سرکاری سکولوں کا معیار بہتر بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، ڈی سی بونیر 

سرکاری سکولوں کا معیار بہتر بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، ڈی سی بونیر 

  



 بونیر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ڈپٹی کمشنر بونیر محمد خالد نے گور نمنٹ ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولز کے پرنسپلز کے منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سرکاری سکولوں کی معیار کو بہتر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔بونیر تعلیمی لخاظ سے صوبہ خیبر پختون خواہ کے پسماندہ اضلاع میں شمار کیاجاتاہے۔اس معیار کو دوسرے اضلاع کی برابر کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔بونیر میں اس وقت تقریبا 94 ہزار بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو سردی کے موسم میں دوماہ مفت ونٹر کیمپ قائم کی جائے گی۔جس میں جماعت نہم اور دہم کے طلباء کومفت ٹیوشن پڑھایاجائے گا۔ڈی سی بونیر نے کہا کہ جب تک ہم تعلیمی میدان میں ترقی نہیں کریں گے۔ہم ترقی نہیں کرسکتے۔اجلاس میں ڈپٹی ڈی ای او لیاقت علی خان۔ڈی ای او فنانس ملک شیر احمد۔افتحارندیم اور محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ ساتھ گور نمنٹ ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولز کے پرنسپلز اور انچارج نے شرکت کی۔پرنسپلز نے سکولوں میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ سکولوں میں ہزاروں طلباء زیر تعلیم ہے۔مگر ان کو کمروں میں بھیٹنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔بہت سے سرکاری تعلیمی اداروں میں چار دیواری،پانی،بجلی اور بہت سے مسائل کا سامناہے۔مگر اسکے باوجود ہم بچوں کو معیاری تعلیم دینے کی کو شیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین انتہائی غریب ہوتے ہے۔اور وہ سکول کے ساتھ رابطہ تک نہیں کرتے۔ڈپٹی ڈی ای او لیاقت علی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیاہے کہ جماعت نہم اوردہم کے طلباء کو مفت ٹیوشن پڑھایا جائے گا۔تاکہ ہمارے انے والا رزلٹ بہتر ہوسکے۔اس مقصد کے لئے انہوں نے چار پرنسپلز پر مشتمل کمیٹی قائم کردی۔جوڈی سی بونیر کو رپورٹ پیش کرے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر