توہین عدالت کی بہادری

توہین عدالت کی بہادری
توہین عدالت کی بہادری

  

میں تسلیم کرتا ہوں کہ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا اجیرن کر رکھا ہے اور اپوزیشن کی طرف سے عوام مشکلات کے حل کے لئے احتجاج اور مظاہروں کے حق سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا مگرکیا یہ ضروری تھا کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد مہنگائی کے خلاف احتجاج کے لئے ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے فیصلے کامذاق اڑاتے، قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے۔ انہوں نے لاہور کی مال روڈ پرجی پی او چوک میں کھڑے ہو کے خیبر پختونخوا میں بجلی کا کنٹرول مانگا تاکہ وہ وہاں بجلی چوری ختم کر سکیں، وہ اس ریلی سے خطاب کر رہے تھے جس کا آغاز صرف ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ناصر باغ سے ہوا تھا، یہ الگ سوال ہے کہ وہ اپنی ریلی مال روڈ پر لانے کے باوجود پنجاب اسمبلی تک نہیں پہنچ سکے۔

میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ ریلی کامیاب تھی یا ناکام ، تحریک انصاف کے دوستوں کایہ اعتراض بھی غیر ضروری ہے کہ جس وقت ریلی ہو نے والی تھی عین اسی وقت حکومت پنجاب نے اک مفت میوزیکل شو کا اعلان کر دیا ، یہ تو ایسے ہی تھا کہ وہ شمع جلائیں ہم دل جلائیں گے، دیکھئے گا پروانے پھر کدھر جائیں گے۔ اگر میوزیکل شو کے اعتراض کو جائز مان لیا جائے تو اس ریلی کے خلاف اس سے بھی بڑی سازش تو انہوں نے کی جن لوگوں نے ریلی کا دن اور وقت وہی چنا جب پاکستان اور سری لنکا کے درمیان زبردست قسم کا ون ڈے میچ ہو رہا تھا، ریلی کی ناکامی کی سازش میں پاکستانی بلے بازوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جنہوں نے دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے شارجہ کے میدان میں رنزکا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا اور پاکستان سے محبت کرنےو الوں کو ٹی وی سکرینوں کے ساتھ باندھ کے رکھ دیا۔

حکومت چاہتی تھی کہ تحریک انصاف اوراس کی ساتھی سیاسی جماعتیں مال روڈ پر آنے کی بجائے ناصر باغ میں ہی اپنا احتجاجی پروگرام منعقد کر لیں، خیر حکومت کو تو اس پروگرام پر ہی سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ تحریک انصاف مہنگائی کے خلاف ریلی اس صوبے میں کر رہی ہے جہاں قیمتیں کنٹرول میں ہیں، جہاںآٹے کا بیس کلو کا تھیلا تحریک انصاف کی حکومت والے شہر سے ڈیڑھ سو روپے کم قیمت پر ملتا ہے۔ اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ مہنگائی بجلی ، پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے اور اربوں روپوں کے نوٹ چھاپنے کے باعث ہوئی ہے تو یہ تمام فیصلے بھی لاہور نہیں ، اسلام آباد میںہوتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ مسلم لیگ نون کی حکومت، تحریک انصاف کو مال روڈ پر ریلی نکالنے سے روکنے کے لئے کم زور وکٹ پر تھی، اس لئے نہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کی گائیڈ لائنز موجود تھیں بلکہ اس لئے کہ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ خلاف ورزی ہو چکی ۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ عدالتی فیصلے کے باوجود کوئی ایسا قانون موجود نہیں جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہو

مال روڈ پر جلسے جلوسوں پر پابندی کا مطالبہ بہت پرانا ہے مگر اس میں شدت اس وقت آئی جب وکلاءنے عدلیہ بحالی تحریک میں پہلے روزانہ اور پھر ہفتہ وار جلوس نکالنے شروع کئے۔ وکلاءکو دیکھتے ہوئے باقی پریشر گروپس نے بھی مال روڈ کو اپنی جلسہ گاہ بنا لیا۔ اس پر مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے اپنے دھڑے کے صدر نعیم میر نے اپنے جنرل سیکرٹری زاہد میر کو کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اعجاز احمد چودھری نے تمام فریقوں کو سننے کے بعد مال روڈ پر احتجاجی جلسوں، جلوسوں پر پابندی عائد کر دی۔ فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایسی واضح پالیسی بنائے جس میں لوگوں کی اجتماع اور تقریر کی آزادی کے ساتھ ساتھ زندگی اور کاروبار کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ مال روڈ سمیت شہر کی تمام سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو کیونکہ مال روڈ پر احتجاج ناصر باغ سے کینال روڈ تک تمام ملحقہ سڑکوں اور علاقوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ تیسرا نکتہ تھا کہ حکومت بہ حیثیت مجموعی ایسی پالیسیاں ہی نہ بنائے جس کے نتیجے میں جلسے، جلوس، احتجاج اور ریلیاں ہوں، یہ ہدایت بھی کی گئی کہ تمام سٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں اور مشترکہ پالیسی بنائیں۔ پانچواں نکتہ تھا کہ مال روڈ کے تاجروں کی کسی بھی شکایت پر Dilly Billy Tactics کی بجائے فوری ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ ہو۔خریداروں کو پرامن ماحول دیا جائے اور عوامی احتجاج کے لئے متبادل مقامات کا اعلان اور انتظام کیا جائے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ضابطہ اخلاق بنائیں کہ ان کے احتجاج کے دوران عوام اور نجی املاک کی حفاظت یقینی بنائی جائے نیزجو لوگ بھی سرکاری اور نجی املاک کی تباہی کے ذمہ دارہوں یا قانونی کاروبار کی راہ میں رکاوٹ بنیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔آخر میں ہدایت تھی کہ اس فیصلے کی کاپی وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی جائے تاکہ گائیڈ لائنز پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل ہو۔

دو برس قبل دو نومبر کو آنے والے فیصلے میں واضح طور پر مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر شہر کی اس تاریخی اور ثقافتی سڑک پر احتجاجی جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پابندی لگوانے والے جنرل سیکرٹری زاہد میر اپنا تاجروں کا دھڑا اور اس دھڑے کے صدر نعیم میر سیاسی جماعت بدل چکے، نعیم میر دو، تین سال پہلے مسلم لیگ نون میں ہوا کرتے تھے مگر پھر انہوں نے تحریک انصاف جوائن کر لی اور پی ٹی آئی پنجاب کے صدراعجاز چودھری نے انہیں تحریک کا صوبائی ترجمان مقرر کر دیااور انہی کی جماعت نے اس فیصلے کو ضد اور زبردستی کر کے پامال کیا۔ دوسری طرف حکومت کو دیکھ لیں، اگر اس سے اجازت مانگی جائے تو وہ مال روڈ پر جلسہ جلوس کرنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن اگر مانگ لی جائے تو پابندی کا شور مچا دیتی ہے۔

 تحریک انصاف کی دلیل یہ رہی کہ اتوار کے روز احتجاج سے مال روڈ پر کاروبار متاثر نہیں ہوگا۔ یہاں دو باتیںاہم ہیں اک یہ کہ عدالتی فیصلے میں کہیں بھی اتوار کی رعایت موجود نہیں اور دوسرے یہ کہ بڑے بڑے لیڈر چھوٹی چھوٹی باتوں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔

بظاہر بات کوئی بڑی نہیں، تحریک انصاف نے احتجاجی ریلی نکالنا تھی سو نکال لی مگر بات اس اخلاقیات کی ہے جس کے تحت سیاسی قائدین اپنی قوموں میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہیں، اس سے پہلے عمران خان کی پشاور کی ایک ویڈیو فلم بھی سوشل میڈیا کا حصہ بنی جس میں وہ ڈرائیو کرتے ہوئے ون وے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے لاہور میں ناصر باغ سے جی پی او چوک یا ہائی کورٹ چوک تک سفر کیا ہو تو آپ کو علم ہوجائے گا کہ یہ کوئی بہت بڑا فاصلہ نہیں کہ اس کو طے کرنے سے تحریک انصاف والوں کو کسی تاریخی لانگ مارچ کا کریڈٹ مل جاتا اور تحریک انصاف کے سربراہ نے جو باتیں جی پی او چوک میں کیں، وہ اگر ناصر باغ میںبھی کر لیتے تو ان خیالات کی شان اور اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہونی تھی۔ انہوں نے ایک روز قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مال روڈ کسی شہنشاہ کی جاگیر نہیں کہ وہ وہاں جا کے خطاب نہ کرسکیں اور پھر اسکے بعد انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو شہنشاہ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف نے تو عدلیہ کے فیصلے کو اپنی چودھراہٹ ثابت کرنے کے لئے جوتے کی نوک پر رکھا اوردوسری طرف حکومت بھی عدالت میں کئے گئے وعدوں پر عمل سے مسلسل گریز کر رہی ہے، کہا گیا تھا کہ ناصر باغ میں ایک ہزار تک مظاہرین کے لئے باقاعدہ جگہ مختص ہو گی، ان کے لئے سٹیج اور ساو¿نڈ سسٹم موجود ہوں گے اور جو مظاہرین حکومت سے مذاکرات کے لئے ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک آنا چاہیں گے تو انہیں باقاعدہ ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔ یہ بات بھی عدالت میں ہی ہوئی تھی کہ ایک ہزار سے زاہد مظاہرین ہوں گے تو انہیں ناصر باغ کی بجائے عتیق سٹیڈیم کی راہ دکھائی جائے گی۔

میں وجوہات جانتا ہوں جن کی بنا پر اس عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر کوئی نوٹس نہیں لیا جائے گامگراتنا ضرور کہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک بہادر وہی ہے جو آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کو پامال کرتا ہے حالانکہ اصل بہادری تو ان سب کی بالادستی یقینی بنانے میں ہے۔ آمریت کا باغی ہونااعزاز سہی مگر آئین، قانون، جمہوریت اور عدلیہ کے باغی مجرم کہلاتے ہیں۔

مزید : کالم