لاہور واقعہ‘ وکلاء کی ہڑتال‘ تالا بندی‘ علامتی دھرنے‘ احتجاجی ریلیاں

لاہور واقعہ‘ وکلاء کی ہڑتال‘ تالا بندی‘ علامتی دھرنے‘ احتجاجی ریلیاں

  



ملتان‘ بہاولپور‘ مظفر گڑھ‘ میلسی (خبر نگار خصوصی‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر‘ نامہ نگار‘ سپیشل رپورٹر) لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان تنازعہ اور وکلاء کی گرفتاریوں کے خلاف صوبہ بھر کی طرح ملتان بار نے بھی مکمل ہڑتال کی اور مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث بیشتر مقدمات کی سماعت ملتوی کردی گئی اور پولیس کی جانب سے ملزموں کو جیل اور تھانوں سے عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سائلین کو شدید مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے۔اس ضمن میں پنجاب بار کونسل کی(بقیہ نمبر34صفحہ12پر)

جانب سے کہا گیا تھا بے گناہ گرفتار وکلاء کو رہا کیا گیا نہ ہی مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات کو ختم کیا گیا بلکہ حکومت نے انتہائی سردمہری کا مظاہرہ کیا اور اجلاس میں طے پایا تھا کہ غیر معینہ مدت تک پنجاب بھر کی عدالتوں میں مکمل ہڑتال اور تالہ بندی کی جائے گی اور مقامی عہدیداران بار ایسوسی ایشنز کی قیادت میں احتجاجی ریلیاں نکالیں گے اور ایک گھنٹہ کیلئے احتجاجی دھرنا بھی دیا جائے گا۔لیکن ملتان بار نے صرف ہڑتال کی اور مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ پنجاب بارکونسل کی ہدایت پربہاولپوربارایسوسی ایشن کی جانب سے احاطہ عدالت کے انٹری گیٹ کوتالہ لگاکرتالہ بندی کی گئی بعدازاں جنرل ہاؤس بارروم میں منعقدہوا جس کی صدارت میاں محمداظہر ایڈووکیٹ نے کی اورسیکرٹری کے فرائض شیراز احمدبری ایڈووکیٹ نے انجام دیئے میاں محمداظہرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی سالمیت آئین اورقانون پرعمل درآمد کیلئے وکلااپناکرداراداکرتے رہیں گے کوئی قوت وکلا کوتقسیم نہیں کرسکتی اورنہ ہی انسانیت کی خدمت سے روک سکتی ہے انہوں نے کہاکہ وکلامتحدہیں وکلا کے وقار اورعزت کی جانب اٹھنے والے ہاتھ روک دیئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ ملک کی سلامتی کی خاطر تمام ادارے اپنی حددومیں رہتے ہوئے کام کریں اس موقع پرمہمان اعزاز سابق ممبرپنجاب بارکونسل ظفراقبال اعوان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وکلا کیخلاف درج ہونیوالے مقدمات فوری طورپرخارج کیے جائیں اوروکلاپرظلم وستم وتشدد کرنیوالے ڈاکٹراوران کے عملہ کیخلاف فوری طورپرکاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہے اس موقع پر مخدوم کلیم اللہ ہاشمی، سردار رضاحسین لودھی، چوہدری محمدسرور، خالد محمودعباسی اورافشاں نازایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیابعدازاں بارروم کے باہروکلانے دھرنادیااورنعرے لگائے ناروں کی گونج ہرطرف سنائی دی کہ وکلا متحدہیں ا ورزندہ ہیں اورکلاکیخلاف درج ہونیوالے مقدمات فوری طورپرختم کرتے ہوئے وکلا کوفی الفور رہاکیاجائے اورحکومت اس مسئلہ کوفوری طورپرحل کرے ورنہ مستعفی ہوجائے۔ پنجاب بار کونسل کی طرف سے عدالتوں کے لاک ڈاؤن اور احتجاجی دھرنوں کے اعلان اور فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے مظفرگڑھ سمیت جنوبی پنجاب کی تمام ضلعی اور تحصیل بارز نے گرفتار وکلاء کی رہائی, دہشت گردی کی دفعات حذف نہ کرنے اور ڈاکٹرز کی عدم گرفتاری کے خلاف پیر کو فل ڈے ہڑتال اور مکمل عدالتی بائی کاٹ کیا. جبکہ پنجاب بار کونسل کے فیصلے کے مطابق بار عہدے داران نے ایوان عدل مظفرگڑھ میں عدالتوں کی تالابندی کی. وکلاء نے بار روم سے احتجاجی ریلی نکالی اور علامتی دھرنا دیا گیا. جس میں صدر بار مہر اعجاز احمد, جنرل سیکرٹری بار ظفر اقبال انصاری اور دیگر وکلاء نے شرکت کی. جبکہ پولیس پر کچہریوں میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے نہ تو ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیا جا سکا ہے اور نہ ہی مقدمات کی سماعت ہو پا رہی ہے. جس سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے. صوبہ کا جوڈیشل سسٹم جام ہو کر رہ گیا ہے. دریں اثناء پنجاب بار کونسل نے وکلاء کی رہائی تک لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس پر پیر سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے جو تا فیصلہ ثانی جاری رہے گا. وکلا کی ہڑتال بارہویں روز میں داخل ہوگئی میلسی بار کے وکلاء پی آ ئیں سی لاہور واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کی وجہ سے کئی مقدمات کی سماعت التوا میں رہی اور سائلوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔

ریلیاں

مزید : ملتان صفحہ آخر