ہمارے تُرک مہمان

ہمارے تُرک مہمان
 ہمارے تُرک مہمان

  

 یوں تو ترکی ہمیشہ سے ہمارا برادر ملک رہا ہے لیکن پچھلے چند برسوں میں ترکی سے ہماری جو نئی جان پہچان ہوئی ہے اس کا آغاز پرویز مشرف کے دور آمریت سے ہوا۔ تب ترکی کا ذکر اس حوالے سے اخبارات میں آتا رہا کہ ہمارے جنرل صاحب ترکی سے بہت کچھ سیکھ کر آئے ہیں۔ پھر جب ان کی عنانِ اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی تو یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ ان کا سامان ایک طیارے میں لادا جا چکا ہے اور وہ کسی بھی وقت ترکی کی طرف پرواز کر جائیں گے۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ وہ طیارہ چکلالہ ایئرپورٹ پر کھڑا رہ گیا۔ پرویز مشرف باہر ضرور گئے لیکن ان کی منزلیں امریکہ اور برطانیہ میں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ سیاسی منظر نامہ بدلا تو مشرف وطن واپس آئے۔ اپنے ہی گھر میں محبوس ہوئے اور ابھی تک وہیں سے اپنی ”وسیع المشربی“ سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ ان کی روشن خیالی اور حسن پرستی بھی انہی کے ساتھ چک شہزاد کے فارم ہاﺅس میں مقیم ہے۔ البتہ ان کے اس کتے کی کوئی خبر نہیں آئی جو انہوں نے اپنی ابتدائی میڈیا ماڈلنگ کے موقع پر اپنی بغل میں دبا رکھا تھا۔

یہاں مجھے کتے سے یاد آیا کہ میرا من دہلوی کی داستان ”باغ و بہار“ میں بھی ایک خواجہ سگ پرست کا قصہ شامل ہے۔ اس داستان کو قصہ چہار درویش بھی کہا جاتا ہے۔ جس فارسی داستان کا یہ ترجمہ ہے اس میں بھی چار درویشوں ہی کا قصہ ہے۔ اس میں خواجہ سگ پرست کا قصہ شامل ہی نہیں لیکن ہمارے استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر رشید امجد کا کہنا ہے کہ فورٹ ولیم کالج کے ہندوستانی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جان گل کرسٹ نے خواجہ سگ پرست کا قصہ اس داستان میں فرمائش کر کے شامل کروایا تھا۔ خواجہ سگ پرست کے قصے کا لب لباب یہ ہے کہ اس کے دو بھائی اس سے بار بار دھوکا کرتے رہے اسے قدم قدم پر لوٹتے رہے یعنی انہوں نے برادرانِ یوسف کا کردار ادا کیا۔ وہی برادرانِ یوسف جن کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی نے یہ شعر کہہ رکھا ہے:

آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

لیکن خواجہ سگ پرست کے کتے نے قدم قدم پر اس سے وفاداری کی۔ اس نے خواجہ سگ پرست کو کسی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے اپنے بھائیوں سے منہ موڑا اور کتے سے دوستی کر لی۔ اہل مغرب کی زندگی میں چونکہ کتا بہت اہمیت رکھتا ہے اس لئے ڈاکٹر رشید امجد صاحب کی بات پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر جان گل کرسٹ نے کتے سے متعلق یہ واقعہ بالارادہ داستان ”باغ و بہار“ میں شامل کرایا تھا۔ اس زمانے کا انگریز مقامی لوگوں کو جِتلانا چاہتا تھا کہ اگر وہ ان سے وفاداری کریں گے تو عزت پائیں گے۔ ورنہ ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو خواجہ سگ پرست کے بھائیوں کے ساتھ ہوا۔

مشرف اپنے کتے سمیت کسی دھند میں کھو چکے ہیں۔ لیکن ان کی روشن خیالی اور حسن پرستی کامظاہرہ ان دنوں پاکستان کے مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے جانے والے ترکی کے ڈراموں میں خوب ہو رہا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک ڈراما بھی ایسا نہیں جس میں خوب صورت چہرے، اپنی دلفریب اداﺅں کے ساتھ جلوہ گر نہ ہو رہے ہوں۔ ہر ڈرامے میں مردوں کے عورتوں کے ساتھ خفیہ تعلقات نئے زاویوں سے دکھائے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ تقریباً پانچ سو سال پرانی کہانی پر مبنی ڈرامے ”میرا سلطان“ کی بنیاد بھی یہی خفیہ تعلقات ہیں۔ محلاتی سازشیں، ان سے الگ ہیں۔ یہ ڈراما محلاتی سازشوں کی تفہیم میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ڈراما دیکھ کر میں دل ہی دل میں ہر روز شکر ادا کرتا ہوں کہ آج بادشاہت کا زمانہ نہیں اگر ہوتا تو ہم شاعروں کے لئے کچھ بھی نہ بچتا۔ ہم پھولوں کی بات کرتے رہتے اور بادشاہ سلامت پھول جیسے لوگوں سے اپنی خواب گاہ کو مہکا رہے ہوتے۔

ترک ڈراموں نے پاکستانی عوام کو پوری طرح اپنے حصار میں جکڑ رکھا ہے اب ہر پاکستانی کے دل میں استنبول جانے کی خواہش مچل رہی ہے۔ ہمارے محترم نقاد اور ادب کے استاد پروفیسر ڈاکٹر اے بی مشرف آج سے تقریباً تیس سال پہلے ملتان سے ترکی گئے تھے اس کے بعد وہ پلٹ کر نہیں آئے۔ کبھی کبھی پاکستان آتے ہیں لیکن ترکی کی روشن خیالی اور حسن نے انہیں ایسا جکڑا کہ اب وہ زیادہ دن یہاں نہیں رہتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشرف کے آنے کے بعد اقتدار سنبھالنے والے ہمارے سیاسی حکمران بھی ترکوں سے دوستی پر مجبور ہو گئے۔ زردار چلے گئے تو نواز آ گئے انہوں نے بھی ترکی سے تعلقات استوار رکھے بلکہ انہوںنے تعلقات نبھانے میں پہلوں سے زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ پاک ترک دوستی کا نعرہ زیادہ شدت کے ساتھ لگایا گیا چنانچہ آج پاکستان میں ترکش ایر لائنز کی پروازیں بھی چل رہی ہیں۔ ترکش ثقافتی مرکز بھی کھلنے والے ہیں۔ تعلیمی ادارے پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ پاک ترک بزنس کونسل سرگرم ہو چکی ہے۔ برادرم اسلم بھٹی کا ہر کالم ترکی کی محبت سے لبریز ہوتا ہے۔ صحافیوں کو بھی لندن اور واشنگٹن سے زیادہ استنبول اچھا لگنے لگا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ترک حکمرانوں کو بھی ہمارا شہر لاہور بھا گیا ہے۔ چنانچہ وہ بار بار ادھر آتے ہیں اور پاکستانی عوام کو اپنی جھلک دکھلا جاتے ہیں۔ ترکوں کی مہربانی ہے کہ ان کے تعاون سے لاہور شہر میں کوڑا اٹھانے کے لئے ہر وقت بہترین اور بڑی بڑی گاڑیاں دوڑتی پھرتی ہیں۔ ایسی گاڑیاں ہماری پولیس کی قسمت میں بھی نہیں۔ ان دنوںترک وزیر اعظم طیب اردگان لاہور میں ہیں اہل لاہور انہیں خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔ نئی نئی دوستی میں خوب گرم جوشی دکھائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی مال روڈ پر طیب اردگان کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اہل لاہور سے پیشگی معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معزز مہمان کی آمد کے موقع پر اہل لاہور کو کچھ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ حاکم کی طرف سے معذرت خواہی کا رویہ اس بات کی نشان دہی کر رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں واقعی، ہمارے عوام کی سنی جائے گی اور ان کے دلی جذبات کا ادراک اور احساس کیا جائے گا۔

آخر میں میری ایک تازہ غزل پڑھیے جس میں حالاتِ حاضرہ کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے:

اپنی ہمت سے زیادہ بھی تو رو سکتے ہیں

ہم کہ دریا ہیں، سمندر بھی تو ہوسکتے ہیں

رَہ نما تارے ہیں اور ہاتھ میں نقشے اپنے

پھربھی اِمکان ہے ہم راستہ کھو سکتے ہیں

زلزلے آتے ہیں احساس دلانے کے لیے

چادرِ خاک کو ہم اوڑھ کے سو سکتے ہیں

جتنے تارے ہیں سیہ چادرِ افلاک پہ آج

اُتنے ہی درد ہم اس دل میں سمو سکتے ہیں

سر پہ رکھی ہوئی دستار نہیں اُترے گی

آپ گردن میں یہ تلوار پرو سکتے ہیں

سُرخ رُو کرنا ہے تاریخ کے آئینے کو

اپنے ہی خون سے ہم داغ کو دھو سکتے ہیں

آنے جانے کی اجازت نہیں لیتا کوئی

اتنے دروازے بھی دیوار میں ہو سکتے ہیں؟

خا لصہ ہاسٹل کے شہبا ز کو نا معلو م ا فرا د نے فا ئر نگ کر کے زخمی کردیا تھا، پولیس 4گھنٹے تاخیر سے پہنچی ،ملزمان موقع سے فرار ہوگئے

 شہبا زکو نا معلو م ا فرا د کی طرف سے بھتہ کی کا ل ا ٓئی تھی ،اس حوالے سے فوری طور پر تھا نہ ا سلا م پو ر ہ میں د ر خوا ست بھی دی گئی تھی

ملزمان کو فوری گرفتارکےا جائے،مقتول کے بھائی وقاص،دیگر ورثاءاورمقامی تاجروں کااحتجاجی مظاہرہ مےں وزیر اعلیٰ سے مطالبہ

لا ہو ر (شعیب بھٹی )ا سلا م پو ر ہ کے علا قہ میںگھر کی د ہلےز پر بھتہ خوروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے 22سا لہ تا جر کے قاتلوں کو پولیس 3روز بعد بھی گرفتار نہ کرسکی ہے ۔مقول کے ورثاءاورمقامی تاجروں نے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے ملزمان گرفتارنہ کئے جانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اوروزیر اعلیٰ پنجاب سے ملزمان کی فوری گرفتاری کی اپیل کی ہے ۔واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت میں متعدد شہریوں کو بھتہ نہ دینے پر موت کے گھاٹ اتارا جا چکاہے تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھی سخت احکامات ملنے کے باجود بھتہ خوروں پر قابو پانے میں پولیس مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق خا لصہ ہاسٹل کے ر ہائشی شہبا ز نے آرٹیفیشل جیولری کی دکان بنا رکھی تھی۔ 3روز قبل وہ دکان بند کرکے گھر جارہا تھا کہ نا معلو م ا فرا د نے اسے گلی میں داخل ہوتے ہی فا ئر نگ کر کے زخمی کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے ۔فائرنگ کی آواز سن کر اہل محلہ اور شہباز کے بھائی نے زخمی حالت میں اسے فوری طبی امداد کے لئے ہسپتا ل پہنچا ےا جہا ں وہ چند گھنٹے زندگی و مو ت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔مقتول کے بھائی وقاص نے نمائندہ "پاکستان "سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس وقوعہ کے روز بھی اطلاع ملنے کے باجود 4گھنٹے تاخیر سے پہنچی تھی جس کی وجہ سے ملزمان جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اورتین روز گزرنے کے بعد بھی پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ا س کے بھا ئی کو نا معلو م ا فرا د کی طرف سے بھتہ کی کا ل ا ٓئی تھی جس کے حوالے سے فوری طور پر تھا نہ ا سلا م پو ر ہ میں د ر خوا ست بھی دی گئی تھی۔ ا گر پو لےس بر و قت کا رروا ئی کر تی تو اسکی فیملی کو آ ج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور اسکا بھائی بھی زندہ ہوتا۔تھانہ اسلام پورہ انویسٹی گیشن پولیس کے تفتیشی منور حسین کا کہنا ہے کہ مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا کافی حد تک حاصل کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر مختلف پہلوﺅں پر بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ پولیس نے اس قتل کیس میں بہت پیش رفت کی ہے جسے فی الوقت سامنے نہیں لایا جاسکتا کیونکہ اس سے ملزمان کا فائدہ ہوسکتا ہے تاہم پولیس جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرنے کے قریب ہے۔

مزید : کالم