لہوپکا رے ہے

لہوپکا رے ہے
لہوپکا رے ہے

  



ہمارے معصوم بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں‘ ان کے اپنے ہی خون میں رنگ گئیں جبکہ ان کا کوئی قصور نہ تھا‘ وہ کتابیں مقدس ہیں، ان کی یادگار بناؤ کہ لہو پکار ے ہے۔ ان کی پکار سنو کہ یہ لہو رنگ کتابیں کیا کہتی ہیں۔ غم اور غصے کی کیفیت میں ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کرو جن سے نقصان کا اندیشہ ہو کہجس طرح امریکہ نے 9/11 کے بعد غم اور غصے کی حالت میں لشکر کشی کا فیصلہ کیا اور افغانستان اور عراق کو تباہ کر دیا اور خود بھی ذلت و رسوائی کی دلدل میں پھنس کر رہ گیاہے اورہمیں اور مسلم دنیا کو دہشت گردی اورداعش کا عذاب دیا ہے ۔اس لئے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچو کہ کہیں اس کا سبب ہماری اپنی کوتاہیاں ہی تو نہیں، جن کی وجہ سے یہ خون آشام سانحہ رونماہوا جس نے پوری قوم کو رُلا دیاہے۔

ہماری کوتاہیاں بڑی واضح ہیں۔سب سے بڑی کوتاہی سکول کاکمزور حفاظی نظام تھاکہ مین گیٹ کی سیکیورٹی اور دو منٹ کی دوری پر پولیس اورایف سی کے جوان موجود تھے، چھت پر ماہر نشانچی(Sharp shooters) موجود تھے ۔ ان سب نے سکول کی عمارت کا محاصرہ کر لیا، لیکن ان میں اتنی جرات نہ ہوئی کہ وہ سکول میں داخل ہوکر دہشت گردوں کو دبوچ لیتے اور کتنے ہی بچوں کی جان بچا لیتے، لیکن وہ اسی(80) کلو میٹر دور چراٹ سے ایس ایس جی کمانڈوز کی آمد کا انتظار کرتے رہے کہ وہ آئیں تو کارروائی شروع ہو‘ آرڈر کا انتظار تھا ۔کمانڈ وز ڈیڑھ گھنٹہ بعد پہنچے جب تک یزیدیت انتقام لے چکی تھی اور ہماری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر خندہ زن تھی کہ جسے تین ماہ قبل ایسے حملے کی خبر دی جا چکی تھی اور وہ پھر بھی غافل رہی۔

افغانستان اور پاکستان کے طالبان کے فرق کو سمجھو۔ افغانستان کے طالبان اپنے ملک کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارے طالبان غیر ملکیوں اور کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام اور ہماری سیکیورٹی فورسز پر 2005 ء سے اب تک حملہ آور ہیں۔ اب گزشتہ پانچ ماہ سے ہماری فوج ان کے خلاف بھرپور جنگ کر رہی ہے، ان کے ٹھکانے تباہ کئے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی ایک نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے، جس سے نمٹنے کے لئے دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ وہ قبائلی جو اس فوجی کارروائی کے سبب اپنے گھروں کو چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں جلاوطن ہو گئے ہیں،ان کی تعداد تقریباً 15لاکھ ہے، جن میں چنددہشت گرد بھی شامل ہیں۔ ان تخریب کاروں کی کسے خبر ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے ذمہ دار اداروں نے ان پر نظر رکھی ہوئی ہے یا ا ن کی نشاندہی ہوئی ہے جوپورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔وہ دہشت گرد جنہوں نے ہمارے بچوں کا خون کیا ہے، وہ کون تھے، کہاں سے آئے تھے‘ کسی نے ان کو روکاکیوں نہیں ۔ ہم بے خبر کیوں رہے۔

ہماری حکومتوں نے گذشتہ دہائیوں میں تقریبأ ساٹھ ملکی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیاہے، لیکن یہ بات بھول گئے کہ کسی کو دہشت گرد قرار دے دینا بہت آسان ہوتا ہے، جبکہ اس کے معنی یہ نہیں کہ پوری تنظیم دہشت گرد ہے، لیکن جب پوری تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے تو اکثردہشت گرد بن جاتے ہیں۔ ان دہشت گرد تنظیموں پر کون نگاہ رکھے ہوئے ہے اور کون نشاندہی کررہا ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری ایک اور خطرناک کمزوری ہے۔

افغانستان میں امریکی جارحیت تمام برائیوں کی جڑ ہے،کیونکہ بھارت نے امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی سرپرستی میں افغانستان کے اندر جاسوسی کا وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کا بڑا ہدف پاکستان ہے۔ جس غیر اخلاقی طریقے سے بھارت اس جاسوسی نیٹ ورک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے وہ مہذب دنیا کے چہرے پربدنما داغ ہے۔بھارت نے ہماری کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر بڑے بڑے دہشت گردی کے حادثات سے پاکستان کو دوچار کررکھا ہے۔بھارت اور افغانستان کی حکومتیں ان پاکستانیوں کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کر رہی ہیں جو افغانستان کی سرزمین پر پناہ لئے ہوئے ہیں ۔مثلاً مولوی فضل اللہ، خالد خراسانی اور ان کے ساتھی اور ہمارے وہ ڈیڑھ لاکھ جلاوطن قبائلی جو فوجی آپریشن کے بعد افغانستان چلے گئے تھے ‘ان میں بھی کچھ دہشت گرد موجود ہیں۔ان سب نے مل کر پاکستان کی سلامتی کو تار تار کر دیا ہے۔یہ وہ حقیقت ہے، جس سے ہمارے معصوم بچوں کے خون ناحق نے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا خون پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ جوش نہیں ہوش سے کام لو اور تدبیر کرو کہ اس خوفناک عفریت کا مقابلہ کیسے کیاجا سکتا ہے۔

صرف فوج کو تمام ذمہ داریاں سونپ دینے سے حکومت عہدہ برآ نہیں ہوتی، بلکہ جمہوریت شرمندہ ہوئی ہے۔ سول اور ملٹری انٹیلی جنس اداروں کے مابین ہم آہنگی لازم ہے اورایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔پورے ملک میں ہر محلے اورگاؤں کی سطح پر ایک ہمہ گیر انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔اس نیٹ ورک کے قیام اور اسے منظم کرنے کی ذمہ داری فوج اور سول اداروں کو سونپی جائے اور تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائیں۔ اسے قابل عمل بنانے کے لئے مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اورآن لائن انٹیلی جنس نیٹ ورک سسٹم قائم کیا جائے اور جب یہ نظام پوری طرح فعال ہو جائے تو حکومتی ہدایات کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے۔برطانیہ اور سری لنکا نے آئر لینڈ اور تامل ناڈو شورش کے خلاف جو حکمت عملی بنائی، اس پر عمل کیا اور کامیاب ہوئے‘ ہمیں ان سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔

شورش زدہ علاقوں میں حکومت انتظامی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔گز شتہ کئی دہائیوں سے یہ ریت چلی آرہی ہے کہ ملک کے جس گوشے میں بھی شورش نے سر اٹھایا تو اس سے نمٹنے کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی گئی اور جب فوج نے متاثرہ علاقوں میں کنٹرول قائم کر لیا تو سول انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے آگے نہیں آئی۔ یہ سلسلہ 1958ء سے اب تک جاری ہے ۔اس کے سبب ان علاقوں میں خلا ء پیدا ہوا ہے ،جہاں ملک دشمن عناصر اور دہشت گرد اپنامسکن بنا چکے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ سوات، دیر، باجوڑ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے اسی لعنت کا شکار ہیں۔ جب تک سول انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالے گی اس عفریت پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔

ملک میں نیشنل سکیورٹی (National Security Council - NSC)کا ادارہ قائم کرنا اب ناگزیر ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ حکومت اس ادارے کے نام سے ہی خوفزدہ ہے اور Defence Committee of Cabinet (DCC) کو Pakistan National Security Council (PNSC) کا نام دے کر اپنے آپ کو اورپوری قوم کو بے وقوف بنا رہی ہے، جبکہ DCC تو محض ایک Crisis Management Team ہے کہ جب کوئی حادثہ پیش آیا تو مل بیٹھتی ہے اور اس کا حل تلاش کرتی ہے۔اس کے برعکس نیشنل سیکیورٹی کونسل وہ ادارہ ہے، جو ہر مہذب جمہوری نظام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔مثلاً، آج سے چند سال قبل بھارت نے نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا نظام قائم کیا۔ اسی طرح کا نظام پاکستان میں بھی قائم کرنا ضروری ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل وزیراعظم کے ماتحت کام کرتی ہے اور اس کا ایک کنونیئر (Convener)ہوتا ہے، جو سال کے 365 دن ملکی سلامتی سے متعلق امور پر غور و فکر کر کے سفارشات مرتب کرتا ہے اور اس کی سہولت کے لئے حکومت کے تمام تحقیقی اداروں اورResource Persons تک رسائی کی اجازت ہوتی ہے۔ جب یہ ادارہ تحقیق اور سفارشات مکمل کرلیتاہے تو وزارت اور مقتدر اداروں کی سطح پر ان تجاویز کا مفصل جائزہ لیا جاتا ہے اور قومی وسائل اور ضروریات کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرکے وزیراعظم کو پیش کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم ان تجاویز پر اپنی کابینہ کی میٹنگ میں غور کرتا ہے اور جنہیں قابل عمل سمجھتا ہے ان کی منظوری دیتے ہوئے عمل درآمد کا حکم دیتا ہے۔ ایسے ادارے کے قیام کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہماری حکومتیں مشکل اوقات میں دباؤ کے تحت کمزورفیصلے کر کے مشکلات میں اضافہ کرتی رہیں گی۔ماضی میں حکومتوں کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کو بڑا نقصان ہوا ہے۔آج کی دہشت گردی کا عذاب انہی غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

ہماری فوج اور حکومت نے جس ہمت، حوصلے اور جذبے کے تحت دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے، لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے اور جب تک تصویر کا دوسرا رخ نمایاں نہ ہو‘ا س وقت تک ہم دہشت گردی کی اس لعنت سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔

مزید : کالم