اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 66

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 66
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 66

  

حضرت عتقبہ بن غلامؒ کے تائب ہونے کا واقعہ یوں ہے کہ آپ کسی عورت پر عاشق ہوگئے تھے اور پھر کسی نہ کسی طرح اپنے عشق کا اظہار بھی کرادیا۔ چنانچہ اس نے اپنی کنیز کے ذریعے دریافت کرایا کہ آپ نے میرے جسم کا کون سا حصہ دیکھا ہے۔ آپ نے کہا ’’ تمہاری آنکھیں دیکھ کر عاشق ہوا ہوں۔‘‘

اس کے جواب کے بعد اس عورت نے اپنی دونوں آنکھیں نکال کر آپ کی خدمت میں روانہ کرتے ہوئے کنیز سے کہلوایا ’’جس چیز پر آپ فریفتہ ہوئے تھے وہ حاضر ہیں۔‘‘

یہ دیکھ کر آپ کے اوپر ایک عجیب حالت طاری ہوگئی اور حضرت حسن بصریؒ کی خدمت میں پہنچ کر تائب ہوگئے۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت حبیب عجمیؒ کا مکان بصرے کے چوراہے پر تھا۔ ایک دن آپ نے کپڑے نکال کر چوراہے پر تھا۔ ایک دن آپ نے کپڑے نکال کر چوراہے پر رکھ د یئے اور خود کہیں نہانے کے لئے چلے گئے۔ اتفاق سے حسن بصریؒ کا اس طرف سے گزر ہوا تو آپ نے ان کا لباس شناخت کرکے خیال کیا کہ یہ تو حبیب عجمیؒ کہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اگر کوئی اٹھا کر چل دے تو کیا ہو، اس خیال کے تحت آپ کپڑوں کی حفاظت کے لئے وہاں ٹھہرے رہے اور جب حبیب عجمیؒ واپس آئے تو حضرت حسن بصریؒ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ’’ تم اپنا لباس کس کے بھروسے پر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اگر کوئی اٹھا کر لے جاتا تو کیا ہوتا؟‘‘

انہوں نے جواب دیا ’’اے حسن ؒ بصری! مَیں اسی کے بھروسے پر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ جس نے حفاظت کے لیے آپ کو یہاں تک پہنچادیا۔‘‘

***

ایک عورت فریاد وآہ زاری کرتی ہوئی حضرت حبیب عجمیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’میرا بچہ گم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مَیں سخت پریشان ہوں۔‘‘

آپ نے پوچھا ’’تمہارے پاس اور کیا ہے؟‘‘

اس عورت نے کہا ’’دو درہم ہیں۔‘‘

آپ نے اس سے وہ درہم لے کر خیرات کردئیے اور دعا کرکے فرمایا ’’ جاؤ تمہارا بچہ آگیا ہے۔‘‘

چنانچہ اس عورت نے جب گھر پہنچ کر دیکھا تو واقعی اس کا بچہ گھر پر موجود تھا۔ اس نے بچے کو گلے لگا کر پوچھا ’’ تو کہاں چلا گیا تھا۔‘‘

لڑکے نے کہا ’’میں تو کرمان میں تھا اور میرے استاد نے گوشت لینے کے لئے بازار بھیجا۔ راستہ میں ایسی آندھی آئی کہ جو مجھے اپنے گھر تک اڑا کر لے آئی اور پھر مَیں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ اے ہوا اس کو گھر تک پہنچادے۔‘‘

***

ہشام بن عبدالملک نے حضرت ابو جاذم مکیؒ سے سوال کیا کہ وہ کون سا عمل ہے جس کے ذریعے نجات حاصل ہوسکے۔

آپ نے فرمایا ’’حلال جگہ سے جو دام حاصل ہو اس کو حلال جگہ ہی خرچ کرو۔‘‘

ہشام بولا ’’اتنا دشوار کام کون کرسکتا ہے؟‘‘

اس پر آپ نے فرمایا ’’ایسا دشوار کام وہی کرسکتا ہے، جسے جنت کی خواہش اور جہنم کا خوف رکھتے ہوئے رضائے خداوندی کی طلب ہوگی۔‘‘

پھر آپ نے مزید فرمایا ’’دنیا سے اجتناب کرو۔ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ جو عبادت گزار دنیا کو محبوب تصور کرتا ہے اس کو روز محشر کھڑا کرکے ملائیکہ یہ منادی کریں گے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ شے کو پسند کیا۔ دنیا میں ایسی کوئی شے نہیں جس کا انجام غم واندوہ نہ ہو کیونکہ دنیا میں ایسی کوئی شے تخلیق نہیں کی گئی جس کا انجام حزن و ملال نہ ہو اور دنیا کی حقیر سے حقیر شے بھی انسان کو اپنی جانب اس درجہ مائل کرلیتی ہے کہ جنت کی بڑی چیز بھی توجہ کا باعث نہیں بنتی۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے