گیس کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے: عبد السمیع خان 

گیس کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے: عبد السمیع خان 

  



کراچی(اکنامک رپورٹر) آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان  24گھنٹے کے اندر سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کوگیس کی فراہمی بحال نہ ہونے پر ایس ایس جی سی کے دفتر کا گھیراؤکرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجود ہ حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ہمیں گیس کا دینے کا جو وعدہ کیا گیا ہے اس کی پاسداری کی جائے۔حکومت گیس فراہم نہیں کرسکتی ہے تو ہمیں جگہ اور مشینری کا معاوضہ ادا کیا جائے۔حکومت نے بر وقت اقدامات نہ کئے تو بیروگاری سے تنگ آکر لوگ سڑکوں پر آجائیں گے اور خود کشی کرنے لگیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں چیئرمین سندھ سی این جی ایسوسی ایشن ممتاز علی اور سمیر گلزار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔عبدالسمیع خان نے کہا کہانہوں نے کہاکہ کیپٹو پاور20فیصد گیس استعمال کرہا ہے۔ کنٹریکٹ کے مطابق ایس ایس جی سی پابند ہے کہ انہیں یکم دسمبر سے 28 فروری تک گیس سپلائی نہیں دی جائے گی۔عبدالسمیع خان نے کہا کہ 24ایم ایم سی ایف ڈی گیس سندھ کی پیدوار ہے اور پورا سی این جی سیکٹر 62ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کررہا ہے پھر ہمارے لیے گیس بند کردی جاتی ہے۔آئین کے مطابق پہلا حق صوبے ہے۔ہم پر انڈسٹریل ٹیرف لاگو کیو نہیں ہوتا ہے۔ ہم وہ واحد انڈسٹری ہیں جو ایڈوانس ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پھر بھی ہم سے سوتیلی ماں والا سلوک کیا جارہا ہے۔حکومت نے بر وقت اقدامات نہ کئے تو بیروگاری سے تنگ آکر لوگ سڑکوں پر آجائیں گے اور خود کشی کرنے لگیں گے۔ہمیں علم نہیں کہ حکومت کیا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ  صوبے میں گیس سپلائی کی صورت حال کبھی اتنی خراب نہیں تھی جتنی آج ہے۔ہم برآمدی شعبوں کے خلاف نہیں ہیں ہم صرف اپنا 6فیصد حصہ مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ہمیں گیس دینے کے وعدے کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔جہاں گیس کی چوری ہورہی ہے وہاں بھرپور گیس فراہم کی جارہی ہے۔حکومت طے کرے کہ اگر اس نے گیس فراہم نہیں کرنی ہے تو پھر ہمیں جگہ اور مشینری کا معاوضہ ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ اوگرا سی این جی کے خلاف ہے۔اگر 24گھنٹے کے اندر سی این جی اسٹیشنز پر گیس کی فراہمی بحال نہیں ہوئی تو ایس ایس جی سی کے دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔چیئرمین سندھ سی این جی ایسوسی ایشن ممتاز علی نے کہا کہ محنت کش طبقہ سی این جی ایسٹیشنز پر اپنی راتیں گزارتا ہے۔اگرحکومت نے گیس کا مسئلہ حل نہیں کیا تو ہم پنجاب جانے والی ہائی وے بند کردینگے۔ہم اپنا حق پنجاب کو کھانے نہیں دینگے۔سمیر گلزار نے کہا کہ سندھ میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ہمیں ایل ایم جی خریدنے کا کہہ رہے تا کہ پنجاب کو سستی گیس ملے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر