چائے کی پیالی میں طوفان(3)

چائے کی پیالی میں طوفان(3)
چائے کی پیالی میں طوفان(3)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میر خلیل الرحمان نے پاکستان میں صحافت کو نئی جہت دی اور ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی درآمد کرنے میں پہل کی۔ کمپیوٹر کی نوری نستعلیق کتابت بھی انہوں نے پاکستان کے ایک نامور کاتب اور برطانیہ کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر بنوائی تھی اور اس کتابت کا پہلا اخبار لاہور سے شائع کیا گیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں میر خلیل الرحمٰن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خبر پر کہا تھا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی خبر قیام پاکستان کا اعلان تھا اور میری زندگی کی سب سے بْری خبر سقوط مشرقی پاکستان تھا، اس خبر نے مجھ پر سکتہ طاری کر دیا اور دل ڈوبنے لگا، یہ اتنا بڑا سانحہ ہے کہ اسے بیان کرنے کے لیے نہ اس وقت میرے پاس الفاظ تھے اور نہ اب ہیں۔میر خلیل الرحمان کے بعد ان کی اگلی نسلوں نے جنگ گروپ کو بام عروج پر پہنچایا اور اس وقت جنگ پاکستان کا سب سے بڑا اردو اخبار ہے۔
‘جنگ’ نے قیام پاکستان کے بعد بھی پاکستان کی تعمیروترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ عدلیہ کی بحالی کی تحریک اور پاکستان کے عدالتی و آئینی بحران جو 2007 میں پاکستان کے آمر حکمران پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا، جنگ گروپ اور اس کے ذیلی ادارے جیو ٹی وی نے بے شمار قربانیاں دیں۔ جیو ٹی وی کو 2009۔2007 کے دوران متعدد بار پرویز مشرف اور بعد ازاں نئے صدر آصف زرداری کی جانب سے علانیہ اور غیر علانیہ بندش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ادارے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس کشمکش کے دوران براہ راست دکھائے جانے والے ایک کرکٹ کا معاہدہ بھی منسوخ کیا گیا جو جیو ٹی وی اور جنگ گروپ کے لیے بہت بڑے مالی خسارے کا باعث تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے عرب امارات کے حکام پر دباؤ ڈال کر جیو ٹی وی کی نشریات کو دبئی سے بھی (جہاں جیو ٹی وی کا ہیڈ آفس تھا) بند کرا دیا جس کے نتیجے میں جیو کے دنیا بھر کے ٹی وی چینلز سے معمول کی نشریات بند ہو گئیِں لیکن جنگ گروپ نے کسی حکمران کے سامنے گھٹنے ٹیکے نہ صحافتی اقدار کو پامال ہونے دیا۔
تیسرا اخبار جس نے تحریک پاکستان میں اہم ترین کردار ادا کیا وہ انگریزی اخبار ڈان (DAWN) ہے جس کا شمار آج بھی پاکستان کے موقر ترین اخبارات میں ہوتا ہے۔ ڈان، 26 اکتوبر 1941 کوقائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی سرپرستی میں مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ایک ہفت روزہ کے طور پر جاری کیا گیا۔ 1942 میں یہ روزنامہ ہو گیا۔ اس نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے انجام دیے۔ روزنامہ ڈان کے پہلے ایڈیٹر Pothan Joseph تھے جو اپنے صحافتی کیریئر اور تجربے کے باعث کافی مقبولیت رکھتے تھے۔ 1945 میں الطاف حسین کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ روزنامہ ڈان نے آزادی کی جدوجہد اور مسلمانانِ ہند کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسائل، موقف، معاملات اور واقعات احسن طریقے سے پیش کیے اور وقت کے سامنے صحیح صورت حال رکھی۔
ڈان نے برصغیر پاک و ہند کے دس کروڑ مسلمانوں کی آواز بلند کی۔ قیام پاکستان کے وقت روزنامہ ڈان اور اس قسم کے دیگر اخبارات کی روزانہ اشاعت کا اندازہ تقریباً 50 ہزار پرچے تھے۔ روزنامہ ڈان نے وقت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا اور انگریزی زبان میں مسلم صحافیوں کی شدید قلت کے باوجود مسلم دشمن عناصر، صحافی، اخبارات اور رسائل کا مقابلہ بڑے جوش و جذبے سے جاری رکھا جبکہ غیر مسلم اخبارات اور پرچے کثرت اور وسائل سے مضبوط تھے اور وہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے کر رہے تھے۔روزنامہ ڈان کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس نے مستقبل کے صحافیوں کے لیے اعلیٰ ترین تربیت گاہ کا کردار ادا کیا اور یہ حقیقت ہے کہ انگریزی صحافت میں بے شمار صحافیوں کا ظہور روزنامہ ڈان کے باعث ہوا۔روزنامہ ڈان نے تقریباً سات دہائیوں سے کامیابی سے اپنی اشاعت کو برقرار رکھا ہے اور اس وقت کراچی کے علاوہ اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی ڈان کے دفاتر موجود ہیں۔اس وقت ڈان کے چیف ایگزیکٹو حمید ہارون ہیں۔
لیکسن گروپ کے ذیلی ادارے سینچری پیلیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بینر تلے شائع ہونے والے روزنامہ ایکسپریس نے اپنی اشاعت کا آغاز 1998 میں کراچی سے کیا لیکن پہلے سے موجود کئی مستحکم اور کثیرالاشاعت اردو اخبارات کی جڑیں تک ہلا دیں۔

روزنامہ ایکسپریس کے مالک پاکستان کے ممتاز ترین بزنس مین سلطان علی لاکھانی ہیں جن کی ذہانت اور کاروباری سمجھ بوجھ کے باعث روزنامہ ایکسپریس ایک Setter Trend کے طور پر سامنے آیا۔روزنامہ ایکسپریس بے شک پاکستان کے قدیم اخبارات کی نسبت ایک نیا اخبار ہے لیکن ملکی ترقی و استحکام اور کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں کسی ہم عصر سے پیچھے نہیں۔

روزنامہ ایکسپریس کے بغیر پاکستان کی اخباری صنعت کا ذکر ادھورا ہے کیونکہ یہ اس وقت بھی اپنے بام عروج پر ہے جبکہ اس پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب ملک کے تقریباً تمام نامور کالم نویس اور صحافی روزنامہ ایکسپریس کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ روزنامہ ایکسپریس کا تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہ سہی لیکن استحکام پاکستان میں روزنامہ ایکسپریس کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کی حفاظت اور استحکام پاکستان کی ضمانت بننے والے اداروں نے ہزاروں افراد کو بے روزگار کیونکر کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ مالک صرف مالک ہوتا ہے خواہ وہ کسی اخبار کا ہو یا دکان کا اور اسے صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ متذکرہ بالا اداروں کے علاوہ پاکستان کے دیگر اخبارات اور ٹی وی چینلز میں سے کسی کے بھی مالک کے جذبہ حب الوطنی پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے نہ اس کی غریب پروری پر شک کیا جا سکتا ہے کیونکہ اخبارات و جرائد حتیٰ کہ ٹی وی چینلز پر بحران تو پہلے بھی آتے رہے ہیں، تب اتنے بڑے پیمانے پر کارکنوں کی برطرفی عمل میں کیوں نہیں آئی۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -