عصر ِ حاضر کے تقاضے اورفاٹا

عصر ِ حاضر کے تقاضے اورفاٹا
عصر ِ حاضر کے تقاضے اورفاٹا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں اپنی قوم ، حکومت اور عدالت کے سامنے اپنے  اعمال پہ  اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں اور اگر اسلام آباد دھرنوں کے پیچھے  میرے منفی کردار  کا  مصدقہ ثبوت پیش ہو ا تو میں مستعفی ہونے کو تیار ہوں-  دھرنے میں پاک فوج کا ہر عمل ملک کے وزیر اعظم کے احکامات کے مطابق تھا اور ان کی صوابدید میں اٹھایا گیا تھا- سینٹ کے اجلاس میں پاک افواج  کی جانب سے جمہوریت کی مکمل  تائید نے  ان تمام افواہوں کی تردید کردی جن کے ماخذ کچھ اپنے تھے اور کچھ بیگانے- سرحدوں پہ جانیں وارتے ہمارے سربکف جوان اب ہم سے بھی تقاضا کرتے ہیں کہ ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی میں  اپنا  حصہ ڈالتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے سامنے سر جھکائے انہیں کام کرنے دیں- افواج  اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور سیاستدان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں – دست و گریباں ہونے کی بجائے  اتفاقِ رائے سے  عصرِ حاضر کے ان تمام  چیلنجز  کا مقابلہ کریں جو ہماری  قومی  حمیت و غیرت کا تقاضا ہے  کیونکہ

ایک طرف قربانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ایک طرف ہم ہیں- کبھی ڈالر کی قیمت کے اتار چڑھاؤ  تو کبھی اپنے مفادات  کا جوار بھاٹاسمجھ سے بالا تر ہے یہ ہماری ملکی سیاست – فاٹا اصلاحات پہ بٹا ایوان   ،سرحدوں پہ  دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ   اور   مسلم دنیا کو درپیش کڑےامتحان ہمیں اتحاد  و یگانگی کا  درس دے رہے ہیں  مگر  ہم یہ اسباق کن کتابوں سے ڈھونڈ رہے ہیں  شاید  ہمیں بھی معلوم نہیں- آج کے دن ماضی کو یاد کرنا اور اپنی صفوں میں ہم آہنگی  و  اتفاق پیدا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ خطے کی صورتِ حال یہ تقاضا کر رہی ہے کہ  ہمیں اپنے ملکی و اجتماعی  مفادات کے لئے یک جان ہونا ضروری ہے- پاکستان معرض وجود میں آیا تو کٹے پھٹے قافلے تھے اور سازشوں کا ایک جال تھا- پاکستانی فوجی قوت نہ ہونے کے برابر تھی اور دشمن ہر چیز پہ قابض تھا – طاقت کے نشے میں کشمیر  پہ لشکر کشی شاید ان مذموم ارادوں کی تکمیل تھی کہ جس سےسرحدوں کے تنازعات جنم لیں- گو کشمیر کی حفاظت  میں قبائلی لشکر ڈٹ گئے  لیکن وہ  ان مخفی ہاتھوں  کے سامنے بے بس ہوگئے جن  کے نشانات ہم آج بھی کشمیری  نوجوانوں کے لاشوں پہ تلاش کر رہے ہیں- قبائل کی جوانمردی  نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کے رکھوالے ہیں- پاکستان نے ان کی وہی  آزاد  حیثیت برقرار رکھی جو ان کو برطانوی سامراج نے دے رکھی تھی- مگر آج حالات مختلف ہیں اورضروریات ِ زندگی  بھی مختلف ہیں- پاکستان ایک اسلامی ملک اور اسلامی روایات کا علمبردار ہے-اسلامی مساوات  اور پاکستان کے آزاد شہریوں کو  حاصل سہولیات  اپنے قبائلی بھائیوں  کے لئے بھی وہی ہونی چاہیئں لیکن یہ علاقہ  پسماندہ ہے- قبائلی سردار  اور قبائل شاید اسی آزاد حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں- پر وقت کا یہ تقاضا ہے کہ  قبائلی باشندوں کو وہی بنیادی سہولیات دی جائیں جن سے ان کا احساسِ محرومی ختم ہو  اور پاکستانی قانون کی علمبرداری ہو-  قانون و حکام سے مبراء اس علاقے کو  دہشت گردوں  نے اپنی محفوظ پناہ  گاہ بنا لیا ہے اور جنت نظیر یہ وادیاں روز  یہاں کے باسیوں کی   اشکبار آنکھوں  کے لئے امن مانگتی ہیں- روز کے دھماکے، گولیاں  اور مسمار گلیاں  و محلے اب باقی  پاکستان سے منسلک  شاہراہیں چاہتی ہیں – ایک باوقار اور پر امن  علاقہ  اب ان کی بھی ضرورت ہے جن کے کندھے جنازے اٹھاتے تھک گئے ہیں- زیورِ تعلم پہ ان نوجوانوں کا بھی حق ہے جو اب علم و ہنر سے اپنی شخصیت کو آراستہ کرنا چاہتے ہیں- ان کی سوچ میں پرانے قبائلی نظام اور دقیانوسی انگریز قانون کے خلاف بغاوت کے آثار سر اٹھا رہے ہیں- ان حالات میں کی گئی سیاست شاید دلوں میں پھر مبہم سے خطرات کو جنم دے دے جو  ناچاقی کا باعث بنے کیونکہ کچھ جماعتیں ان علاقوں کو خیبر پختون خواہ کے زیر سر پرستی لانا چاہتی ہیں اور کچھ اس کو علیحدہ صوبہ بنانے کی خواہش مند ہیں- جمہوریت  بھی اپنے جمہوری حق کو منوانے کے لئے بے چین ہے کہ یہ فیصلہ اس علاقے  میں بستی  عوام کےاستصوابِ رائے پہ چھوڑ دیا جائے کہ کس طریقہ سے فاٹا کا انضمام عمل میں لایا جائے – ہم سب با شعور لوگ مل بیٹھ کر لائحہ عمل  اور  طریقہ کار کا فیصلہ  پر امن رہتے ہوئے کر سکتے ہیں - اسمبلیاں موجود ہیں  - جمہور پسند سپاہ حاضر ہے اور پاکستان  سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے – فاٹا اصلاحات پہ سیاست نہیں بلکہ پاکستان  کے روشن مستقبل کی تعمیر ہی  ہمیں کامران گردانے گی – یہ بات بھی  اپنی اہمیت   جتلا رہی ہے کہ اب  مسائل کے حل پہ مشاورت و اتفاق ہی ایک مستحکم ، خودمختار اور متحد پاکستان ہی ہماری ضرورت ہے-

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ