اس رجحان کو روکیں!

اس رجحان کو روکیں!
اس رجحان کو روکیں!

  

 حیرت زدہ ہوں کہ بہت سے منفی رجحانات کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ پروان چڑھائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ہم قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اس میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے لاہور میں مہنگائی کے خلاف ریلی نکالی تو سارا زور اس بات پر دیا جا رہا ہے کہ یہ ریلی پشاور میں کیوں نہیں نکالی گئی۔ مسلم لیگ ن کے بعض وزراءنے یہ دھمکی بھی دیدی کہ ہم بھی پشاور میں ریلی نکال سکتے ہیں کیا پارٹیوں کے درمیان صوبے جائیداد کی طرح بانٹ دیئے گئے ہیں کہ اب ان میں کسی د وسری سیاسی جماعت کی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ بات اگر قومی مسائل کی ہو گی تو ان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلے گا۔ کیا پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت ہے یا کیا مسلم لیگ ن کو صرف پنجاب کی جماعت کہا جا سکتا ہے، اسی طرح اگر خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے تو کیا اسے وہیں تک محدود کر دیا جائے۔ کیا اس طرز فکر سے وفاق مضبوط ہو گا۔ پہلے ہی علاقائی مسائل اور علاقائی سیاسی و قومی تین جماعتوں نے ملک کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے، دو تین قومی سطح کی جماعتیں غنیمت ہیں کہ ان کی بدولت وفاق کا تاثر قائم ہے وگرنہ تو ہم اس معاملے میں بہت تہی دست نظر آتے ہیں جو میرے نزدیک ایک خطرناک بات ہے۔

پاکستان تحریک انصاف قومی سطح کی جماعت ہے اور مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان تحریک انصاف نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کے لئے لاہور کو منتخب کیا تو ایسی قابل اعتراض بات نہیں کہ جسے پکڑ کر یہ تاثر دیا جائے کہ لاہور پر خدانخواستہ بیرونی حملہ آوروں نے یلغار کر دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ہو یا جماعت اسلامی، شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ ہو یا کوئی دوسری سیاسی جماعت، اس کا مطمح نظر اگر سیاست ہے تو پھر وہ کہیں بھی کام کر سکتی ہے اور کسی بھی معاملے میں آواز اٹھا سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لئے صوبوں اور شہروں کو شجر ممنوعہ قرار دینا کسی بھی طرح قومی مفاد میں نہیں۔ خصوصاً قومی سطح کی بڑی سیاسی جماعتوں کو جن کے حامی چاروں صوبوں میں موجود ہیں، دائروں میں مقید نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم یہ غلطی 42سال پہلے 1971ءمیں کر چکے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو دو صوبوں تک محدود کر کے ہم نے آدھا ملک گنوا دیا۔ بدقسمتی سے اب یہ عمل کسی اور طرف سے نہیں بلکہ خود حکومتی شخصیات دہرا رہی ہیں۔ یہ عجیب منطق ہے کہ اگر مہنگائی کے خلاف احتجاج لاہور میں ہو تو وہ پشاور میں موجود مہنگائی کے خلاف نہیں سمجھا جائے گا۔ مہنگائی تو مہنگائی ہے، وہ جہاں بھی ہو جب کہیں بھی اس کے خلاف آواز اٹھے گی تو اس کا مطلب مہنگائی کے خلاف احتجاج ہی لیا جائے گا۔ حکومتوں کو بھی اس معاملے میں بہت زیادہ حساس ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس بات پر توجہ دینے کی زحمت کرنی چاہئے کہ اگر عوام مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں تو اسے کم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کیسے کی جائیں اور عوام کو معاشی ریلیف کیونکر دیا جائے۔صوبائیت کی سیاست نے ہمیں پہلے ہی بہت سے زخم دے رکھے ہیں۔ اب اسے دفن کرنے کی ضرورت ہے۔ جن مسائل کا تعلق کسی خاص صوبے سے ہے ان کا ذکر دوسرے صوبے میں ہو ہی نہیں سکتا۔ عوام خود اس امر کو مسترد کر دیں گے۔ مثلاً سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور لوکل باڈی آرڈیننس کے خلاف ایم کیو ایم جو احتجاج کر رہی ہے، اس کا تعلق خالصتاً سندھ سے ہے۔ اب ظاہر ہے وہ ملتان آ کر تو اس کے خلاف احتجاج نہیں کرے گی۔ لیکن جو قومی سطح کے عوامی مسائل ہیں، ان کے لئے پورا ملک کھلا رہنا چاہئے۔مثلاً دہشتگردی کے خلاف احتجاج ہو یا مہنگائی کے خلاف اسے سیاسی جماعتوں کی تقسیم کے تناظر میں صوبوں تک محدود کر دینا میرے نزدیک ایک منفی سیاست ہے۔ جس کی فی الوقت پاکستان میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ میں خوفزدہ ہوں اس نکتے پر کہ ہم رفتہ رفتہ یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان ایک وفاق ہے۔ اس میں چار صوبے ضرور ہیں مگر انہیں وفاق نے ایک دوسرے سے جوڑ اور باندھ کے رکھا ہوا ہے۔ جب تک ہمارے ہاں ایسی سیاسی جماعتیں نہیں ہوں گی جو چاروں صوبوں میں اپنا ووٹ بنک رکھتی ہیں، اس وقت تک ہم صرف قومی اسمبلی یا سینٹ یا پھر بیورو کریسی کے ذریعے وفاق کو مضبوط یا عوامی توقعات سے ہم آہنگ نہیں کر سکیں گے۔ یہ درست ہے مئی 2013ءکے انتخابات میں ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کو منقسم مینڈیٹ ملا۔ مسلم لیگ ن پنجاب اور وفاق میں حکومت بنا پائی۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنائی۔ مگر اس کے باوجود تینوں بڑی سیاسی جماعتیں وفاق کی علامت ہیں، کیونکہ ان تینوں کی جڑیں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔ اگر یہ سیاسی جماعتیں قومی سطح کی سیاست کرتی ہیں تو یہ غنیمت ہے۔ اگر یہ تینوں متعصب ہو کر اپنے اپنے صوبے تک محدود ہو جائیں تو وفاقی نظام کو چلانا مشکل ہو جائے۔ اس لئے کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ پیپلزپارٹی صرف سندھ، تحریک انصاف خیبرپختونوا اور مسلم لیگ پنجاب کی جماعت بن کر رہ جائے۔ یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ صرف ایک ریلی کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے وزراءنے اسے صوبائیت کا جھگڑا قرار دیدیا۔

پاکستان مسلم لیگ اس وقت اقتدار میں ہے۔ اقتدار بہت ظالم شے کا نام ہے۔ یہ بظاہر طاقت دیتا ہے مگر اندر خانے کمزور بھی کر دیتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ گزشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہبازشریف بطور صدر مسلم لیگ ن چاروں صوبوں میں جلسے کرتے رہے، جلوسوں کی قیادت بھی کی اور ریلیاں بھی نکالیں۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ مسلم لیگ ن دوسرے صوبوں میں مداخلت کر رہی ہے، کیونکہ سب یہ جانتے تھے کہ محمد نواز شریف قومی سطح کے رہنما ہیں اور ان کا یہ حق ہے کہ جہاں چا ہیں جلسہ کریں ،ریلی نکالیں۔ حالانکہ پنجاب کے بارے میں ہمیشہ ہی دوسرے صوبوں کے سیاسی رہنماﺅں کا رویہ منفی رہا ہے۔ کیونکہ وہ پنجاب کی خوشحالی اور وسائل کی فراوانی کو اپنی محرومیوں کے ساتھ جوڑ کر پنجاب پر تنقید کرتے ہیں۔ جس کی آئین اجازت دیتا ہے، اس عمل کو سیاسی مقاصد کے لئے ہدف تنقید بنانا میرے نزدیک ایک معاندانہ اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ اس فیصلے کا اختیار عوام کو ہونا چاہئے کہ اگر کوئی عوام کو ساتھ ملا کر کسی مسئلے پر احتجاج کرنا چاہتا ہے تو عوام اس کا کتنا ساتھ دیتے ہیں۔ کسی کو اس لئے تنقید کا نشانہ بنانا کہ وہ ہمارے صوبے میں احتجاج کیوں کر رہا ہے، وفاق کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کسی حکومت کی کارکردگی اچھی ہے تو اس صوبے کے عوام خود ہی احتجاج کی کال دینے والوں کو مسترد کر دیں گے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس حوالے سے بہت اچھی بات کی تھی کہ پنجاب میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم بڑی حد تک اس پر قابو پا چکے ہیں، البتہ ہم مخالفین کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ اگر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ میں سمجھتا ہوں شہباز شریف جیسی سوچ مسلم لیگ ن کے تمام وزراءکو بھی اپنانی چاہئے۔ جب آئین پاکستان ہر شخص کو آزادی اظہار اور احتجاج کا حق دیتا ہے تو ایسے بیانات جن سے صوبائیت کو ہوا ملتی ہو، سوائے نفرتیں پھیلانے اور انتشار پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں دے سکتے۔ جمہوریت میں جلسے جلوسوں سے حکومتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں تقویت ملتی ہے۔ یہ بات اگر ہمارے حکمرانوں کو سمجھ آ جائے تو وہ ایسے بیانات نہ دیں جن سے کمزوری اور عدم اعتماد کی بو آتی ہے۔   ٭

مزید : کالم