نہیں تو واویلا کس بات پر ؟ کیا کچھ چھن جانے کا ڈر اور صدمہ ہے جس کا سوگ بشیر بلور کی موت سے بھی زیادہ ہے ؟؟؟

مزید : لاہور