دھرنے اور سماجی و نفسیاتی مسائل

دھرنے اور سماجی و نفسیاتی مسائل
 دھرنے اور سماجی و نفسیاتی مسائل

  



پاکستان کو بنے ہوئے70سال گزر گئے اور حالیہ پاکستان کو بنے ہوئے بھی46 سال ہو چکے، مگر ہم یقینِ کامل کے فارمولا پر قوم کو نہ لا سکے۔ سیاسی و معاشی عدم استحکام ہم پر مسلط کر دیئے گئے اور ہم اس کی مختلف تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔

آج کے حالات میں بھی ہم نے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔اِن خیالات کا اظہار پہلی نفسیات کانفرنس کے موقع پر کیا گیا، جو گزشتہ دِنوں لاہور گریژن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے منعقد کی۔

بطور چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی مَیں نے یہ محسوس کیا کہ300 سے زائد ماہرین نفسیات اِس بات پر متفق نظر آئے کہ لوگوں کے اندر مختلف دھرنوں کے نتیجے میں مایوسی اور پریشانی میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کی اکثریت عدم استحکام کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ کہنے لگی ہے۔

راولپنڈی سے آئی ہوئی ماہر نفسیات نے کہا کہ دھرنا کلچر متعارف کروا کر لوگوں کی ذہنی صحت سے کھیلا جا رہا ہے اور مُلک میں انتشار کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔اِس صورتِ حال کے مضمرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیونکہ گھنٹوں دھرنوں میں پھنسے رہنے کے بعد نہ تو انسان ذہنی طور پر کام کرنے کے قابل رہتا ہے اور نہ جسمانی طور پر، کیونکہ انتظار کی کیفیت ذہنی سکون برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔

اگر دھرنوں کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں تو اُس کی وجہ بے یقینی کی صورتِ حال ہے، جس سے خوف جنم لیتا ہے۔کانفرنس کے شرکاء نے یہ بھی کہا کہ چند ہزار لوگ اکٹھے ہو کر اپنے مطالبات کو ڈھال بنا کر حکومت ہی نہیں معاشرے کے ہر فرد کو بلیک میل کر رہے ہوتے ہیں۔

شرکاء اس بات پر متفق نظر آئے کہ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ غصہ، پریشانی اور خود کشیوں کا باعث بن رہا ہے اور آج جو بھی دردناک حیران کن واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ اسی فاصلے کا نتیجہ ہیں۔

ہر واقعہ کے بعد کوئی نہ کوئی نوٹس ضرور لے لیتا ہے ،جس کے بعد پھر ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔اِس رجحان کی بنیادی وجہ لالچ ہے جو معاشرے کی بے راہ روی کا باعث بن رہا ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت کو نفسیات دانوں سے مدد لینا ہو گی،جو بُرے سے بُرے حالات کو بھی اپنی گائیڈنس و کونسلنگ سے بہتر بنا سکتے ہیں۔

کانفرنس میں پیش کئے گئے مقالات معیاری اور معاشرے کے ہر پہلو سے متعلقہ تھے۔وائس چانسلر ’’ایل جی یو‘‘ میجر جنرل عبید بن زکریا نے بعض اجلاسوں میں خود بھی شرکت کی اور بتایا کہ ہم یونیورسٹی میں بچوں کی سکریننگ کا اہتمام کر رہے ہیں تاکہ ان میں موجود غلط رجحانات کی بیخ کنی کی جا سکے،کانفرنس کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ دھرنوں کے لئے لوگوں کا سکون برباد نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے اور اِس پر عمل بھی کروایا جائے۔

دوسری سفارش میں کہا گیا ہے کہ معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی معاشرے کی بے چینی ختم کر سکتا ہے، اِس لئے ترقی کے سفر کو جاری رکھنے دیا جائے۔اِسی طرح ٹی وی چینلز سے غیر ضروری نشریات میں ٹاک شوز کو گالم گلوچ اور دھینگا مشتی سے محفوظ رکھا جائے۔کانفرنس میں نفسیات دانوں کے لئے آسامیوں کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہر شعبہ زندگی سے منسلک اداروں میں نفسیات دانوں کا تقرر کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم