ادب گاہ مدینہ منورہ میں آواز بلند نہ کرنے کا حکمِ قرآنی

ادب گاہ مدینہ منورہ میں آواز بلند نہ کرنے کا حکمِ قرآنی
ادب گاہ مدینہ منورہ میں آواز بلند نہ کرنے کا حکمِ قرآنی

  

اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی ورسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ ادب واحترام اور عقیدت ومحبت کے جذبات کا مظاہرہ کرنے کے سلسلے میں ارشاد فرمایا ۔۔۔آیتِ قرآنی کا ترجمہ یہ ہے:’’ اے لوگو! تم اپنی آوازیں نبی کریم ﷺ کے حضور ان کی آواز سے بلند نہ کیا کرو! اور جس طرح تم اپنے میں سے کسی کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح تم نبی کریم ﷺ کو نہ پکارا کرو! ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔۔۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس وقت نازل ہوا جب لوگ رسول اللہﷺ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوتے وقت آپ کے درِ اقدس کا دروازہ کھٹکھٹاتے وقت بلند آواز سے پکارتے تھے یا محمدؐ! اخرج الینا ( اے محمد، باہر تشریف لائیے! ) اس پر قرآنی حکم نازل ہوا کہ نہ تو جس طرح تم ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح آواز دو ! اور نہ ہی آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند کیا کرو۔۔۔ چنانچہ اس حکم کے بعد کبھی کسی نے آپ کو نام لے کر نہیں پکارا ،بلکہ ہمیشہ یا رسول اللّٰہؐ یا نبی اللّٰہؐ کہتے ہوئے نہایت ادب واحترام کے ساتھ آہستہ آواز دی، اور حضوراکرمﷺ کی مجلسِ اقدس میں بھی کبھی کسی نے بلند آواز سے گفتگو نہیں کی تھی، جناب حافظ لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے :

اے زائر درِگاہ نبی ؐ جائے ادب ہے

آئے نہ ترے دِل کے دھڑکنے کی صدا بھی

اللہ تعالیٰ کے احکام پر ادب واحترام کا مظاہرہ 1972ء کو مدینہ منورہ کی مسجد نبویؐ کے خطیب وامام الشیخ عبدالعزیز بن صالح ؒ سے شرف ملاقات کے وقت دیکھنا نصیب ہوا، جب پاکستانی صحافتی وفد کے معزز اراکین نے مسجدِ نبویؐ شریف کے خطیب امام الشیخ عبدالعزیز بن صالح سے شرفِ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ میں نے امام صاحب سے نماز کے بعد شرفِ ملاقات کے لئے لمحہ فراغت کی درخواست کی، جس پر امام صاحب نے نماز مغرب کے بعد اپنی رہائش گاہ ملحقہ مسجدِ نبویؐ میں حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا۔ ملاقات کا پروگرام طے ہو جانے کی اطلاع جب مولانا عبیداللہ انورؒ امیر انجمن خدام الدین لاہور اور نامور صحافی میاں محمدشفیع (م ش)کو ملی تو انہوں نے بھی اس ملاقاتی وفد میں شمولیت کے لئے خواہش ظاہر کی، جنہیں مسجدِ نبویؐ میں بروقت حاضر ہو جانے کی تاکید کی گئی تھی۔ میاں محمد شفیع نے ایک چٹ پر وفد میں شمولیت کی خصوصی تاکید بھی کی تھی۔ یہ دونوں شخصیات ہماری قیام گاہ فند.ُ.ق الزھراکے قریب ہی پوسٹ آفس کی گلی میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ نامعلوم وہ موقع پر کیوں نہ پہنچ سکے، ہمارے اراکین وفد میں سے مولوی محمد سعید پاکستان ٹائمز، شورش ملک جنگ اور ضیاء الاسلام انصاری مشرق بروقت پہنچ گئے تھے۔ ضیاء الاسلام انصاری نے امام صاحب کی گفتگو ریکارڈ کرنے کی خاطر نیا ٹیپ ریکارڈر بھی خریدا تھا۔ حسبِ پروگرام ہم امام صاحب کے درفیض رساں پر حاضر ہو گئے تھے۔ امام صاحب سے گفتگو کے لئے راقم الحروف (مجاہد الحسینی) کو منتخب کیا گیاتھا۔

امام صاحب کی اجازت سے جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو امام صاحب نے آہستہ اھلاً و سھلاً صحف الباکستان اخوانی، تفضل۔ (پاکستانی صحافی بھائیوں کو خوش آمدید۔ تشریف رکھئے!) کہہ کر امام صاحب اپنے خادم کے ساتھ سرگوشی کے انداز میں پست آواز کے ساتھ محو گفتگو ہو گئے۔ ضیاء الاسلام نے اپنے ٹیپ ریکارڈ کی جانب اشارہ کرتے کہا کہ اس کا کیا بنے گا؟ اتنے میں امام صاحب کے ارشاد سے قہوے کے چھوٹے فنجان آگئے۔ قہوہ نوشی کے بعد میں نے بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد اتحاد کی صورت اور نوّے ہزار مسلمان فوجیوں کے لئے قید خانوں سے رہائی کے لئے دُعا کی درخواست کی۔آپ نے خاموشی کے عالم میں دُعا کی۔ امام صاحب کی جانب سے سرگوشی کی صورت آہستہ گفتگو سے ہم نے اندازہ لگایا شاید امام صاحب کے گلے میں کوئی خرابی ہو گئی ہے، اسی لئے آپ بلند آواز کے ساتھ گفتگو پر قادر نہیں ہوئے، پھر میں نے سوچا کہ نمازِ مغرب کی امامت کے وقت امام صاحب کی تلاوتِ قرآن کریم تو بلنداور صاف آواز میں تھی۔ بعد میں یکایک یہ کیا ہو گیا؟ چنانچہ ہم بھی خاموشی کے ساتھ چند لمحے آپ کی خدمت میں بیٹھ کر سلام عرض کر کے امام صاحب کے کمرے سے باہر آنے لگے تو میں نے واپس ہوکر امام صاحب کی خدمت میں اپنی ڈائری پیش کرتے ہوئے درخواست کی۔

’’ تفضل یا شیخ! اکتب کلمۃ لباکستان والنجاح الاساریٰ‘‘

’’اے شیخ! براہِ کرم پاکستان اور اس کے قیدیوں کی رہائی کے لئے چند جملے تحریر فرما دیجیے!‘‘ چنانچہ امام صاحب نے میری درخواست کو شرفِ قبولیت عطا کرتے ہوئے میری ڈائری میں جو اپنے دُعائیہ کلمات تحریر کئے ۔۔۔خطیب و امام مسجدِ نبویؐ سے شرفِ ملاقات کے بعد جب باہر آئے تو الوداع کہنے کے لئے امام صاحب کے خادم دروازے تک آگئے، میں نے ان سے امام صاحب کی سرگوشی کی صورت اور آہستہ گفتگو کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ امام صاحب کی آواز صرف تلاوتِ قرآن اور امامت کے وقت بلند سنائی دیتی ہے۔ علاوہ ازیں پورے مدینہ منورہ میں رسولِ کریمﷺکے ادب و احترام اور حکم قرآنی کہ’’ نبی.کریمﷺکے سامنے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو۔۔۔ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے، کی تعمیل میں اونچی آواز سے گفتگو نہیں کرتے اور ثانیاً یہ کہ مسجدِ نبویؐ میں نمازیں ادا کرنے کی سعادت میں وہ مدینہ منورہ سے باہر صرف خاص ضرورت اور مجبوری کے تحت جاتے ہیں۔

حکومتِ سعودیہ کی جانب سے انہیں وزارت شؤن اسلامیہ یعنی مذہبی اُمور کی وزارت کی پیشکش ہوئی تھی جسے انہوں نے اس شرط کے ساتھ قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ وزارت کے دفاتر ریاض کے بجائے اگر مدینہ منورہ میں لے آئیں تو میری خدمات حاضر ہیں۔ مذہبی اُمور کی وزارت پر مسجدِ نبویؐ کی خطابت و امامت ہرگز قربان نہیں کی جاسکتی، نیز معلوم ہوا کہ امام و خطیب مسجدِ نبویؐ شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز ہیں اور زہد و تقویٰ کے اعتبار سے بھی آپ ممتاز اور بلند درجے کے مالک ہیں۔۔۔ چنانچہ الشیخ عبدالعزیز بن صالح سے ملاقات و زیارت سے فیض یاب ہو کر اپنی قیام گاہ فند.ُ.ق الزہراؓ میں آئے تو مدینہ یونیورسٹی کے اُستاد مولانا عبدالغفار حسن ہمارے انتظار میں تشریف فرما تھے، انہوں نے امام صاحب سے ملاقات کی تفصیل معلوم کی تو میں نے انہیں اِس حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مدینہ منورہ میں بلند آواز میں گفتگو نہ کرنے کا واقعہ سنایا اور پاکستان کے جنگی قیدیوں کی رہائی اور اُمت کی سر بلندی کے لئے دُعا کی درخواست پر چند کلمات تحریر کر دینے کا ذکر کیا اور اپنی کاپی کے مندرجات دکھائے تو مولانا عبدالغفار حسن نے اسے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا۔ اس پر میں نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ مدینہ منورہ کی مسجدِ نبویؐ کے خطیب امام کی تحریر کا اُردو ترجمہ بھی مدینہ منورہ ہی کی یونیورسٹی کے استاد الشیخ عبدالغفار حسن کے دستِ مبارک سے تحریر ہو جائے تو سونے پر سہاگہ۔

الشیخ عبدالغفار حسن چونکہ فیصل آباد کے مشہور دینی تعلیم کے ادارے جامعہ تعلیمات اسلامیہ میں استاد رہ چکے تھے اور اُن کی ذاتِ گرامی کے ساتھ راقم الحروف کی نیاز مندی تھی؛ نیز ان کے دینی، علمی اور تحقیقی کارناموں کا معترف تھا اس لئے اُنہوں نے اسی وقت امام صاحب کی تحریر کا اُردو ترجمہ لکھ دیا تھا جو درج ذیل ہے:’’پاکستانی صحافتی وفد کی تشریف آوری پر میں انتہائی ممنون ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں اورانہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں، نیز ان کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھر اور وطن میں خیریت سے رہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم اور اس کی بے پایاں رحمت سے توقع رکھتا ہوں کہ اس مقدس مقام پر آئندہ سال ہم اور پاکستانی مسلمانوں کے یہ نمائندے پھر جمع ہوں اس حالت میں کہ وہ عزت و احترام کے مقام پر فائز ہوں، اسلام دشمنوں کے مقابلے میں وہ کامیاب اور غالب ہوں، ان کے چہرے خوشی سے دمکتے ہوں، یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے شامل حال ہو ، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فرمائے اور کلمہ طیبہ کو بلند فرمائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر پوری طرح قادر ہے، ساتھ ہی یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خادم الحرمین الشریفین فیصل بن عبدالعزیز کی حفاظت فرمائے اور عمر میں برکت دے ،تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت خادم الحرمین الشریفین اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور تضامن اسلامی کے قائد اور رہنما ہیں اللہ تعالیٰ ہماری دعا قبول فرمائے، آمین والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘‘۔

پاکستانی صحافیوں کا وفد جب ’’ارض الاسلام‘‘ کے ایمان افروز مشاہدے کے بعد واپس آیا تو مولوی محمد سعید ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، اور شورش ملک مدیر اخبار جنگ راولپنڈی نے پاکستانی وزیر اطلاعات و نشریات مولانا کوثرنیازی کو اپنے دورے کے تاثرات بیان کرتے ہوئے خطیب امام مسجدِ نبویؐ سے شرفِ ملاقات اور میرے ان سے دُعائیہ کلمات لکھوانے کا تذکرہ کیا تو مولانا کوثر نیازی نے مجھے ٹیلیفون پر مبارک باد دیتے ہوئے امام صاحب کی تحریر لے کر راولپنڈی آنے کی دعوت دی۔ نیازی صاحب نے جب وہ مکتوب دیکھا تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کر کے انہیں وہ مکتوبِ مبارک دکھلانے کو کہا۔ چنانچہ کوثر نیازی نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کا وقت طے کیا اورحسب پروگرام ہم حاضر ہو گئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امام مسجدِ نبویؐ کا مکتوبِ گرامی دیکھتے ہی اسے بوسہ دیتے ہوئے کوثر نیازی کی جانب متوجہ ہو کر کہا کہ امام صاحب کو میری طرف سے پاکستان آنے کی دعوت دی جائے،چنانچہ الشیخ عبدالعزیز بن صالح خطیب امام مسجدِ نبویؐ شریف وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر پاکستان تشریف لے آئے تو روزنامہ ’’امروز‘‘ لاہور اور روزنامہ’’مشرق‘‘کراچی نے امام وخطیب مسجد نبویؐ کے عظیم الشان استقبال پر میری معلومات افزا تحریر کے ساتھ امام صاحب کے مکتوبِ گرامی کا عکس بھی شائع کیا تھا۔

امام صاحب نے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں بے مثال اجتماعات میں خطاب بھی کیا ،ان کا اسلام آباد کی لال جامع مسجد میں خطاب تاریخی نوعیت کا تھا۔ آپ کی زیارت کے لئے لوگوں کا مجمع کنٹرول سے باہر تھا، امام صاحب سے مختلف مذہبی سکالروں نے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا اور تحائف پیش کئے تھے۔ نیز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے امام صاحب کی خدمت میں دیگر تحائف کے ساتھ نہایت خوشنما طباعت سے مزیّن قرآن مجید بھی پیش کیاتھا، اسی طرح امام صاحب نے بھی ذولفقار علی بھٹو کو حکومتِ سعودیہ کا شائع کردہ قرآن کریم اور جائے نماز اور دیگرقیمتی تحائف پیش کئے تھے۔ امام صاحب کے دورہ پاکستان کے وقت روزنامہ ’’مشرق‘‘ اور روزنامہ’’ امروز ‘‘نے صفحۂ اوّل پر امام صاحب کے حالاتِ زندگی پر مشتمل مع ان کے مکتوبِ گرامی نمایاں طور سے شائع کیا تھا، امام صاحب نے میرے مضمون کے ساتھ اپنا مکتوبِ گرامی دیکھ کر دریافت کیا کہ مجاہد الحسینی کہاں ہے۔

امام صاحب کی خدمت میں پاکستانی مترجم مولانا محمد میاں صدیقی نے لاہور کا حوالہ دیا، چنانچہ امام صاحب کراچی اور اسلام آباد سے واپسی پر جب لاہور میں رونق افروز ہوئے تو انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل، مال روڈ پر مجھے اپنے بیٹے محمد ابوبکر صدر کی رفاقت میں ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ امام صاحب نے کلماتِ تحسین کے ساتھ ہمارے لئے دعا کی،چنانچہ الشیخ امام و خطیب مسجد نبوی الشریف کی خدمت اقدس میں مؤدبانہ حاضر ی اور ان کی زیارت و ملاقات کی سعادت کے نقوش دل و دماغ پر آج بھی جگمگا رہے ہیں۔جناب خطیب امام مسجد نبوی الشریف پاکستان کے جن شہروں میں بھی رونق افروز ہوئے، فرزندانِ اسلام کی بہت بڑی تعداد میں آپ کا شایانِ شان استقبال کیا گیا اور ہر شخص کی زبان پر یہی کلمات عقیدت و احترام تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بار بار زیارت و ملاقات کا شرف عطا فرمائے۔ آمین

بہرحال پاکستان میں مکہ معظمہ کی مسجد الحرام کے خطیب امام توکئی مرتبہ تشریف لائے ،مگر مدینہ منورہ کی مسجدِ نبویؐ کے خطیب امام الشیخ عبدالعزیز بن صالح نے پہلی اور آخری مرتبہ پاکستان کو رونق بخشی اور چند برس بعد وہ داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔۔۔رحمہ اللّٰہ تعالیٰ و ادخلہ فی جنت النعیم۔۔۔مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت ادب واحترام اور عقیدت ومحبت کے بہت سے واقعات میں سے یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند اور دیگر کئی شخصیات حدود مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں چلتے پھرتے اور وہ بھی بلند آوازمیں گفتگو نہیں کیا کرتے تھے ، نیز شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اپنے حالات میں لکھا ہے کہ مسجد نبوی کے اسطوانہ وفود کے روبرو خاموشی کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے اور یہ تصور کرتے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح مختلف وفود سے ملاقات کے لئے باہر تشریف لاکر زیارت کی سعادت عطا فرماتے تھے، اسی طرح میں بھی بہت دور سے آیا ہوں،مجھے بھی زیارت سے مشرف فرمائیے۔۔۔ والصلٰوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین خاتم النبیین ۔

مزید :

کالم -