ٹبہ سلطان پور‘ ڈاکٹر کی لاپروائی‘مریض جاں بحق‘ ورثا کا احتجاج 

ٹبہ سلطان پور‘ ڈاکٹر کی لاپروائی‘مریض جاں بحق‘ ورثا کا احتجاج 

  



دوکوٹہ (نا مہ نگار،نمائندہ پاکستان) نواحی کوٹ ملک دوکوٹہ کے رہائشی چوہدری عباس علی نے بتایا کہ 19دسمبر بروز جمعرات کو شام ساڑھے چار بجے کے قریب اپنے رشتہ دار عبد الغفار کو ایمر جنسی کی صورت میں ملتان نشتر لے کر جا رہا تھا کہ ٹبہ سلطان پور کے قریب اس کی حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے میں اسے رورل ہیلتھ سنٹر ٹبہ سلطان پور میں لے گیا وہاں پر ڈاکٹر عدنان اور دیگر عملہ ڈیوٹی پر(بقیہ نمبر58صفحہ12پر)

 موجود تھا میں نے ان کو مریض کی تشویشناک حالت سے آگاہ کرتے ہوئے فورا علاج معالجہ کرنے کو کہا تو وہ ٹھس سے مس نہ ہوا اور موبائل فون پر مصروف رہا میرے بار بار اصرار پر اس نے دیگر عملہ کے ہمراہ بد دلی سے مریض کو چیک کرنے کے بعد آکسیجن لگا دی اور مجھے کہا کہ مریض کیلئے میڈیسن بازار سے لے کر آؤ میں میڈیسن لے کر آیا تو ڈاکٹر سمیت باقی عملہ مریض کو چھوڑ کر پھر سے موبائل میں مصروف ہو گئے میں نے ان کو ادویات لا کر دیں تو ڈاکٹر عدنان غصے میں آ گئے کہ تم ہمیں بار بار تنگ کر رہے ہو اس نے یہ کہہ کر مریض کی آکسیجن اتار پھینکی اور مجھے کہا کہ اس جہاں چاہو لے جاؤ میں نے اس کا علاج نہیں کرنا ڈاکٹر نے مجھے آدھا گھنٹہ سے زائد خور کرنے کے بعد ہسپتال سے نکال دیا میں اپنے مریض کو ملتان نشتر لے کر پہنچا تو وہاں مریض وفات پا گیا عباس علی نے کہا کہ ڈاکٹر عدنان بدتمیزی میں اپنی مثال آپ ہے اس کی ہٹ دھرمی اور لیٹ کرنے کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہوئی اور یہ ہر آنے والے مریض کو ہسپتال کی ادویات دینے کی بجائے بازار سے ادویات لانے پر مجبور کرتا ہے متاثرہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب،کمشنر ملتان،ڈپٹی کمشنر وہاڑی اور سی ای او ہیلتھ وہاڑی سے مطالبہ کیا ڈاکٹر عدنان کو معطل کر کے اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔

ورثا 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...