حکیم محمدحسن قرشی نیک و پاکباز شخصیت

حکیم محمدحسن قرشی نیک و پاکباز شخصیت
حکیم محمدحسن قرشی نیک و پاکباز شخصیت

  

شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی انتہائی غریب پرور انسان تھے۔ حکیم آفتاب احمد قرشی فرماتے ہیں کہ والد گرامی مطب سے گھر آنے تک اپنی آدھی آمدنی غریبوں میں تقسیم کر آتے تھے۔ آپ کے ہاں جب بھی کبھی کوئی سائل آتا خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔ مطب میں آکر اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ میں انتہائی غریب ہوں میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں تو اسے نہ صرف دوائی مفت دیتے بلکہ دودھ کے لئے رقم بھی فراہم کرتے۔ اپنے بیگانوں سب کے شفیق و مہربان اور مونس و غم خوار تھے۔ اقبال احمد قرشی اپنے والد گرامی کے خلوت و جلوت سے خوب آشنا ہیں فرماتے ہیں کہ والد گرامی جلوت میں تو مخلوق خدا سے محبت فرماتے ان کے دکھ درد میں کام آتے، اپنے خلوص کا نذرانہ پیش کرتے اور خلوت میں نماز تہجد ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اور محبوب کبریاﷺ کی یاد میں محو ہو جاتے۔ ڈاکٹر سلطان سکندر فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی قرشی صاحب کو ناراضگی یا غصے کا اظہار الفاظ یا حرکات میں کرتے نہیں دیکھا۔ غیبت اور چغلی کو آپ سخت نا پسند فرماتے۔ کچھ احباب کی موجودگی میں طبی بورڈ کے مسائل پر گفتگو کے دوران آپ نے آفتاب قرشی سے استفسار کیا کہ فلاں شخص نے جو بات کہی تھی۔ آپ نے اس کے متعلق تحقیق کی ہے۔ آفتاب نے جواب دیا کہ وہ شخص جھوٹ بولتا ہے۔ قرشی صاحب کا چہرہ غیر متوقع طور پر سرخ ہو گیا اور فرمایا کہ آپ کو اس کی غیر موجودگی میں ایسا ہرگز نہیں کہنا چاہئے۔ کسی مسلمان پر اتنا بڑا الزام، سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تب ہی ہو سکتا ہے جب دونوں فریق موجود ہوں۔

دین کے اصولوں کی پابندی اور خوف خدا کو ہر موقع اور ہر معاملے میں پیش نظر رکھتے۔ رسالہ مشیر الاطباء کے کسی خاص نمبر کے پرچے پر دفتری نے اصل شرح سے کچھ کم قیمت کے ٹکٹ چسپاں کر کے ڈاک کے سپرد کر دیئے۔ پرچے منزل مقصود کو پہنچ گئے لیکن دوسرے ماہ دفتری کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے ایک کارگزاری کی شکل میں اس کا ذکر منیجرسے کیا۔ ایک روز اتفاقاً منیجر نے دفتری کے کارنامے کا ذکر قرشی صاحب سے کر دیا۔ آپ نے اسی وقت ڈاک رجسٹر منگوا کر حساب کر کے اتنی رقم کے ڈاک ٹکٹ منگوا کر اپنے سامنے تلف کر دیئے۔

اس طرح کا ایک اور واقعہ حکیم شرف الحق صاحب نے اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے فرماتے ہیں کہ شفاء الملک اور میں طبی بورڈ کے دفتر واقع سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں طبی امور پر کام کر رہے تھے۔ ایک دن شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی نے بورڈ کے چپڑاسی کو بلایا اور اسے دس پیسے دیتے ہوئے ہدایت کی کہ بازار سے دو سادے کاغذ خرید لاؤ۔ چپڑاسی نے حیرانی سے کاغذ منگوانے کی وجہ پوچھی تو بولے کہ میں نے طبی بورڈ کے دفتر سے اپنے ذاتی استعمال کے لئے دو سادے کاغذ لئے تھے اس لئے کہ سادہ کاغذ نزدیک سے دستیاب نہ تھے۔ چونکہ یہ دو کاغذ بورڈ کی بجائے میرے ذاتی کام کے لئے استعمال ہوئے ہیں لہٰذا بازار سے وہ کاغذ لا کر دفتر میں رکھ دو۔

حکیم محمد حسن قرشی ان کامیاب لوگوں میں سے ایک تھے جن کو خدا نے ظاہری حسن کی نعمت سے بھی نوازا تھا اور باطنی خوبیوں کا مرقع بھی بنایا تھا۔ خلاف شرح باتوں سے ہمیشہ احتراز کرتے۔ حکیم عبدالمالک مجاہد جو طبی بورڈ کے ممبر تھے اور آپ کی صدارت میں کام کرتے رہے، فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شفاء الملک نے محفل طریقت میں اظہار خیال کرتے ہوئے تصویر کو شرعاً ناجائز قرار دیا تاہم یہ بھی کہا کہ اگر کسی کی لا علمی میں تصویر لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ میں اس تاک میں تھا کہ تصویر کے موقعہ پر میں ان کے قول و فعل کا جائزہ لوں۔ کچھ ہی دنوں بعد بورڈ کی میٹنگ ہو رہی تھی، اتنے میں ایک اخباری فوٹو گرافر نے آکر فوٹو بنانے کے لئے اپنا کیمرہ سیٹ کیا میں نے با آواز بلند سب سے مخاطب ہو کر کہا کہ فوٹو گرافر فوٹو بنانے کے لئے تیار ہے جس کسی کو فوٹو پر اعتراض ہو تو وہ خوشی سے اُٹھ کر باہر تشریف لے جا سکتا ہے۔ میرا یہ کہنا تھا کہ شفاء الملک نے فوٹو گرافر کی طرف نہایت غضبناک انداز میں دیکھا لیکن حسب معمول اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے نہایت نرم لہجہ میں فوٹو بنانے سے منع کر دیا۔

1965ء میں شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ جب آپ حجاز مقدس پہنچے تو سعودی عرب کے فرمانروا سلطان عبدالعزیز السعود نے شاہی مہمان کی حیثیت سے اپنے ہاں قیام کی دعوت دی۔ یہ سفر سعادت شفاء الملک کی زندگی میں نہایت اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حج کرنے کے بعد آپ کی شخصیت میں زبردست روحانی انقلاب آیا۔ اہل تصوف نے ولی اللہ کی چار صفات بیان کی ہیں:۔

(1) عشق الٰہی میں مستغرق ہونا۔ (2) شریعت کا متبع ہونا۔ (3) کسی کے دل کو ایذا نہ پہنچانا۔ (4) دنیا سے نفرت کرنا۔

شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ولی اللہ ہو گئے تھے اور ان میں مندرجہ بالا ولایت کی چاروں صفات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہونے سے پہلے وہ باقاعدگی سے نماز پنج گانہ ادا کرتے تھے۔ اب تہجد بھی باقاعدگی سے شروع کر دی۔ اس لئے کہ قرب خداوندی کا ایک ذریعہ شب بیداری بھی ہے۔ اس قدر نیک ہونے کے باوجود خوف خدا کا عالم یہ تھا کہ ہر ملنے والے سے یہ فرمائش کرتے کہ میری اخروی زندگی کے لئے دعا کیجئے۔ قرآن پاک اور محبوب کبریا حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات بابرکات سے والہانہ لگاؤ اور عشق تھا۔ شفاء الملک کے ہاں حافظ ابراہیم روزانہ تشریف لاتے اور آپ ان سے تلاوت کلام پاک سنا کرتے۔ اس دوران اکثر آنسوؤں سے آپ کی ریش مبارک بھیگ جاتی۔ شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی نے ایک مجلس ذکر کا بھی باقاعدگی سے اہتمام کیا ہوا تھا۔ اس مجلس کے اراکین میں ڈاکٹر سعید اللہ ہیلتھ آفیسر لاہور، مفتی عبدالحمید ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹرلاہور، میر فائق علی واپڈا لاہور، شیخ امام علی اسلامیہ پارک لاہور، ملک محمد منیر پنشنر لاہور، حاجی عبدالواحد پنشنر لاہور، صوفی ظفر محکمہ ریلوے، چودھری انوار الحق ریلوے کے انجینئر منظور الحق عثمانی (شفاء الملک کے داماد) حافظ ابراہیم پنشنر، قاضی امیر الدین پنشنر اور حکیم مرزا محمد یحییٰ شامل تھے۔

یہ مجلس ہر جمعتہ المبارک ہر رکن کے گھر باری باری منعقد ہوا کرتی تھی۔ عصر کی نماز سے مغرب تک تلاوت کلام پاک اور ذکر باری تعالیٰ جاری رہتا۔ نماز مغرب ادا کرنے کے بعد بزرگوں میں سے کوئی ایک اس انداز میں دعا کرتا کہ اکثر حاضرین مجلس پر رقت طاری ہو جاتی۔ حکیم مرزا یحییٰ قرشی مرحوم کے جلوت و خلوت کے ساتھی تھے۔ شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی کو ان پر اتنا اعتماد تھا کہ جب بھی انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ ان سے مشورہ لیتے۔ اپنی علالت کے دوران وہ مرزا صاحب ہی کو یاد کرتے اور علاج معالجہ کے سلسلہ میں ان کی رائے پر عمل کرتے۔ حکیم مرزا محمد یحییٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے اور شفاء الملک کے لئے علیحدہ علیحدہ کمروں میں انتظام کیا مگر میں نے کہا کہ میں شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی کے کمرے میں ہی سو جاؤں گا۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ رات تین بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ شفاء الملک اپنے بستر سے اُٹھ رہے ہیں لیکن اٹھتے ہی آپ گر گئے۔ میں نے سنبھالا دیا اور عرض کیا کہ لیٹ جایئے۔ فرمانے لگے کہ میں ٹھیک ہوں اسی حالت میں وضو کیا اور نفل ادا کرنے شروع کر دیئے۔ حتیٰ کہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ذکر واذکار میں مصروف ہو گئے۔ یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔

مرزا صاحب اس طرح کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اطباء کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں ہم ساہیوال ریسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے۔ ہمارے کمرے الگ الگ تھے۔ رات کے پچھلے پہر میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور آہ بکا کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ صبح معلوم ہوا کہ حضرت شفاء الملک اور مولانا حکیم عبدالسلام ہزاروی بندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ گویا شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی آداب سحر گاہی سے بھی بخوبی آشنا تھے۔ حکیم مرزا محمد یحییٰ صاحب خود اپنے بار ے میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عدالت میں تھا اور ایک گواہ سے مصروف گفتگو اچانک اسے دل کا دورہ پڑا اور ساتھ ہی اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ میرے ذہن پر اس اندوہناک واقعہ کا بڑا اثر ہوا۔ شام کو جب میں شفاء الملک کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعہ اور اس کے اثر کا ذکر کیا۔ آپ نے میرے سینے پرہاتھ پھیرا اور پھر یقین جانیئے کہ وہ اثر زائل ہو گیا۔

آپ کی اہلیہ محترمہ بلقیس بیگم فرماتی ہیں کہ شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی نبی کریمﷺ کی ہر ہر سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ وہ اکثر مجھ سے پوچھا کرتے کہ حضورﷺ کے بیٹھنے کا کیا طریقہ تھا، بیویوں سے کیسا سلوک کرتے تھے۔ حج کرنے کے بعد تو ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ ہر وقت اور ہر لمحہ اس فکر میں رہتے کہ مجھ سے کوئی خلاف شرع بات سرزد نہ ہو جائے۔ قرشی صاحب کی عبادت و ریاضت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ سحر خیزی ان کا معمول تھا، وہ رات کے اڑھائی یا تین بجے اٹھتے، نماز تہجد ادا کرتے اور پھر ذکر و اذکار میں مصروف ہو جاتے۔ حتی کہ سپیدہ سحر نمودار ہو جاتا۔ آپ نے سترہ سال مسلسل نماز تہجد ادا کی اور یہ سلسلہ سخت بیماری کے عالم میں مجبوری کی حالت میں ٹوٹا۔ قرشی صاحب کی عبادت اور ان کے نالہ ہائے نیم شبی کا وہی شخص اندازہ کر سکتا ہے جسے ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہو۔

انہوں نے اپنی روحانیت کو ہمیشہ سر بستہ راز رکھا۔ روحانیت میں عجزو و انکسار ہی سے ترقی ہوتی ہے اور دشوار گزار منازل طے ہوتی ہیں۔ قرشی صاحب عجز و انکساری کی تصویر تھے۔ انہوں نے کئی روحانی مجاہدے کئے۔ ہر مجاہدہ کے بعد ان کا مرتبہ بلند تر ہوتا گیا۔ حضرت قرشی صاحب قرآن مجید سنتے تو ان پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی وہ شمع رسالت کے پروانے تھے۔ وہ سنت نبویﷺ پر پوری طرح عمل پیرا تھے۔ زندگی کے ہر قدم پر کاروان حیات کی ہر منزل میں سرور دو عالمﷺ سے راہنمائی حاصل کرتے۔ اسی وجہ سے شفاء الملک کو روحانیت میں بلند تر مقامات تک رسائی ہوئی۔

مزید :

کالم -