ایک ہی راستہ ہے،دہشت گردوں کوماردیں یا مر جائیں :ہوتی

ایک ہی راستہ ہے،دہشت گردوں کوماردیں یا مر جائیں :ہوتی
ایک ہی راستہ ہے،دہشت گردوں کوماردیں یا مر جائیں :ہوتی

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اب دو راستے ہیں، دہشتگردوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیں یا ان کا مقابلہ کریں، دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟ وہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں سینئر وزیر بشیر بلور کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد  فاتحہ خوانی کے بعد خطاب کر رہے تھے ۔اسمبلی میں بشیر بلور کی خالی نشست پر اُن کی سرخ ٹوپی رکھ کر شمعیں جلائی گئیں اور دہشتگردی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کی صدارت میں ہوا۔ اس موقع پر اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد جمہوریت کو مانتے ہیں نہ انسانیت کو۔ ہمارے پاس اب دو راستے ہیں، دہشتگردوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیں یا ان کا مقابلہ کریں، دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟۔ دہشتگردوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے کے حالات نارمل ہو جائیں گے حالانکہ دہشتگردوں کا مقصد امریکہ کو افغانستان سے نکالنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ نہ کیا گیا تو مجرمانہ غفلت ہو گی۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی نے شہید رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر لیاقت شباب نے کہا کہ بشیر بلور نے اپنے خون سے امن کی شمع روشن کی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، اے این پی اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نکالا جائے۔

مزید : قومی