آرٹس کونسل کراچی، اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود آڈٹ رپورٹ کی منظور ی

آرٹس کونسل کراچی، اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود آڈٹ رپورٹ کی منظور ی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں قندیل جعفری پر تشدد کے معاملے پر رپورٹ میں شامل کرنے کے مطالبے کو مستردکرتے ہوئے گذشتہ برس کے حسابات اور آڈٹ رپورٹ کی منظوری جبکہ گذشتہ برس ہونے والے جنرل باڈی اجلاس کے منٹس کی توثیق بھی کردی گئی۔اس ضمن میں دی آرٹس فورم کے مبشر میرنے کہا ہے کہ جنرل باڈی اجلاس کی کارروائی رپورٹ میں حقائق کو چھپانے کی غیر قانونی کوشش کی گئی ہے، یہ روایت اور قانون دونوں کے منافی ہے۔ اردو کانفرنس میں بعض حساس موضوعات چھیڑے گئے جس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ملک کے سلامتی اداروں پر تنقید کی گئی، انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، یہ عمل قابل مذمت ہے۔تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل آف پاکستان کی جنرل باڈی کا عمومی اجلاس اتوار کی شام ذوالفقار بخاری اوپن ایئر تھیٹر میں چیئرمین کمشنر کراچی افتخار شہلوانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ قاری محمود حامد قادری نے تلاوت قرآن اور نعت رسول مقبول ؐ کی سعادت حاصل کی۔ایجنڈے کے آغاز میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے بولنے کی کوشش کی تاہم چیئرمین نے رولنگ دی کہ ایجنڈے کی کاروائی کے مطابق انہیں بولنے کی اجازت دی جائے گی۔ کارکردگی رپورٹ کی منظوری کے بعد کمشنر نے آڈٹ رپورٹ کی منظوری کے لئے اراکین کو ہاتھ اٹھانے کے لیے کہا جس پر بعض اراکین نے نامنظور نامنظور کے نعرے بلند کیے، تاہم اراکین کی اکثریت نے ہاتھ اٹھا کر منظوری دیدی، کمشنر نے حزب اختلاف کی جانب سے مبشر میر کو بات کرنے کی اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس 23 دسمبر کو منعقدہ جنرل باڈی میں اس وقت گورننگ باڈی کے لیے امیدوار اور خاتون رکن قندیل جعفری پر تشدد کیا گیا جس کی ایف آئی آر درج کرائی گئی اور اب یہ معاملہ اعلیٰ عدالت میں ہے، مگر اس انتہائی سنجیدہ معاملے کا ذکر جس میں آرٹس فورم پینل کا احتجاج بھی ہوا تھا، گول کردیا گیا۔ یہ خلاف قانون ہے جنرل باڈی اجلاس کی کاروائی رپورٹ میں حقائق کو چھپانے کی غیر قانونی کوشش کی گئی ہے، یہ روایت اور قانون دونوں کے منافی ہے۔ آرٹس کونسل پڑھے لکھے لوگوں کا ادارہ ہے، یہاں لوگوں کو اظہار کی آزادی ہونے چاہیے، مگر بعض اراکین بات سننے پر تیار نہیں ہیں، یہ شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ کی کاپی ایجنڈے کے ساتھ بھیجنی چاہیے تھی، جو نہیں بھیجی گئی، آڈٹ رپورٹ کی کاپی نہ بھیجنا خلاف قانون ہے۔  مبشر میر نے مزید کہا کہ اردو کانفرنس میں بعض حساس موضوعات چھیڑے گئے جس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ملک کے سلامتی اداروں پر تنقید کی گئی، انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، یہ عمل قابل مذمت ہے۔ احمد شاہ پینل کی حمایت کرتے ہوئے شکیل خان نے کہا کہ جو معاملہ  عدالت میں ہے اس پر یہاں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے اراکین کی اکثریت موجودہ منتخب عہدیداران کی کارکردگی سے 100 فیصد متفق ہے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔اجمل خٹک محشر نے کہا کہ مبشر میر غلط انداز میں بات کو لے جارہے ہیں، میں ان کی جانب سے اراکین کو غلط طور پر ملوث کرنے کے عمل پر احتجاج کرتا ہوں۔ محمد اسلم خان نے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے احمد شاہ گروپ مادرپدر آزاد ہے، اور اس کے اراکین احمد شاہ کی بات بھی ماننے پر تیار نہیں۔ ایک مہذب ایوان کے افراد کا یہ رویہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اپنے خلاف سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے، قاری صداقت علی نے کہا کہ آرٹس کونسل میں کرپشن کی سرپرستی کی جارہی ہے اس سلسلے میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔کمشنر کراچی افتخار شہلوانی نے آخر میں اجلاس اگلے اجلاس تک ملتوی کردیا۔ جس کے بعد اراکین پرتکلف عشائیے سے لطف اندوز ہوئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر