کیا انسانیت مر گئی؟

کیا انسانیت مر گئی؟
کیا انسانیت مر گئی؟

  



گیارہ دسمبر2019ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب رقم کر گیا۔اس المیہ کے کردار کوئی عام انسان یا مولوی یا مدرسے کے طالب علم نہیں تھے،بلکہ اس معاشرے میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھدار سمجھے جانے والے لوگ تھے،جو اپنے آپ کو معزز اور عقل والے سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر بننے کے لئے آپ کو پڑھائی میں بہت اعلیٰ نمبر لینے ہوتے ہیں، وکالت کے لئے تو نمبر اتنے زیادہ ضروری نہیں ہوتے۔ بس لاء کالج تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے، لیکن پھر ان کو وہاں پر نکھارا جاتا ہے کہ معاشرے میں مظلوم افراد کو انصاف دلانا ان کا کام ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں پیشے ایسے ہیں کہ ان میں مریض یاکلائنٹ کی نہ شکل دیکھی جاتی ہے اور نہ ذات اور مذہب۔نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ میرا دوست ہے یا میرا اس سے اختلاف ہے۔جب وہ ان کو سروس دیتے ہیں تو پھر وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ان کو صرف اپنے کلائنٹ کو بچانا مقصود ہوتا ہے۔

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا یہ سانحہ، جس سے بڑھ کر انسانیت کی تذلیل ہونا ممکن نہیں، یہ صرف ایک دن کا واقعہ نہیں تھا۔یہ کوئی وقتی اشتعال بھی نہیں تھا، اس میں برسوں پہلے بوئے گئے بیج کی آبیاری کرتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچ گئے ہیں۔ چالیس سال پہلے ڈاکٹر اور وکیل بہت معزز افراد سمجھے جاتے تھے۔عام لوگوں کے دِلوں میں ان کی عزت تھی۔ کالے کوٹ اور سفید گاؤن کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور کوئی یہ گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہ لوگوں سے بدتمیزی یا ان پر تشدد کر سکیں گے۔ ہر کوئی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ہمیں اس چیز کو سمجھنے کے لئے چند سال پیچھے جانا ہو گا،جب اس خرابی کی بنیاد رکھی گئی۔اس میں اہم کردار حکومت وقت کا تھا۔اختلاف رائے سب میں ہوتا ہے اور حکومت کا کام اس میں باہمی توازن پیدا کرنا ہوتا ہے،

نہ کہ اکثریت سے ڈر کر اقلیت کو دبا نا یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اکثریت کو اشتعال دلانا اور اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی آشیر باد دینا۔یہی منافقت کی پالیسی 1977 ء کے الیکشن کے بعد سول نافرمانی،گھیراؤ جلاؤ کی تحریک میں بدل گئی،پھر جب سیاست دان صلح کے قریب پہنچ گئے، تو ایک تیسری طاقت اس میں کود پڑی، جو نوے (90) دن کے نام سے آئی کہ غیر جانبدارانہ انتخابات کروا کر جائے گی، لیکن صاحب اقتدار کو اس طاقت کا اتنا نشہ چڑھا یا بیرونی ہاتھوں نے اس کو چڑھایا کہ وہ اسلام اور قرآن کے نام پر گیارہ سال اقتدار سے چمٹے رہے۔غاصب کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہوتا ہے،اس کے لئے جنرل ضیا ء الحق نے مذہبی منافرت کو ہوا دی، پھر ساتھ ہی افغانستان میں امریکہ فنڈ ڈجہاد شروع کروادیا۔ملک کے اندر مختلف فرقوں کے درمیان جو اختلافات تھے، ان کو ہوا دے کر باقاعدہ اسلحہ سے لیس جہاد شروع کروا دیا اور ملک کو میدان کا رزار بنا دیا،ساتھ ہی ساتھ دوسری مذہبی اقلیتوں کا جینا دو بھر کردیا گیا اور اس بات کی تعلیم دی کہ صرف ہم ٹھیک ہیں، باقی سب اختلافات رکھنے والے گمراہ ہیں۔

جب فرقہ واریت کو بنیاد بنا کر ملک میں لڑائی شروع کروادی گئی تو دوسرے ممالک کو بھی اپنے اپنے ہم عقیدہ ساتھیوں کی مدد کے لئے جواز مہیا ہو گیا۔انڈیا اور اسرائیل، جو پہلے ہی پاکستان کے وجود کے ہی خلاف تھے، ان کو مذہبی آڑ لے کر اس جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع مل گیا۔جب پاکستان کی حکومت نے افغانستان میں مداخلت شروع کی تو اس کام کو ایک نئی جہت مل گئی۔امریکہ اور روس کی ایجنسیوں کا عمل دخل شروع ہو گیا اور اس میں ہر سطح پر برداشت کا مادہ ختم ہو گیا۔اس امر پر بس نہ ہوئی، بلکہ سکولوں کے نصاب میں تبدیلی کر کے تشدد کے لئے راہ ہموار کی گئی۔ ان کے تعلیمی نصاب ہی میں مخالف سے نفرت سکھائی گئی تو آگے چل کر وہی ہونا تھا،جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔مَیں نے ایک سابقہ کالم میں نظام تعلیم کے بارے میں لکھا تھا کہ یہاں کاروبار کو ترقی دینے کے لئے طالب علموں کو گریڈ اور اعلیٰ نمبر دلانے کے لئے ہر غلط کام کی تربیت دی گئی اور انسانی ہمدردی کے بجائے نمبر، گریڈ اورپو زیشن کے پیچھے لگا دیا گیا۔جب شروع سے ہی انسان کو خود غرضی کی تعلیم دی جائے تو بڑے ہو کر اس کو صرف اپنا مقصد یا د رہتا ہے،دوسروں سے ہمدردی صرف محدود افراد میں رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں رشوت اور بدعنوانی کا کلچر ہر جگہ گھس گیا اور کوئی بھی شعبہ اس سے نہ بچ سکا۔

یہاں پر شریف آدمی کو بزدل، بیوقوف اور کمزور کا لقب دیا گیا۔راتوں رات امیر بننے کا عمل شروع ہوا۔جائز ناجائز کی کوئی تفریق نہ رہ گئی۔اس میں مزید اضافہ یونین اور آرگنائزیشن نے کر دیا۔ ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی تمیز ختم ہو گئی اور اپنا فائدہ اولیت حاصل کر گیا۔طاقت اور مالی فائدے کی خاطر جہاں وکلاء کے ایک گروہ نے اپنے خلاف فیصلہ دینے پر ججوں پر حملے کرنا،ان کی عدالتوں کو تالے لگانا اور گالی گلوچ کرنے کی ہمت اور حوصلہ دیا تو دوسری طرف پولیس کے افسران کو ان کے یا ان کے مؤکل کے خلاف ایکشن لینے کی وجہ سے احاطہء عدالت میں تشدد کے واقعات عام ہوئے۔ان کے سامنے تو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بھی بے بس نظر آئے۔اگر یہیں پر ان کے خلاف مناسب ایکشن لے لیا جاتا تو معاملات اتنے نہ بگڑتے۔

مزید : رائے /کالم


loading...