لاہوریونیورسٹی آف میجمنٹ اینڈسائنسز کے زیراہتمام سیمینارکاانعقاد

لاہوریونیورسٹی آف میجمنٹ اینڈسائنسز کے زیراہتمام سیمینارکاانعقاد

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (LUMS) کے شعبہ معاشیات ، ڈویلپمنٹ پالیسی ریسرچ سینٹر کے ذریعے ڈاکٹر محسن خان کے اشتراک کے ساتھ پاکستان کی معیشت، خصوصاً ملک کے زرعی اور کاروباری شعبوں کے بارے میں بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارتی پالیسی کے اثرات پر تحقیق میں ملوث ہے۔اس سلسلے میں 21دسمبر 2013کو لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں ایک ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں اس تحقیق سے سامنے آنے والے اہم نتائج پر تبادلہ خیال اور روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے اہم مسائل پر شرکاءسے را ئے بھی حاصل کی گئی۔آئی ایم ایف انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹراور اٹلانٹک کونسل میں مشرق وسطیٰ کے لئے رفیق حریری مرکز کے ساتھ منسلک موجودہ سینئر فیلو ڈاکٹر محسن ایس خان،یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے ڈاکٹر تراب حسین اور عثمان خان، اور شعبہ قانون سے عابد حسین نے ورکشاپ کے شرکاءکو اس تحقیق کے اہم نتائج سے آگاہ کیا۔اب تک کی جانے والی تحقیق میں زرعی اور پیداواری (خصوصاً آٹو اور فارماسیوٹیکل) کے شعبوں میں تعاون پر توجہ دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے ان انوکھے فوائد اور چیلنجز کی سمجھ بوجھ پر زور دیا گیا ہے جو بھارت کے ساتھ اس آزادانہ تجارت اور پڑوسی ملک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات سے ہونے والے زیادہ سے زیادہ فوائد کے نتیجے میں سامنے آئے گی۔

ورکشاپ میں خاص طو ر پر چار اہم پالیسی معاملات زیر بحث آئے۔پہلی سطح پر، ان تبادلہ خیالات میں SAFTA معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستان کی بہبود پر اثرات کی سمجھ بوجھ اور بھارت کوMFNکا درجہ دینے، ملک کے جی ڈی پی، تجارتی توازن، پیداواری عناصر اور صارفین کے بارے میں کی گئی تحقیق پر توجہ دی گئی۔دوسری سطح پر، ان تنازعاتی طریقہ جات کی مختلف اقسام پر تحقیق کی گئی، اورا نہیں ورکشاپ میں پیش کرکے ان پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا جو تجارتی تنظیموں اور تجارتی ایسوسی ایشنز کی جانب سے استعمال کئے جا رہے ہیں۔اس تحقیق کا مقصد پاکستان کی کاروباری کمیونٹی کو بھارت پاکستان مشترکہ کاروباری فورم کے تنازعات اور قابل عمل متبادل حل تجویز کرنے کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں ان کی مدد کرنا تھا۔ورکشاپ میں تبادلہ خیال کا تیسرا عنوان پاکستان کے زرعی شعبے، خصوصاً فارمرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (FAP) کے تعاون پر مرکوز تھا، تاکہ وہ ان کے شعبے میں بھارت کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے نتائج کو سمجھ سکیں۔ورکشاپ میں کئے گئے چوتھے تبادلہ خیال میں بھارت کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات کے نتیجے میں تبدیل ہوتی ہوئی مارکیٹ کو اپنانے میں پاکستان کی آٹو اور فارماسیوٹیکل صنعتوں کے ساتھ تعاون پر توجہ دی گئی ۔ورکشاپ میں تعلیمی، کاروباری اور زرعی کمیونٹی کے ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا، ڈاکٹر انجم نسیم، اور ڈاکٹر اعجازنبی نے تعلیمی ماہرین کی نمائندگی کی جب کے معروف کاروباری اور عوام دوست شخصیت بابر علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔تحقیق کے نتائج پر تبادلہ خیال کے بعد ورکشاپ کے شرکاءنے اہم را ئے فراہم کی۔ اس را ئے کو لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کی ٹیم اپنی تحقیق کو مزید نکھارنے اور پاکستان کے اندر تجارتی پالیسی پر ڈائیلاگ میں سہولت دینے کے لئے مستقبل کے شعبوں کی نشان دہی کے لئے استعمال کرے گی۔

مزید : کامرس