آگ کا ایک نیا سمندر!

آگ کا ایک نیا سمندر!
آگ کا ایک نیا سمندر!

  



جب یہ کہا جاتا ہے کہ حصولِ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ہم نے انڈیا کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں توان سے مراد کشمیر کی پہلی جنگ (جو 27اکتوبر 1947ء سے لے کر 31دسمبر 1948ء تک لڑی گئی)، پاک بھارت جنگ 1965ء اور پاک بھارت جنگ 1971ء لی جاتی ہیں۔ لیکن یہ تینوں بھرپور جنگیں نہیں تھیں۔ کشمیر وار میں دونوں ممالک کی صرف گراؤنڈ فورسز کا غالب حصہ شامل تھا اور فضائیہ کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ وجہ یہ تھی کہ آزادی ملنے کے بعد دونوں ملکوں کی فورسز سیال حالت میں تھیں۔ انڈیا نے ہمیں ساز و سامانِ جنگ (درمیانی درجے اور بھاری درجے کے ہتھیار) اور گولہ بارود (جو بھارت کے طول و عرض میں پھیلے اسلحہ گوداموں میں پڑا تھا۔اور پاکستان کے حصے میں ایک بھی اسلحہ گودام نہیں آیا تھا) ہمیں دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان آرمی کے پاس صرف چھوٹے ہتھیار (از قسم رائفل، لائٹ مشین گن، گرنیڈ اور چھوٹے مارٹر وغیرہ) تھے جن سے ہم نے ایک سال تین ماہ (اکتوبر 47ء تا دسمبر 48ء) جیسے تیسے ہوا، کشمیر کی یہ لڑائی لڑی۔ انڈیا کو یہ زعم تھا کہ اس کی فوج کی نفری زیادہ ہے، تمام بھاری ہتھیار از قسم ٹینک، اے پی سی ز اور طیارے وغیرہ زیادہ ہیں، گولہ بارود سب کا سب اسی کے پاس ہے، اس لئے وہ یہ جنگ جیت جائے گا۔لیکن جب وہ ایسا نہ کر سکا تو اقوامِ متحدہ میں جا فریاد کی اور اس طرح یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی عمل میں آ گئی۔

اس کے بعد 1965ء کی جنگ ہوئی جو ایک بھرپور جنگ تھی، جس میں تینوں سروسوں نے حصہ لیا لیکن یہ جنگ بھی صرف 17روز تک جاری رہی۔

اس جنگ کا بھی کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوا…… تیسری جنگ جسے 1971ء کی جنگ کہا جاتا ہے البتہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے چار ڈویژنوں کو انڈین فوج کی چار کوروں نے حصار میں لے رکھا تھا، اس محصور پاکستانی فوج کے پاس گنتی کے چند ٹینک تھے، بھاری توپ خانہ مفقود تھا، ائر فورس اور نیوی بھی نہیں تھی، مقامی بنگالی آبادی فوج کے خلاف تھی، ایسٹ بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز نے بغاوت کر دی تھی، مغربی پاکستان ایک ہزار میل دور تھا اور یہاں کے ملٹری ہیڈکوارٹرز سے کسی قسم کی کمک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اگر انڈین آرمی 20نومبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کے خلاف عام یلغار نہ کر دیتی تو بنگلہ دیش نہیں بن سکتا تھا۔ اس جنگ کی ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی تھی کہ مغربی پاکستان کی افواج (آرمی، ائر فورس، نیوی) نے بھی وہ رول ادا نہ کیا جو اس دور میں مشرقی پاکستان کے لئے پاک فوج کا ملٹری ڈاکٹرین کہا جاتا تھااور دعویٰ کیا جاتا تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع، مغربی پاکستان پر منحصر ہے۔(ستمبر 1965ء کی جنگ کا حوالہ دے کر اس ڈاکٹرین کی بھرپور تائید کی جاتی تھی) لیکن 3دسمبر 1971ء کو جب پاکستان نے انڈیا کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تو پھر بھی انڈیا کی مغربی سرحد پر صف بند، انڈین آرمی اور انڈین ائر فورس نے پاکستانی آرمی اور پاکستانی ائر فورس کو بڑی کامیابی سے روکے رکھا تاآنکہ 16دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ فال ہو گیا اور یہ جنگ پاکستان کی شکست پر ختم ہو گئی۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ دونوں ملکوں نے ایٹمی دھماکے کر دیئے۔ ان دھماکوں کے ایک سال بعد کارگل کا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ دنیا میں پہلی بار ایسا ہو رہا تھا کہ دو جوہری ممالک ایک دوسرے کے ساتھ برسرِ پیکار تھے۔ پاکستان نے بین الاقوامی سرحد توپار نہ کی، لیکن متنازعہ ایل او سی کراس کرکے چار پانچ میل اندر تک کے اس علاقے میں چلا گیا جو انڈیاکے قبضے میں تھا۔1947-48ء کی جنگ سے لے کر 1999ء کی اس کارگل لڑائی تک صرف ایک بات ایسی تھی جو نئی تھی اور وہ یہ تھی کہ یہ کارگل لڑائی گزشتہ جنگوں / لڑائیوں کے مقابلے میں اپنے دورانیے کے اعتبار سے طویل تر تھی اور دو ماہ تک لڑی گئی لیکن اس بار اقوام متحدہ کی جگہ امریکہ بیچ میں آکودا اور لڑائی ختم کرا دی…… پھر 1999ء کی کارگل لڑائی کے بعد بیس برس بیت گئے اور 26،27 فروری 2019ء کو پانچویں جنگ کی شروعات ہوتے ہوتے رہ گئیں۔

ان پانچ مسلح جنگوں، لڑائیوں اور تنازعوں میں ایک اور بات جو مشترک کہی جا سکتی ہے وہ یہ تھی کہ ان میں سے کسی ایک ملک کو بھی دوسرے ملک پر مکمل برتری حاصل نہ ہو سکی۔ تمام فتوحات یا شکستیں ناتمام رہیں اور دل کے ارمان دل ہی میں رہ گئے۔

سطور بالا میں جو کچھ بیان ہوا اس سے تقریباً ہر پڑھا لکھا پاکستانی قاری آگاہ ہے۔ میں نے صرف آپ کو ایک طرح کی یاد دہانی کروائی ہے کہ گزرے ہوئے 72برسوں میں مکمل فتح یا مکمل شکست کے ارمان جو پورے نہ ہو سکے وہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں بھی ایسی ہی جنگیں ہوتی رہیں گی یا ایسے ہی چھوٹے بڑے آپریشن رو عمل لائے جاتے رہیں گے یا ایسی ہی چھوٹی بڑی لڑائیاں لڑی جاتی رہیں گی جن کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پائے گا اور طرفین کے ارمان سینوں ہی میں دفن رہیں گے؟

بھارت دو اڑھائی برس سے کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایک اور جنگ / لڑائی / تنازعے کا پنگا لے۔ گزشتہ جنگوں کے علی الرغم یہ پنگا وہ خود لینا نہیں چاہتا لیکن اس کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ایسا کرے اور پاکستان کو سبق سکھائے۔ میں نے بہت سے سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ان کا خیال بھی یہی ہے کہ انڈیا ازخود ایسا نہیں کر رہا۔ اس سے پاکستان مخالف ایکشن کروانے والا کوئی اور ہے اور اس ”کوئی اور“کا نام نہ بھی لیں تو دنیا پہچانتی ہے کہ وہ کون ہے…… ظاہر ہے امریکی ہلہ شیری کے بغیر انڈیا ایسا نہیں کر سکتا…… رہا یہ سوال کہ امریکہ پاکستان کے درپے کیوں ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے بیشتر کا علم بیشتر قارئین کو ہو گا۔ لیکن ایک ایسی وجہ جس کا علم بیشتر پڑھنے والوں کو شائد نہ ہو، وہ یہ ہے کہ امریکہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ عصرِ حاضر میں جب دو فریقوں کے پاس جوہری وار ہیڈز بھی ہوں اور ان کو غنیم کے خلاف لانچ کرنے کے ڈلیوری سسٹم (میزائل) بھی موجود ہوں اور اگر ان میں براہِ راست لڑائی ہو جائے تو کیا وہ کسی عالمی جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے؟…… ستمبر میں پاکستان کے وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کا آئینی سٹیٹس تبدیل کرنے کے مضمرات میں اس عالمی جوہری جنگ کا جو حوالہ دیا تھا۔امریکہ اس کا ثبوت دیکھنا چاہتا ہے…… لیکن یہ ایک خطرناک ترین تجربہ ہو گا۔ نجانے امریکہ کو یہ اطمینان کیوں ہے کہ وہ کسی محدود جوہری جنگ کا یہ تجربہ کر سکتا ہے۔

پاکستان جانتا ہے کہ 5اگست 2019ء کو جب انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی تو کس کی شہ پر کی تھی۔ اس سے چھ ماہ پہلے انڈیا نے جو کنٹرول لائن عبور کی تھی اور بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا تو وہ حملہ میری نظر میں اسی ”امریکی تجربے“ کا پہلا مرحلہ تھا۔ بالاکوٹ میں مذہبی مدرسے موجود تھے لیکن انڈین ائر فورس کے طیاروں نے ٹارگٹ مِس (Miss) کیا اور ایسی جگہ بم گرائے جو اصل ہدف سے تھوڑی دور تھے…… یہ پاکستان کی پہلی خوش قسمتی تھی…… اور پاکستان کی دوسری خوش قسمتی 27فروری 2019ء کو اس وقت دیکھنے کو ملی جب انڈیاکے دو طیارے پاکستانی فضائیہ نے مار گرائے اور اس کے ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرلیا۔ اسی روز پاکستانی طیاروں نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ پر لاک آن تو کیا لیکن جان بوجھ کر ان کو انگیج نہ کیا۔اگر یہ ہائی ویلیو ٹارگٹ ہٹ کر دیا جاتا تو پاک بھارت کھلی جنگ کو کوئی روک نہ سکتا۔ انڈیا اپنے چار پانچ سینئر افسروں کی ہلاکت کیسے برداشت کرتا؟۔ پاک فضائیہ کی یہ لاک آن پوزیشنیں، انڈیا کے راڈاروں میں آج بھی موجود ہیں۔ تاہم ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان جنگ کا دائرہ زیادہ وسیع کرنا نہیں چاہتا۔ اس ساری صورتِ حال سے پاکستان نے امریکہ کو باخبرکر دیا تھا اور امریکہ ہی کے اشارے پر انڈیا اپنی اس شرمناک ہزیمت کو ”پی“ گیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے پاکستان کی اندرونی سیاسیات میں دخیل ہونے کی کوشش کی، جسے عمران خان اور جنرل باجوہ کے Duo نے کمال تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ انڈیا نے جان بوجھ کر ”شہریت“ کا ایک نیا پنگا نے رکھاہے۔ یہ جو آج ہندوستان بھر میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، درجنوں مسلمان مارے جا رہے ہیں، انڈیا کے طول و عرض میں آگ لگ رہی ہے، انڈین آرمی چیف ایک کے بعد دوسری دھمکی دے رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں براہموس میزائل کی ڈیپلائے منٹ ہو چکی ہے، لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاکستان میں اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہونے کے ”مواقع عطا“ کئے جا رہے ہیں تو یہ سب ہائبرڈ وار فیئر کے تجربات ہی تو ہیں …… امریکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے بھی کئی ممالک میں یہ تجربات کر چکا ہے۔ ملائیشیا میں اسلامک سمٹ کو تقسیم کرنے کا شوشہ ایک بڑی سٹرٹیجک چال (Move) تھی جو وابستہ مفادات نے چلی اور یہ سب کچھ ایک ایسے خطے میں کیا گیا جو ان مفادات کے شطرنجی کھیل کے لئے بہترین سٹرٹیجک بساط فراہم کرتا ہے۔

ایسا کیجئے کہ براعظم ایشیا کے ایک خاکے پر ملائیشیا سے انڈیا، پاکستان، ایران اور سعودی عرب تک کے علاقے پر کوئی شوخ رنگ بکھیر دیں۔ پھر اس میں انڈیا اور پاکستان کے جوہری اثاثوں (وارہیڈز اور میزائل) کو پِن پوائنٹ کر دیں، سعودی عرب اور ایران کی مذہبی حساسیتوں کو ایک اور رنگ سے نمایاں کر دیں اور پھر ان کے عین وسط میں CPEC کے خدو خال (سڑکیں، ریلیں وغیرہ) Draw کر دیں …… آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ خطہ دنیا میں سب سے زیادہ اہم لیکن سب سے زیادہ پُر خطر خطہ ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپ چاہتے ہیں کہ اس خطے کو آگے بڑھنے اور ایک نیا عالمی پاور بلاک بنانے سے روک دیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جو مغرب کا ہمہ جہتی لیڈر بنا ہوا ہے اور جس کے لاتعداد سٹیک اس خطے سے وابستہ ہیں،وہ یہاں ایک ایسا تجربہ کرنا چاہتا ہے جو اس کے نزدیک آسان ترین اور اپنے نتائج کے اعتبار سے کامیاب ترین ہو گا۔

ذرا تصور کیجئے اگر پاکستان اور بھارت میں کسی بھی طرح کی محدود نیو کلیئر وار ہوجاتی ہے اور امریکہ اس کو عالمی سطح کی جوہری جنگ تک جانے سے روک دیتا ہے تو کیا انڈیا اور پاکستان دونوں راکھ کا ڈھیر نہیں بن جائیں گے؟ اس ڈھیر کو از سرِ نو آباد کرنا کتنا مشکل ہو گا اس کا بھی اندازہ کیجئے اور یہ بھی سوچئے کہ ایسا کون کرے گا؟ اور اگر یہ خطہ 50% تک بھی برباد ہو جاتا ہے تو اس برباد شدہ حصے کو آباد کرنے کی ذمہ داری کون اٹھائے گا اور کس میں وہ دم خم، مالی سکت اور تکنیکی مہارت ہو گی جو اسے پھر سے اٹھا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے گی، اور یہ تصور بھی کیجئے کہ ایسا کرنے میں کتنے سال لگیں گے؟…… یہ جنگ عظیم دوم کے بعد کا یورپ نہیں ہو گا جسے امریکہ نے صرف ایک عشرے میں از سرِ نو بسا دیا تھا۔

قارئین کرام! یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی بھرپور کوشش کر رہی ہے او ر ساری دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ انڈیا اپنے اور پاکستان کے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے، اسے روکیئے۔ یہ بھی سوچئے کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی جنگ کی جو تیاریاں کر رہی ہے اور جو اسلحہ جات وہاں لائے اور صف بند کئے جا رہے ہیں،ان کی تفصیل کسی انڈین، پاکستانی یا فارن میڈیا پر کیوں نہیں دی جا رہی۔ البتہ دوسری طرف انڈیا کے طول و عرص میں وار ہسٹریا دیکھا جا سکتا ہے۔ شہریت بل کا ایک ایسے وقت میں پاس ہونا کہ جب برصغیر میں آتشیں تبدیلیوں کی امواج امڈ امڈ کرآ رہی ہیں، کیا آگ کے ایک نئے سمندر کو جنم نہیں دے رہا؟

مزید : رائے /کالم


loading...