رولز کے برعکس ملازمین کو ترقی‘ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کیخلاف درخواست‘ انکوائری شروع

رولز کے برعکس ملازمین کو ترقی‘ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کیخلاف درخواست‘ ...

  



ملتان(وقائع نگار)شاہ رکن عالم کے رہائشی شریف انصاری نے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے۔کہ محکمہ صحت ملتان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر منور عباس نے اپنے ملازمین کو محکمانہ ترقی دینے کیلئے فی کس تقریبا دو سے تین لاکھ روپے(بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

وصول کیئے۔اور جب شکایت ہونے لگی تو مذکورہ ترقیوں کے احکامات کو خاموشی سے واپس کر لیئے جاتے ہیں۔تاکہ لوگوں کو یہ ظاہر ہو کہ غلطی سے آڈر ہوگئے ہیں۔شہری شریف انصاری نے مزید اپنی درخواست میں انکشاف کیا ہے محکمہ صحت ملتان کے ملازمین کی ترقی دینے سے پہلے ان سے ڈیل کی گئی۔اور انکے بقایا جات کی وصولی کے بعد اپنا تقریبا چالیس فی صد کمیشن بھی وصول کیا گیا ہے۔جسکے صرف کمشن کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔درخواست گزار کے مزید مطابق ڈاکٹر منور عباس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال بھی بے دریغ کیا ہے۔کیونکہ موجودہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اس سے قبل ڈی ایچ او کے عہدے پر ملتان تعینات ہے۔جس سے سی ای او زبردستی مختلف اڈروں پر دستخط کرواتا تھا۔ کڈنی سنٹر کے ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے ان سے اٹھارہ لاکھ روپے بطور رشوت وصول کی۔مگر تاحال انکا کام نہیں کیا گیا۔جسکی انکوائری اینٹی کرپشن ملتان میں زیر سماعت ہے۔ایک لیڈی ڈاکٹر کو ایکس پاکستان ریلیو رولز کے برعکس دی گئی ہے۔ایک ایل ایچ وی کی اپیل مسترد ہونے کے باجود نئے ضلعی انتظامی افسر کو دھوکے میں رکھ کر مذکورہ ایک ایچ وی کو فایدہ دیا گیا۔شہری محمد شریف نے اس حوالے سے صوبائی سیکرٹری صحت پنجاب کو درخواست دی۔تو اس پر انکوائری افسر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ملتان ڈاکٹر وسیم رمزی کو انکوائری افسر مقرر کیا یے۔جو انکوائری کے بعد اپنی رپورٹ ایک ہفتہ کے اندر بھیجوائیں گے۔جبکہ دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفسیر ڈاکٹر منور عباس کا کہنا ہے کہ شہری کیجانب سے لگائے گئے تمام الزامات درست نہیں ہیں۔اور نہ ہی ان میں کسی قسم کی کوئی صداقت ہے۔درخواست سامنے آنے پر جواب دیا جائے گا۔

انکوائری

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...