ضلع راجن پور، کئی سالوں سے سربراہان غائب، 20تعلیمی ادارے لاوارث، گروپ بندی کا انکشاف

ضلع راجن پور، کئی سالوں سے سربراہان غائب، 20تعلیمی ادارے لاوارث، گروپ بندی کا ...

  



جام پور (نامہ نگار) سابق حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی راجن پور کی پسماندگی دور کرنے میں ناکام ہوگئی ضلع راجن پور کے بیس ہائر وہائی سکول کئی سالوں سے سربرہان سے محروم ہیں۔ عارضی طور پر جونیئر اساتذہ سے کام چلایا جانے لگا۔ جونیئر اساتذہ کے پاس ہیڈز کا چارج ہو نے سے انتظامی اور تعلیمی معاملات بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ موجوہ حکومت کے بلند وبانگ دعووں کے برعکس راجن پور میں تعلیمی پسماندگی کے دعوے دھرے کے دھرے(بقیہ نمبر52صفحہ12پر)

 رہ گئے۔ منتخب ارکان اسمبلی بھی بے بس دکھائی  دینے لگے ہیں۔ راجن پور کے بیس سکول سربرہان سے محروم ہیں۔ گورنمنٹ ہائر سیکنڈیری سکول لعل گڑھ۔ ہائر سیکنڈیری سکول داجل۔ ہائر سیکنڈیری حاجی پور۔ ہائر سیکنڈیری سکول عمر کوٹ۔  گرلز ہائر سیکنڈیری سکول فاضل پور۔ ہائرسیکنڈیری سکول محمد پور۔ ہائی سکول ٹبی لنڈان۔ ماڈل ہائی سکول جام پور۔ بوائز ہائی سکول کوٹلہ دیوان۔ ہائی سکول ٹبی سولگی۔  رکھ ماڈل ویلج اور دیگر شامل ہیں۔ سکولوں میں سربرہان کی عدم تعنیاتی کی وجہ سے جونیئر اساتذہ کو چارج دے کرکے کام چلایا جانا لگا۔ کئی سالوں سے مزکوہ تعلیمی ادارے سربرہان سے محروم چلے آرہے ہیں۔ جونیئر اساتذہ کے پاس چارج ہو نے سے جہاں انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں وہاں پر سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں کئی سکولوں میں گروپ بندی کی وجہ سے نظام تباہ ہو کر رہ گیاہے۔ شہریوں جاوید خان۔ علی محمد۔ امام بخش کے علاوہ پنجاب ٹیچرز یونین ضلع صدر سید قیصر حسین بخاری نے وزیر اعلی پنجاب اور سیکرٹری تعلیم پنجاب سے فوری طور پر سربرہان اداروں کی تقریری کا مطالبہ کیا ہے۔ 

لاوارث

مزید : ملتان صفحہ آخر