مودی کی نئی چال بازیاں

مودی کی نئی چال بازیاں

  



وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کی توجہ کرسمس کی طرف، اس دوران بھارت فالس فلیگ آپریشن کا ناٹک رچا سکتا ہے بھارت نے ایسی حرکت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا مودی سرکار خطرناک کھیل کھیل رہی ہے جس سے پورے خطے کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے او آئی سی سے درخواست کرنا ہو گی ہمارے ساتھ کھڑی ہو، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امتیازی شہریت قانون کے خلاف دس سے زیادہ بھارتی ریاستوں میں احتجاج ہو رہا۔ بھارت کی پوری اپوزیشن سراپا احتجاج ہے، تمام اقلیتیں بالخصوص مسلمان اس بل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اگر بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو اسے مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہرے پھیلتے جا رہے ہیں اور کئی بھارتی شہر میدانِ جنگ بن گئے ہیں۔ راجستھان کے وزیراعلیٰ خود مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اتر پردیش کی انتہا پسند ریاستی حکومت نے،جس کا تعلق بی جے پی سے ہے،مظاہرین کی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کر دی ہیں کئی مقامات پر ہندو مسلم فسادات کی بھی اطلاعات ہیں۔ وزیراعظم مودی نے بھی اپوزیشن کے مظاہروں کے جواب میں دہلی میں ریلی نکالی۔ جامعہ ملیہ کے باہر بھی طلبا نے احتجاج جاری رکھا، سماج وادی پارٹی کے رہنماء اکلیش یادیو نے شہریت کے ترمیمی قانون پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار مرتی ہوئی معیشت سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسا قانون لائی ہے۔ کانگرسی رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ طلباء، مودی اور امیت شاہ کو ملک تقسیم کرنے سے روکیں جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ اگر امیت شاہ نے قانون واپس نہ لیا تو انہیں کولکتہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا جائے گا۔ امیت شاہ کو روکنے کے لئے لاکھوں کا مجمع جمع کریں گے۔

پورے بھارت میں آگ لگی ہے اور وزیراعظم مودی شہریت بل کے معاملے میں بھی پاکستان کو گھسیٹ لائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف ان کا ساتھ دیتی تو شہریت بل ایک اچھا موقع تھا کیونکہ اس اقدام سے پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکتا ہے انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے متعلق کہا کہ یہ لوگ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں جبکہ میں نے کوشش کی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے دلتوں کے متعلق واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کہا کہ پاکستان میں دلت کو جس برتن میں چائے دی جاتی ہے اس سے اس کے پیسے لئے جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ وہ یہ برتن ساتھ لے جائے۔ مودی کے اپنے وطن میں دَلتوں سے جوسلوک ہوتا ہے اسے قطعی طور پر نظر انداز کرکے انہوں نے پاکستان میں دلتوں کے متعلق واقعات نہ جانے کہاں سے تلاش کر لئے ہیں حالانکہ پاکستان میں اس طرح کی اونچ نیچ اور ذات پات کا کوئی تصور نہیں، یہ بھارت ہی ہے جہاں گائے لے جانے والے کسانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں ذبح کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں اب جبکہ پورے بھارت میں شہریت بل کے خلاف تمام طبقات میدان میں نکل آئے ہیں اور دس سے زیادہ ریاستوں میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں تو مودی نے ایک ایسے بل میں پاکستان کو گھسیٹنے کی کوشش کی ہے جس سے پاکستان کا کچھ لینا دینا نہیں مودی نے پانچ سال سے بھارت میں مقیم غیر مسلموں کو بھارتی شہریت پیش کی لیکن مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا جس کی وجہ سے سیکولر بھارت کا تصور پاش پاش ہو کر رہ گیا ہے اور محسوس یہ کیا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے راستے پر گامزن ہے۔

نریندر مودی جب سے برسراقتدار آئے ہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ مذاکرات کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اب وہ اپنے شہریت بل کو بھی پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور خود اس کا اعتراف کر رہے ہیں ایسے میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلے بھی خبردار کیا تھا اور اب دوبارہ کہا ہے کہ بھارت شہریت بل سے مظاہرین کی توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر کوئی نہ کوئی مِس ایڈونچر کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور یہ ایسے وقت میں ہے جب پوری مغربی دنیا کرسمس کی تقریبات میں محو ہے۔ گزشتہ برس بھارت میں بھی عیسائیوں نے کرسمس دھوم دھام سے منایا تھا لیکن اب کی بار شائد شہریت بل کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے مودی کے ان عزائم کو پہلے بھی ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی اس پر نظر رکھی ہوئی ہے لیکن مودی کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے کبھی سرجیکل سٹرائیک کی کہانیاں گھڑی ہیں اور کبھی بالاکوٹ کے حملے میں دہشت گردی کے کیمپ تباہ کرنے کے بے سروپا دعوے کئے ہیں جو بالآخر غلط ثابت ہوئے اور خود بھارتی رہنماؤں کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ دہشت گردی کے کیمپ تباہ کرنے اور 350دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں تھی اب پھر مودی کوئی نہ کوئی ایسی چال چلنے کی منصوبہ بندی کرے گا جس کی طرف وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور خود وزیراعظم عمران خان نے دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو، بہتر یہ ہے کہ ایسے موقع پر او آئی سی کا باقاعدہ اجلاس بلا لیا جائے اور اس اجلاس میں مودی کی چالبازیوں کو بے نقاب کیا جائے، محض زبانی مذمت سے مودی اپنے عزائم سے باز نہیں آئیں گے او آئی سی کا اگر ہنگامی اجلاس منعقد کرکے اس میں بھارتی عزائم پر بات کی جائے تو اس تنظیم کے متعلق یہ تاثر بھی زائل ہو جائے گا کہ وہ اہم مسائل سے لاتعلق ہی رہتی ہے اور کسی بھی بڑے موقع پر بروقت اقدام نہیں کرتی، کوالالمپور کانفرنس کے آغاز پر او آئی سی نے اس کے خلاف بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسی کانفرنس او آئی سی کے زیر اہتمام ہونی چاہیے۔ کوالالمپور میں تو بیس ملکوں کی کانفرنس ہو گئی اور وزیراعظم مہاتیر محمد نے آئندہ کے لئے لائحہ عمل بھی دے دیا کہ تجارتی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مقامی کرنسیوں میں تجارت کی جائے،سونے کے دینار کو پیمانہ بنایا جائے۔ او آئی سی بھی اگر اس تجویز سے اتفاق کرتی ہے تو تجارتی پابندیوں جیسے اقدامات کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ او آئی سی اگر زیادہ سرگرم کردار ادا کرے تو مسلمان امہ کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کو پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے بہت بروقت آواز دی ہے۔ امید ہے اس کی جانب سے مثبت جواب ملے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...