کوہاٹ،بیوٹیفیکیشن فنڈ میں خورد برد کی تحقیقات کی جائیں،امیر خان آفریدی

کوہاٹ،بیوٹیفیکیشن فنڈ میں خورد برد کی تحقیقات کی جائیں،امیر خان آفریدی

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کرپشن کے خاتمے کے نام پر قائم حکومت بیوٹیفیکیشن فنڈ میں ہونے والے مبینہ خردبرد کے احتساب کے لیے کمیشن قائم کرے تاکہ اربوں روپے کے فنڈ میں ہونے والی بے ضابطگیاں سامنے آ سکیں ان خیالات کا اظہار کوھاٹ قومی تحریک کے چیئرمین امیر خان آفریدی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کوھاٹ کو خوبصورت بنانے کے لیے اربوں روپے کا فنڈ ملا مگر اس فنڈ سے کوئی ٹھوس اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبے نہ بنائے جا سکے بلکہ اس سے کوھاٹ میں غیر ضروری ٹریفک سگنلز لگا دیئے گئے جن کی کوھاٹ جیسے چھوٹے شہر میں قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی ٹریفک سگنلز بڑے شہروں میں ضروری ہوتے ہیں جہاں پر چاروں جانب سے ٹریفک کارش ہوتا ہے کوھاٹ میں لگائے گئے سگنلز سے عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا کیوں کہ یہ ابتداء سے آج تک خراب حالت میں کھڑے ہیں اسی طرح بونا شریف اور جنگل خیل چشمہ جات میں جو کام ہوا اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو سکا کیوں کہ چند ہی ماہ گزرنیکے بعد ان چشموں کی حالت پہلے سے بھی خراب ہو گئی ہے کیوں کہ ان چشمہ جات کی دیکھ بھال اور صفائی کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیاتھا اسی طرح رنگ دے کوھاٹ منصوبے میں محمد زئی‘ بلی ٹنگ اور بابری بانڈہ کے قریب دیواروں پر رنگ کیا گیا تھا کہ اس سے خوبصورتی دکھائی دے گی مگر افسوس کہ یہاں پر بھی دیواروں پر ڈسٹمپر کے بجائے چونے میں سستا رنگ ملا کر دیواروں کو خوبصورت بنایا گیا مگر افسوس دو بارشوں کے بعد یہ رنگ غائب ہو گیا کمپنی باغ کو فیملی پارک کا نام دے کر اس میں چند جھولے اور واکنگ ٹریک بنا کر کروڑوں روپے اس پر خرچہ ظاہر کیا گیا مگر افسوس کہ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے احمد فراز پارک منصوبہ جس پر لگ بھگ 1 کروڑ خرچ ہو چکا تھا وہ آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں کے ڈی اے پارک کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے البتہ کوھاٹ میں داخلی دراوزے چند سڑکوں کے ساتھ فٹ پاتھ اور قلعہ گراؤنڈ میں جو کام ہوا ہے اس سے کوھاٹ کی خوبصورتی میں کچھ اضافہ ضرور ہوا مگر اربوں روپے کے فنڈ سے کوئی ایسا منصوبہ نہ بن سکا جس سے عوام کو سہولت میسر آ سکے قبرستاتوں کے گر بعض جگہوں پر چار دیواری بنائی گئی مگر سوا لکھ قبرستان میں ٹوٹی پھوٹی جنازہ گاہوں کی مرمت کا خیال کسی کو نہ آیا قومی تحریک کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کے فقدان کیوجہ سے آج بھی کوھاٹ کی عوام بنیادی مسائل کا شکار ہے انہوں نے کرپشن کو ختم کرنے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوھاٹ میں گیس رائلٹی اور خصوصاً بیوٹیفیکیشن فنڈ سے جو اربوں روپے خرچ کیے گئے ان کا صاف اور شفاف احتساب نیب کے ذریعے کیا جائے کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملنے والی رقوم کہاں خرچ کی گئیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر