مقبوضہ کشمیر، فائرنگ سے 2پولیس اہلکار، زخمی 2نوجوان گرفتار

مقبوضہ کشمیر، فائرنگ سے 2پولیس اہلکار، زخمی 2نوجوان گرفتار

  



سرینگر/ نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ جموں و کشمیر کے کشتواڑ کی سمنا کالونی میں فلٹر پلانٹ پولیس چوکی پر حملے میں پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دو اہلکار محمد سلیم اور اجے کمار زخمی ہوگئے۔زخمی پولیس اہلکاروں کو مقامی ضلع ہسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا جبکہ بھارتی فوجیوں نے سوپور اور ترال قصبوں میں کارروائی کے دوران2 نوجوانوں کو گرفتا ر کرلیا۔وادی میں جموں و کشمیر سٹوڈنٹس اینڈ یوتھ فورم نے پلوامہ، کولگام، شوپیان اور اسلام آباد اضلاع سمیت وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں ا حتجاجی مظاہرے کئے اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سٹوڈنٹس اینڈ یوتھ فورم کے چیئرمین منظور احمد بٹ نے ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں جاری بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا کی سب بڑی نام نادجمہورت کے دعویدار بھارت کا ظلم و بربریت کا اور فرقہ پرست چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔انہوں نے مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے خبردارکیا کہ اگر تنازعہ کشمیر کو مزید تاخیر کئے بغیرحل نہ کیاگیا تو اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ تنازعہ کشمیر کی وجہ میں خطے میں کسی بھی وقت ایٹمی جنگ چھڑ جانے کا خدشہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو امید ہے کہ مہذب دنیا اور آزادی پسند اور انسانی حقوق کے علمبردار بھارت کے غیر انسانی اور ظالمانہ طرز عمل پراس کے خلاف کاررائی کریں گے اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری فوجی محاصرے کے خاتمے اور سیاس، سماجی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے مودی کی قیادت میں فرقہ پرست بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مسلط کر دہ فوجی محاصر ہ مسلسل142ویں روز بھی جاری رہنے کی وجہ سے وادی کشمیر,جموں اور لداخ میں نظام زندگی بدستور مفلوج اور لوگ شدید مشکلات سے دوچارہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر میں دفعہ 144کے تحت عائدسخت پابندیوں، بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی، پری پیڈ موبائل فون، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل ہونے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ایک دوسرے سے رابطہ بھی نہیں کرسکتے۔حریت رہنما اور جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم میر کی زیر صدارت جموں میں مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے اجلاس میں بھارتی پارلیمینٹ کی طرف سے حال ہی میں مسلمان مخالف شہریت کے متنازعہ قانون کی منظور ی کے بعد پید ا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے متنازعہ قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں ملک بدر کرنے کی بڑی سازش کاحصہ قرار دیا۔ تقریب کا اہتمام گاندھی پیس فانڈیشن، جموں و کشمیر فورم برائے امن اور علاقائی یکجہتی، جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ،بنگلہ دیش بھارت پاکستان پیپلز فورم، حق انصاف پارٹی، جموں وکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک موومنٹ، خدائی خدمت گار، سماج وادی سماگم، نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹ اورسوشلسٹ پارٹی انڈیا نے مشترکہ طورپر کیاتھا۔ دوسری جانببی جے پی کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات حلقوں کی نئی حد بندی کے بعد ہی ہوں گے، کشمیر میں نظر بند سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا فیصلہ ایک مناسب وقت پرکیا جائے گا۔اننت ناگ میں ٹاؤن ہال اچھبل میں پارٹی کنونشن کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے لیکن اس سے پہلے حلقہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ5اگست کے بعد حراست میں لیے گئے تین سابق وزرائے اعلی سمیت سیاسی رہنماؤں کی رہائی پر بی جے پی رہنما نے کہا کہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے تاہم، اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ صورتحال کو مدنظر رکھنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں بی جے پی رہنما نے کہا کہاگرچہ اس معاملے کو لے کر ملک کے متعدد حصوں میں تشدد پھوٹ پڑا ہے لیکن کشمیر میں صورتحال پرامن رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادی کے لوگ بی جے پی کے ایجنڈے کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔ کشمیر میں لوگ آرٹیکل 370 اور سی اے اے کی منسوخی کے خلاف احتجاج نہیں کر رہے ہیں وہ یہ امن کی ضمانت ہیں اور جس کے لیے انہیں سلام پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول