بھارت قانونِ قدرت کے مطابق ٹکڑے ہو رہا ہے

بھارت قانونِ قدرت کے مطابق ٹکڑے ہو رہا ہے
بھارت قانونِ قدرت کے مطابق ٹکڑے ہو رہا ہے

  



بھارت کے ایوان زیریں (لوک سبھا) کے بعد ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) نے بھی متنازعہ شہریت بل کی منظوری دے کر بھارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسرائیل جیسی ریاست بنا دیا ہے۔اس بل میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے مسلمانوں کے سوا سب کو بھارتی شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس متنازعہ بل کی منظوری کی وجہ سے بھارت کی مشرقی ریاست آسام کے20 لاکھ مسلمانوں کی شہریت چھن گئی ہے اور بھارت میں بسنے والے 22سے25 کروڑ مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے،حالانکہ لوک سبھا اور ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور آواز اٹھائی کہ یہ بل سیکولر ازم کے خلاف ہے۔ کانگریسی رہنما راہول گاندھی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس متنازعہ بل کی منظوری کو بھارتی آئین پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ جس جس رکن پارلیمینٹ نے اس بل کی حمایت کی اور اسے پاس کرانے میں اپنا ووٹ دیا، اس نے ملک کی بنیاد تباہ کرنے کی حمایت کی ہے۔

بھارت کے 600 سے زائد دانشوروں، فنکاروں اور سابق ججوں نے اس بل کو امتیازی،غیر آئینی اور تقسیم پر مبنی مودی سرکار کا فارمولا قرار دیا ہے اور پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے اس منظور ہونے والے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترمیمی شہریت بل کے مطابق پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش کے ہندو، سکھ،جین مت، مسیحی اور بدھ مت کے پیرو کار جو 31دسمبر2014ء سے قبل بھارت آئے،انہیں بھارتی شہریت دے دی جائے گی۔اس منظور ہونے والے متنازعہ بل کے مطابق اگرکوئی ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی یا بدھ مت کسی قسم کی امیگریشن کے بغیر بھی انڈیا میں داخل ہو جاتا ہے تو بھارتی حکومت اس کا سواگت کرے گی، اس کے خلاف اب کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں ہو گی، بلکہ ایسے لوگوں کو بغیر مانگے سیاسی پناہ مل جائے گی۔ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار مودی سرکار نے شہریت کو مذہب سے جوڑ کر بھارت میں بسنے والی سب سے بڑی مذہبی اقلیت مسلمانوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر کے ہندوستان کے سیکولر آئین کے منافی اقدام اٹھایا ہے۔مودی سرکار نے جس طرح شہریت کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی اور کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، اسی طرح گاندھی بھی مذہب کی بنیاد پر دو قومی نظریئے کے تصور کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔

اپریل 1940ء میں ”ہندوستان ٹائمز“ میں گاندھی کا ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا: ”مذہب سے قومیت نہیں بدلتی،میری روح اس تصور سے بغاوت کرتی ہے کہ اسلام اور ہندو مت دو مختلف اور متضاد کلچر اور نظریہئ حیات کے مذہب ہیں“…… لیکن جب قائداعظمؒ اور مسلم لیگ نے مارچ1940ء میں کھل کر دو ٹوک الفاظ میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزاد اور خود مختار ریاست کا مطالبہ کیا تو اس وقت قائداعظمؒ نے اپنی تقریر میں دو قومی نظریئے کو بڑی وضاحت کے بیان فرما دیا تھا۔ ان کا ارشاد تھا: ”آخر ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندو مت کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ اسلام اور ہندو مت صرف دو مذہب ہی نہیں،بلکہ ایک دوسرے سے مختلف دومعاشرتی نظام ہیں،اسی وجہ سے متحدہ قومیت کا تصور ایک ایسا خواب ہے، جو کبھی شرمندہئ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہندو اور مسلمان مذہب کے ہر معاملے میں دو جداگانہ فلسفے رکھتے ہیں،جو ایک کھلی حقیقت ہے۔ دونوں کی معاشرت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ یہ دونوں الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی بنیاد متضاد تصورات پر قائم ہے۔ دو ایسی قوموں کو ایک نظام مملکت میں اکٹھا کرنا باہمی انتشار میں اضافے کا باعث بنے گا اور بالآخر اس نظام کو پاش پاش کر دے گا“۔1941ء میں قائداعظمؒ نے مدراس میں خطاب کرتے ہوئے دو قومی نظریے پر دوبارہ بھرپور انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ”ہندوستان کے مسلمان ایک جداگانہ قومیت رکھتے ہیں،انہیں کسی دوسری قوم میں جذب کرنے یا ان کے نظریات اور ملی تشخص کو مٹانے کے لئے جو بھی کوشش کی جائے گی، ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،ہم اپنے جداگانہ قومی تشخص کو برقرار رکھیں گے اور جداگانہ حکومت قائم کر کے رہیں گے…… دو قومی نظریے کی بنیاد اسلام ہے اور ہمارا یہ ایمان بھی ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ ئ حیات ہے“۔

قائداعظمؒ نے 27نومبر 1945ء کوپشاور میں کہا تھا: ”ہندوؤں اور مسلمانوں میں صرف مذہب کا ہی فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے اور ہمارا دین ہمیں ایک ایسا ضابطہ ئ حیات دیتا ہے،جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے،ہم اس ضابطے کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ قائداعظمؒ نے ایک موقع پر اسلامی حکومت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی حکومت دراصل قرآنی اصولوں اور احکامات کی حکمرانی کا نام ہے اور ہماری سیاست و معاشرت قرآن حکیم کے احکام کی پابند ہے،اس کے لئے لامحالہ ہمیں ایک مملکت اور علاقے کی ضرورت ہے۔دو قومی نظریہ ہی نظریہئ پاکستان ہے…… بھارتی پارلیمینٹ اور حکومت کا یہ بل(قانون) بھارت کے سیکولر نظریات اور آئین،جس کے تحت عقیدے کی بنیاد پر امتیاز رکھے بغیر مساوی حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی ہے،کی خلاف ورزی ہے۔بھارتی حکومت کروڑوں مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر شہریت سے محروم کر رہی ہے۔

آسام کے12اضلاع میں متنازعہ شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔آسام کے وزیراعلیٰ کا علامتی جنازہ بھی نکالا گیا۔امیگھالا اور ناگا لینڈ میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں، نئی دہلی میں مختلف سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں، ریاست تری پورہ میں لوگ سڑکوں پر نکل کر روزمرہ کی زندگی کے نظام کو درہم برہم کر رہے ہیں۔مقامی حکومت نے ریاست میں 48 گھنٹے کے لئے انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کئے رکھی۔ مودی سرکار نے کوئی اچھا کام کیا ہوتا تو اُس کے ملک کے لوگ اس کے خلاف احتجاج،ہڑتال اور کاروبار بند نہ کرتے۔پاکستانی پارلیمینٹ نے بھارتی حکومت کے اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بھارتی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شہریت کے لئے ترمیمی قانون سازی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فسطائی مودی حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل اور ہندو راشٹر کا ایجنڈہ کہا ہے۔ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں متنازعہ شہریت بل کے بارے میں قانون سازی انسانی حقوق کے قانون اور پاکستان کے دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔عام دانشوروں کا خیال ہے کہ بھارت ٹکڑے ہونے جا رہا ہے،اور یہ قانون قدرت کے مطابق ہو رہاہے۔

مزید : رائے /کالم