خیبر پختونخوا حکومت نے ضابطہ دیوانی میں ترمیم عجلت میں کی، حق نواز خان

خیبر پختونخوا حکومت نے ضابطہ دیوانی میں ترمیم عجلت میں کی، حق نواز خان

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوابارکونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو حق نوازخان نے کہاہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے ضابطہ دیوانی میں ترامیم عجلت میں کی جس میں وکلاء کے نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیااوراسی بناء آج ان ترامیم سے عوام مشکلات سے دوچارہے پیرکے روز پشاورمیں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین ایگزیکٹوحق نوازخان نے کہاکہ ضابطہ دیوانی میں ترامیم کرکے ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ کورٹ کے اختیارات ختم کردئیے گئے ہیں تاہم ایکٹ نافذ ہو نے سے شہریوں پربوجھ ڈال دیا گیا ہے،کیونکہ ترامیم کے شہادت کمیشن کے زریعے کیا جائے گے جو کہ مسائل کا سبب بنے گا لہذاحکومت ضابطہ دیوانی میں ترامیم فی الفورواپس لے اوروکلاء کو اعتماد میں لے کراس میں ترامیم کرے تاکہ عوام کوجلد اورفوری انصاف میسرہوسے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہر تال کی وجہ سے سائلین کے ساتھ ساتھ وکلا کو بھی مشکلات کاسامنا ہے وکلا روز کسی نہ کسی مسئلے کا شکار ہوتے ہے،سال 2019میں اب تک 13مرتبہ ہڑتال کی گی ہے حکومت کووکلاء کے مسائل پرغورکرناچائیے انہوں نے خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے خلاف فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کا فیصلے ٹھیک ہے تاہم فوج اور عدلیہ میں تناؤ نہیں ہونا چاہے،ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ان کاکہناتھا کہ ملک کے لیے سکیورٹی کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فوری اورسستے انصاف کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ میں ججوں کی کمی کے مسئلے پربھی غورکیاجائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر