عید میلاد النبی ؐ کے تقاضے

عید میلاد النبی ؐ کے تقاضے
عید میلاد النبی ؐ کے تقاضے

  

حضورؐ اکرم کا وجود نور ہدایت اور آپؐ پر نازل ہونے والی کتاب ’’قرآن مجید‘‘ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جسے اپنا کرامت مسلمہ آج بھی اپنی عظمت رفتہ کی بحالی میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ جس ہستی پاک کی بدولت ہمیں اس قدر انعامات خداوندی میسر ہوئے، ان کا جشن ولادت منانا ہر مسلمان کا اخلاقی و ملی فریضہ اور باعث سعادت ہے۔ ہمارے آقا نبی محتشم جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن ابولہب کو جب اس کی لونڈی نے یہ خبر سنائی کہ تجھے اللہ نے بھتیجا (محمدؐ) عطا کیا ہے تو خوشی سے اس نے اپنی انگلی کے اشارے سے اس لونڈی کو کہا کہ تو آج سے آزاد ہے۔ مختلف کتب میں مروی ہے کہ مرنے کے بعد ابولہب نے خواب میں اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ’’ہر روز پیر کوقبر میں میری اس انگلی سے شہد نکلتا ہے جس سے میں نے اپنے بھتیجے حضرت محمد ؐ کی ولادت کی خبر دینے والی اپنی لونڈی کو اشارہ کر کے آزاد کیا تھا اور اس انگلی سے نکلنے والا شہد چوسنے سے میرے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔‘‘

اگر ابولہب جیسے بدبخت کو حضورؐ کی ولادت کی خوشی منانے سے عذاب قبر میں کمی ہو سکتی ہے تو ایک کلمہ گو مسلمان جشن آمد رسول ؐ منانے سے انعامات خداوندی سے کیونکر محروم رہ سکتا ہے۔ حضور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانا امت مسلمہ کے ہر فرد کے لئے باعث صد فخر ہے۔ آپ ؐ کی ولادت سے ظلمت کدہ جہاں توحید سے منور ہو گیا اور اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے گئے بتوں کو سجدہ کرنے والے ایک خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے۔ ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حقیقی عقیدت و محبت کا راز محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں مضمر ہے۔ نعمت خداوندی میسر ہونے پر مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا ازروئے قرآن بھی ثابت ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور اس نعمت پر اظہار مسرت کیونکر بدعت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ربیع الاول شریف وہ مبارک مہینہ ہے جس میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کائنات آب و گل میں ظہور فرمایاحضور اکرمؐ کی تشریف آوری سے ہی ہمیں ایمان کی دولت نصیب ہو ئی۔ رمضان المبارک کی طرح ربیع الاول بھی بڑی عظمت و شان والا مہینہ ہے۔ رمضان میں قرآن نازل ہوا، جبکہ ربیع الاول شریف میں صاحب قرآن کی تشریف آوری ہوئی۔ مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت، درودپاک کی کثرت اور محافل کا انعقاد کرنا چاہئے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے نبی کریم ﷺ کے فرمودات پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔ محافل میلاد کا قبلہ درست کرنا ہو گا۔ جشن عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر ہمیں اسوۂ رسولؐ کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ 12ربیع الاول کے جلسے جلوس میں ہمیں اتحاد، اتفاق، پیار، محبت اور یکجہتی کو اجاگر کرنا چاہئے۔ عید میلاد النبیؐ کے موقع پر مخلوط محافل سے گریز کرنا چاہئے۔ لوگوں کے دلوں میں اس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے پیغام مصطفی ؐ کو عام کرنا چاہئے۔ معاشرے میں حضور اکرمؐ کی تعلیمات کو عام کر کے لوگوں کی کردار سازی کی جا سکتی ہے۔ اسلام کے تصور امن و آشتی کو واضح کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ نسل نو کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تاکہ ہماری نئی نسل کی اپنے نبی ؐ اور رسول ؐ کے ساتھ وابستگی کو پختہ کیا جا سکے۔

مزید :

کالم -