کرکٹ دیوانو! تاریخی جیت مبارک

کرکٹ دیوانو! تاریخی جیت مبارک

  



ذرا نم ہو تویہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی والی بات ہے اور پاکستانی شاہینوں کے بارے میں جو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے۔ پاکستان میں دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ہوا، سری لنکا کی ٹیم کے خلاف لاہور میں دہشت گردی ہوئی اور ہمارے ملک پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور دس سال بعد سری لنکن ٹیم ہی کی آمد نے پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کا پھر سے احیاء کیا اور دو ٹیسٹ کی سیریز کھیلی۔ پہلا ٹیسٹ راولپنڈی میں ہوا جو بارش کی وجہ سے کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔ دوسرا میچ کراچی میں کھیلا گیا جو پاکستان کرکٹ ٹیم نے جیت کر سیریز اپنے نام کر لی اور یہ تاریخی سفرجو شروع ہوا اس میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ میچ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں نے ریکارڈ ساز حیثیت میں جیتا اور کئی ریکارڈ بھی اپنے نام کئے۔ اس دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل یہی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے دورے میں تمام میچ بری طرح ہار کر آئی۔ تقریباً تمام کھلاڑی ناکام نظر آئے اور پوری ٹیم بہت سخت تنقید کی زد میں تھی اور نوجوان فاسٹ باؤلر بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے، چنانچہ اعتراضات ایسے تھے کہ کوچ حضرات سمیت پورے بورڈ کو توڑ دینے کا مطالبہ کیا جانے لگا تھا، حتیٰ کہ حارث سہیل سمیت کئی کھلاڑیوں کو ٹیم سے فارغ کرنے کی تجویز دی گئی تھی، لیکن کراچی ٹیسٹ کی کارکردگی نے منہ بند کر دیئے ہیں۔ یہاں بھی معترض حضرات پہلی اننگز میں ہونے والی بیٹنگ کو آسٹریلیا والا تسلسل ہی قرار دینے لگے۔ تاہم ہمارے نوجوان باؤلر کام آگئے اور پاکستان کے 191 رنز کے جواب میں سری لنکا کو 270رنز تک محدود کر دیا تھا۔ اب نوجوان کھلاڑیوں کے نصیب جاگے۔ عابد علی اور شان مسعود نے شاندار آغاز کیا۔ دونوں نے اوپننگ سٹینڈ میں سنچریاں داغ دیں اور پہلی وکٹ کا ریکارڈ تونہ توڑ سکے لیکن دوسرے نمبر پر آ گئے، اس کے بعد اظہر علی اور بابر اعظم نے میدان سنبھالا تو انہوں نے بھی سنچریاں بنا ڈالیں یوں پاکستان کرکٹ کا ایک نیا ریکارڈ بنا کہ نمبر ایک سے نمبر چار تک کے بلے بازوں نے ایک ہی اننگز میں مسلسل سنچریاں بنا دیں۔ اظہر علی (کپتان) کے آؤٹ ہونے اور بابراعظم کی سنچیری کے بعد ساڑھے پانچ سو رنز بنا کر اننگز ڈیکلیر کی گئی اور باقی وقت میں نوجوان باؤلروں نے پھر ردھم کا مظاہرہ کیا۔ لنچ سے اختتام تک سات کھلاڑی آؤٹ کئے تو اگلے روز پہلے ہی تین اووروں میں باقی تینوں کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے یہ میچ 264رنز سے جیت لیا۔ اس میچ کے جیتنے کی خوشی تاریخی اعتبار سے ہے تو یہ امر بھی قابل اطمینان ہے کہ عابد علی دوسنچریوں کا نیا ریکارڈ بھی بنا گیا اور دیر بعد شان مسعود بھی فارم میں آ گئے جو کبھی اندر اور کبھی باہر ہوتے رہے ہیں۔ کپتان اظہر علی حاسدوں کا شکار نظر آ رہے تھے وہ بھی سو بنا کر اپنی فارم بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بابراعظم تو ٹیم کا ستون بن ہی چکا ہے۔ جیت کا نشہ بہت ہوتا ہے تاہم مسلمان کی حیثیت سے اللہ کا شکر ادا کرنا ہو گا کہ نوجوانوں پر بھروسہ کیا تو وہ بالآخر کامیابی کی طرف چل پڑے۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ٹیم میں نیا نظم و ضبط پیدا کیا جائے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی مزید تربیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ ٹیم مزید کامیابیاں حاصل کرے اور ملک کا نام روشن کرے۔ نسیم شاہ، عباس اور شاہین آفریدی بھی تعریف کے قابل ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ