شہید شہزادی کی 12ویں برسی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید 21جون 1953ء تا 27دسمبر 2007ء

شہید شہزادی کی 12ویں برسی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید 21جون 1953ء تا 27دسمبر 2007ء

  



27دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 12ویں برسی ہے۔ گویا دختر مشرق کو ہم سے جدا ہوئے 12برس بیت گئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ان عالمگیر سیاستدانوں کی تسبیح کا ایک روشن دانہ تھیں جو سیاست، شہریت اور ریاستی نظم و نسق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ محترمہ ریاست کے اعلیٰ منصب تک پہنچنے کے لئے ان تمام خارزاروں سے گزری تھیں جو غیر متزلزل قلب و ذہن کے مالک کو تجربات کی بھٹی سے گزار کر کندن بناتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان سے قلبی محبت تھی اور یہ محبت ٹھوس جذبات پر استوار تھی۔ بیرون ملک سے پاکستان وارد ہوتے ہی انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار اپنی کتاب ”مفاہمت، اسلام،جمہوریت اور مغرب“ (Reconcitiation-Islam, democracy & The West) کے آغاز میں جس خوبصورتی سے بیان کیا ہے، وہ محترمہ شہید ہی کا خاصہ ہے۔ وہ لکھتی ہیں

”18اکتوبر 2007ء کو کراچی کے قائداعظم بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹارمک پر جونہی میں نے قدم رکھا، جذبات نے مجھے اپنے غلبے میں لے لیا۔ سیاست سے وابستہ دیگر خواتین کی طرح میں اپنا پُر سکون انداز برقرار رکھنے میں بالخصوص حساس واقع ہوئی ہوں“۔ سیاست یا حکومت سے منسلک خاتون کی جانب سے جذبات کے اظہار کو غلط طور پر کمزوری سمجھا جاتا ہے، لیکن آٹھ برس کی تنہا او رمشکل مدت کی جلا وطنی کے بعد میرے قدموں نے جونہی میرے محبوب پاکستان کی دھرتی کو چھوڑا، میں اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکی اور میں نے اپنا سر تعظیم میں بطور ادائیگی ء شکر اوپر اٹھایا۔ میں پاکستان کی سرزمین پر متحیر کھڑی تھی۔ میں نے محسوس کیا جیسے ایک بھاری بوجھ، ایک بہت بڑا وزن میرے کندھوں سے اتر گیا ہے۔ آزادی کا ایک احساس سا تھا۔ بالآخر میں گھر پہنچ گئی۔ میں جانتی تھی کہ میں کیوں آئی ہوں اور مجھے کیا کرنا ہے“۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی تاریخ کا ایک دلدوز سانحہ ہے۔ قائد ملت لیاقت علی خانؒ کی شہادت کے بعد اپنوں اور اغیار کی ملی بھگت اور سازش سے رونما ہونے والا یہ المیہ اگرچہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی بنیادوں پر ایک شدید ضرب تھا تاہم ملک سنبھل گیا۔ پاکستان کے سنبھلنے نے اس حقیقت کو سچ ثابت کر دکھایا کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور بقول قائد دنیا کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کر سکتی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اقتدار تک پہنچنے کے لئے ایک طویل سفر طے کیا تھا۔ قدرت نے محترمہ کو ہر آزمائش میں کامیاب کیا جو ایک اچھے ملکی رہنما کی تربیت اور بہتری کے لئے ضروری گردانی جاتی ہے۔ محترمہ ایک عظیم باپ کی بیٹی تھیں۔ سیاست ورثے میں پائی تھی تاہم سیاست کے اسرار و رموز پانے میں ان کے اپنے مضبوط وجدان کا عمل دخل زیادہ تھا۔ سیاست دان، بیٹی، بیوی، ماں اور وزیراعظم کے ہر روپ میں محترمہ بے نظیر نے بڑے پن کا ثبوت دیا اور اندرون و بیرون ملک اپنی قابلیت اور لیاقت کی دھاک بٹھائی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کے ساتھ ساتھ مغرب کی سیاست و تہذیب سے پوری طرح آگاہ تھیں۔ غیر ملکی سیاسی رہنما اس حقیقت سے آشنا تھے۔یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں داؤ پیچ کے حوالے سے محترمہ کو زک نہیں پہنچائی جا سکتی تھی۔ محترمہ نے جتنا عرصہ بھی اقتدار میں گزارا انہوں نے پاکستان کے بہترین امیج کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے آمریت کا بدترین چہرہ دیکھا تھا۔ انتہائی نامساعد حالات میں محترمہ بے نظیر نے ہمت، جرأت اور استقامت کا قابل تحسین مظاہرہ کیا اور بالآخر سرخرو ہوئیں۔ محترمہ شہیدنے پاکستانی سیاست کو ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کا پُراز حکمت سلوگن دیا۔ محترمہ نے اپنے تجربات سے متانت، سنجیدگی اور درگزری سیکھی تھی اس لئے جمہوریت بہترین انتقام ہے، ان کے دل سے اٹھنے والی سب سے بلند آواز تھی۔

آکسفورڈ کی طلباء یونین کی صدارت پر فائز رہنے والی دھان پان سی لڑکی پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئی تو اس نے اپنے کردار کی پختگی اور اپنے بے پناہ عزم سے خود کو ایک ایسی مضبوط سیاسی شخصیت کے طور پیش کیا کہ دیکھنے والے حیران اور متذبذب رہ گئے۔ ملک کی فلاح کے لئے محترمہ شہید نے گراں قدر اقدامات کئے تھے۔ اپنے دورِ حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے پاکستان کی ساکھ اور اس کے وقار کے لئے کارہائے نمایاں اس طور سرانجام دیئے کہ ان کا نام عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔

گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں ابدی نیند سونے والی دختر مشرق اور سیاست کی شہزادی کی یاد ہر برس 27دسمبر کو لوگوں کو سوگوار کرتی ہے۔ اللہ کریم کے حضور میں شہید محترمہ کے ایصالِ ثواب کے لئے دعا گو ہوں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے استحکام و استقلال اور پائیداری کے لئے اللہ پاک سے مدد اور استعانت کی طالب ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1