زرعی قرضوں کی تقسیم کیلئے بینکوں کو عبوری طور پر 360 ارب روپے کا ہدف

زرعی قرضوں کی تقسیم کیلئے بینکوں کو عبوری طور پر 360 ارب روپے کا ہدف

کراچی (اکنامک رپورٹر) اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2013-14ءکے زرعی قرضوں کی تقسیم کے لیے بینکوں کو عبوری طور پر 360 ارب روپے کا ہدف دیا ہے۔ 360 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں بینکوں نے جولائی تا نومبر 2013ءکے دوران 118 ارب روپے تقسیم کیے جو کہ ہدف کا 33 فیصد بنتا ہے۔ یہ تقسیم گذشتہ برس کی اسی مدت کے دوران دیے گئے 106.6 ارب روپے سے 11.0 فیصد زائد ہے۔ زرعی قرضوں کے مجموعی واجبات میں گذشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 37.8 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور یہ آخر نومبر 2013ءتک 229.6 ارب روپے سے بڑھ کر 267.4 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔پانچ بڑے بینکوں نے مجموعی طور پر 70.6 ارب روپے یا اپنے سالانہ ہدف کا 39 فیصد تقسیم کیا جو گذشتہ برس تقسیم کیے گئے 63.2 ارب روپے سے 12 فیصد زیادہ ہے۔ ایم سی بی نے اپنا سالانہ 48 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے جبکہ نیشنل بینک لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ، یوبی ایل اور اے بی ایل نے بالترتیب اپنے انفرادی اہداف کا 42 فیصد، 41 فیصد، 31 فیصد اور 27 فیصد حاصل کر لیا ہے۔ تخصیصی بینکوں میں سے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ 13.6 ارب روپے تقسیم کر سکا ۔

جو اس کے ہدف 69.5 ارب روپے کا 20 فیصدہے، جبکہ پی پی سی بی ایل نے زیر جائزہ مدت میں 1.76 ارب روپے تقسیم کر کے اپنے ہدف کا 19.6 فیصد حاصل کرلیا۔نجی شعبے کے 14 ملکی بینکوں نے بطور اےک گروپ کے 31 فیصد ہدف کو پورا کےا۔ تاہم سندھ بینک، بینک آف خیبر، بینک الحبیب، سلک بینک، سمٹ بینک اور این آئی بی بینک نے بالترتیب 85 فیصد، 59 فیصد، 45 فیصد، 41 فیصد، 41 فیصد، اور 38 فیصد سالانہ اہداف حاصل کےے۔ سونیری بینک، بینک الفلاح، فیصل بینک، بینک آف پنجاب اور عسکری بینک اپنے اہداف کا بالترتیب 31 فیصد، 28 فیصد، 24 فیصد، 19فیصد اور 18.6 فیصد حاصل کر پائے۔ سات مائکرو فنانس بینکوں نے بطور اےک گروپ 6.6 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے جو ان کے سالانہ ہدف 19.6 ارب روپے کا 34 فیصد ہے۔ تےن اسلامی بینکوں نے زیر جائزہ عرصے کے دوران بطور اےک گروپ اسلامی مالکاری طریقوں کے تحت 0.5 ارب روپے ہدف کے مقابلے مےں 0.25 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کےے جو ہدف کا 47 فیصد ہے۔

مزید : کامرس