فوجی عدالتوں کے قیام پر سیاستدانوں کاموقف، وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالی اے پی سی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

فوجی عدالتوں کے قیام پر سیاستدانوں کاموقف، وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالی اے ...
فوجی عدالتوں کے قیام پر سیاستدانوں کاموقف، وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالی اے پی سی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت دہشتگردی کی روک تھام سے متعلق اقدامات کے لیے ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے اور فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق کچھ جماعتوں پس و پیش کا شکار رہیں ۔ کانفرنس کے شرکاءکی پرتکلف کھانوں سے تواضع کی گئی ۔

سیاسی ذرائع نے بتایاکہ متحدہ قومی موومنٹ نے فوجی عدالتوں کے طریقہ کار پر اعتراض کیا اور موقف اپنایاکہ یہی عدالتیں بعد میں مختلف لوگوں کے خلاف استعمال ہوں گی جس پر حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ عدالتیں صرف خطرناک دہشتگردوں کےخلاف کام کریں گی اور اس معاملے پر اعلیٰ عدلیہ سے بھی مشاورت کی جائے گی ۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق موقف دینے سے قبل مشاورت کے لیے آدھا گھنٹہ وقت مانگا اور مشاورت کے بعد فوجی عدالتوں کی مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ عمران خان کاکہناتھاکہ ایک خاص وقت کے لیے فوجی عدالتیں بنائی جائیں ۔

پیپلزپارٹی کے اعتزازاحسن نے کہاکہ فوجی عدالتوں کا مسودہ پیش کیاجائے اور قانونی مسودے کے مطالعے کے بعد ہی باضابطہ موقف دیاجائے گا ۔

اے این پی کے غلام احمد بلور نے اپنی جماعت کا موقف دینے کے لیے چند دن کی مہلت مانگ لی ۔

اعجاز الحق کاکہناتھاکہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں ، ضروری نہیں کہ 100فیصد اتفاق ہو، موجودہ حکمران ناکام ہوئے تو اگلے حکمران طالبان ہوں گے ۔

آرمی چیف کاکہناتھاکہ مشکل حالات میں بڑے اور مشکل فیصلے کرنے ہوں گے ، قوم اب ساتھ کھڑی ہے اور دہشتگردی ختم کرنے کا وقت آگیاہے ۔

کانفرنس میں شریک سیاسی قیادت کی وزیراعظم ہاﺅس میں چاول، مچھلی ،گاجرکا حلوہ ،کباب اور پالک سے تواضع کی گئی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -