ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھارت سے بڑے پیمانے پرروئی کی درآمد شروع کردی

ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھارت سے بڑے پیمانے پرروئی کی درآمد شروع کردی

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر مسلسل کم ہونے کے بعد پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے بھارت سے بڑے پیمانے پرروئی کی درآمد شروع کردی ہے۔گزشتہ دس روز کے دوران بھارت سے 70ہزار سے زائد روئی کی بیلز کے درآمدی معاہدے مکمل جبکہ آئندہ چند روز کے دوران بھارت سے روئی کی درآمد کے مزید معاہدے ہونے کا امکان۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ بھارت سے درآمد ہونے والی روئی جنوری کے پہلے ہفتے سے واہگہ اور کراچی کے راستے پاکستان پہنچنا شروع ہو جائے گی انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے بھارت سے روئی کی درآمد شروع ہونے کے بعد بھارت میں روئی کی قیمتوں میں کافی تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کے بعد بھارت میں برآمد ہونے والی کی قیمتیں 80/81 سینٹ فی پاﺅنڈ سے بڑھ کر85/86سینٹ فی پاﺅنڈ تک پہنچ گئیں ہیں انہوں نے بتایا یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد پاکستان میں روئی کی کم از کم دس لاکھ بیلز کی اضافی کھپت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے بیرون ملک سے روئی کی درآمد کی جا رہی ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعد توقع ہے کہ 8سے 10 تک جرمنی میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ٹیکسٹائل فیئر میں پاکستان کو اس سال بڑے پیمانے پر کاٹن پروڈکٹس کے برآمدی آرڈرز ملنے کے بھی روشن امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

 جس کے باعث اس ٹیکسٹائل فیئر اس دفعہ پاکستان سے ریکارڈ 226 ٹیکسٹائل ملز شرکت کر رہی ہیں احسان الحق نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے روئی کی بھر پور خریداری کے باعث پاکستان میں بھی روئی کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث پچھلے چند روز کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 350روپے فی من اضافے کے بعد7ہزار سے 7ہزار50روپے فی من تک پہنچ گئی ہیں اور آئندہ چند روز کے دوران ان میں مزید تیزی کا رجحان متوقع ہے انہوں نے بتایا کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا مندی کے رجحان کا تعین کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کے بعد نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں ٹریڈنگ شروع ہونے کے بعد سامنے آئے گا

مزید : کامرس