یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام یوم اقبالؒ

یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام یوم اقبالؒ

برصغیر پاک وہند میں بہت سی نامور شخصیات نے جنم لیا، جن میں شاعر مشرقی علامہ محمد اقبال ؒ اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا شمار نہ صرف صف ِ اول کے رہنماﺅں میں ہوتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ان کا ذکر کئے بغیر تاریخ بھی نامکمل ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قوموں کو عروج و زوال کا سامنا کرنا پڑتاہے اور یہ عین تقاضائے فطرت ہے۔ خوش قسمت قومیں تاریخ کے نشیب و فراز سے ہی سبق حاصل کرتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی عمل مسلمانان ِ برصغیر کے ساتھ ہوا، جو اپنی غلطیوں اور لاپرواہی کے باعث اپنے ہی گھر میں محکوم ہوئے۔ ایسے میں ایک ایسا عظیم انسان پیدا ہوا، جو نہ صرف عظمت کے معیار پر پورا اترا، بلکہ خود عظمت کو اس شخصیت پر نازہوا، کیونکہ اس شخص نے انتہائی بگڑی ہوئی صورت حال میں صوبہ پنجاب سے اذان دی اور برصغیر کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ آج ہم اس عظیم رہنما کو حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے نام سے یاد کرتے ہیں، جن کی شاعری کے ذریعے ہمیں غلامی سے آزادی نصیب ہوئی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ایک لحاظ سے ہم خوش نصیب اور ایک لحاظ سے ایک آزاد مملکت میں رہتے ہوئے بھی بدنصیب ہیں۔ حقائق پر نظر ڈالی جائے، تو اَن گنت مسائل نے ہمیں چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے، جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ نوجوانوں کو اُن کے اصل مقاصد سے آگاہ کرنے اور موجودہ حالات کا جواں مردی اور دلیری سے مقابلہ کرنے کے لئے یونیورسٹی آف سرگودھا میں یوم اقبال ؒ کی تقریب کا خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا۔ تقریب کی خصوصی بات یہ تھی کہ اس میں فرزند اقبال جسٹس(ر) ڈاکٹر جاوید اقبال مہمان خصوصی تھے، جبکہ دیگر مہمانوں میں جسٹس(ر) ناصرہ جاویداقبال، ممتاز صحافی الطاف حسن قریشی، نامور کالم نگار رﺅف طاہر نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت کے فرائض رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے انجام دیئے۔ یوم اقبال ؒ کی اس عظیم الشان اور تاریخی تقریب کے لئے جامعہ سرگودھا میں انتہائی خوبصورت اور عمدہ انتظامات کئے گئے، جبکہ پنڈال میں 10ہزار سے زائد طلباءو طالبات نے اپنی سابقہ روایات کے پیش نظر انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ پنڈال میں جب مہمان خصوصی جسٹس(ر) ڈاکٹر جاوید اقبال داخل ہوئے تو پنڈال کئی منٹ تک تالیوں سے گونجتا رہا۔

تقریب میں نظامت کے فرائض شعبہ اردو کے استاد پروفیسر طارق حبیب نے انجام دیئے۔ اس عظیم الشان اور تاریخی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ دور حاضر میں اُمت ِ مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اجتہاد میں پنہاں ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ کے نزدیک اسلامی ثقافت کی اصل روح جمہوریت ہے، جو کسی بھی ہجوم کو نہ صرف ایک قوم بناتی ہے، بلکہ اسے ترقی کی منازل سے بھی ہمکنار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒ سے بڑھ کر عالم ِ اسلام، بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا درد کوئی بھی محسوس نہیں کر سکا، موجودہ حالات بھی اس وقت تقسیم ہندوستان اور اغیار کی مدد کی بجائے اپنے وسائل پر بھروسہ کر کے نئے جہاں آباد کرنے ہیں اور یہی اقبال ؒ کا تصور ِ شاہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے خواتین کو بھی مردوں کے ساتھ شبانہ بشانہ کام کرنا ہو گا۔

 معروف صحافی الطاف حسن قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب محنت اور جذبے مشترک ہو جائیں ، تو اقوام کا مستقبل خودبخود روشن ہو جاتا ہے اور صبح امید کا یہ پیغام مَیں جامعہ سرگودھا سے لے کر جا رہا ہوں۔ اس موقع پر نامور کالم نگار رﺅف طاہر نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒ مایوسیوں میں امید کا شاعر ہے، جو بلاشبہ مصور پاکستان ہونے کے ساتھ پوری دنیا کا بھی شاعر ہے، آج اگر علامہ محمد اقبال ؒ زندہ ہوتے تو وہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے نوجوان طلباءو طالبات کو اپنا وہی شاہین قرار دیتے، جس کا تصور انہوں نے اپنی شاعری میں دیا تھا۔ اپنے صدارتی خطبے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے کہا کہ شعراءمیں جو عزت اور مرتبہ علامہ محمد اقبال ؒ کو ملا، وہ کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں ہوا، کیونکہ شاعر مشرق نے جس خوبصورتی سے قرآن پاک کی ترجمانی کی، اُس کا ایک ایک لفظ قابل تحسین اور قابل داد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے درمیان فرزند ِ اقبال کی موجودگی ہمارے نوجوان طالب علموں کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز اور مرتبے سے کم نہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے مزید کہا کہ آج ہم تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑے ہیں اور ایسے میں ہمیں اقبال کے تصورِ خودی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

 اپنے خطاب میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز پروفیسر ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے کہا کہ آج ہماری خوش قسمتی کہ ہمارے درمیان فرزند ِ اقبال موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کی ایک جھلک دیکھنے کو پوری یونیورسٹی بہت بے تاب تھی اور آج کی تقریب کے اہتمام کا مطلب نوجوانوں بالخصوص طلباءو طالبات کو علامہ محمد اقبال ؒ کے اُن تصورات سے آگاہ کرنا ہے، جو انہوں نے تسخیر کائنات کے بارے میں پیش کئے ہیں۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحسن ڈوگر، رجسٹرار بریگیڈیئر(ر) راﺅ جمیل اصغر ڈائریکٹر میانوالی کیمپس پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس طارق، ڈائریکٹر بھکر کیمپس پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز طاہر، ڈین فیکلٹی آف ایگری کلچر پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل، ڈین فیکلٹی آف سوشل اینڈ بہیوریل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر غلام یٰسین، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لائ، پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان، ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر ناظرہ سلطانہ، ڈین فیکلٹی آف فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر ساجد بشیر، پرنسپل سرگودھا میڈیکل کالج پروفسر ڈاکٹر اشرف خان نیازی، پرنسپل ایگری کلچرل کالج پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال، پرنسپل لاءکالج پروفیسر عبدالرشید خان، پرنسپل یونیوسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر غلام یٰسین چوہان، مختلف شعبہ جات کے صدور، انتظامی افسران اور اساتذہ کے شعبہ جات بھی موجود تھے۔   ٭

مزید : کالم