بلوچستان اسمبلی، بھارتی امتیازی شہریت کے ترمیمی ایکٹ کیخلاف مذمتی قرار داد منظور

بلوچستان اسمبلی، بھارتی امتیازی شہریت کے ترمیمی ایکٹ کیخلاف مذمتی قرار داد ...

  



کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان اسمبلی میں بھارتی حکومت کی جانب سے امتیازی شہریت کے ترمیمی ایکٹ 2019کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی گوادر کے مسائل حل نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ گوادر کے معاملے پر قانون سازی یا دیگر ترقیاتی منصوبوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیں گے تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے یقین دہانی کومسترد کیا اور کہا کہ حکومت جھوٹ کاسہارا لیکر عوام کوگمراہ کررہے ہیں اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کرنے کے بعد ا جلاس کو 26دسمبر تک ملتوی کر دیا بلوچستان اسمبلی کااجلاس پینل چیئر مین قادر علی نائل کی صدارت میں 1گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں خیبر پختونخوا کے سابق سینئر وزیر شہید بشیراحمد بلور کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی خدمات کو سراہاگیاایوان میں پارلیمانی سیکرٹری دنیش کمار نے مذمتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھارتی حکومت کی جانب سے امتیازی شہریت کے خلاف ترمیمی ایکٹ 2019کی متفقہ طور پر پرزورمذمت کرتے ہیں جو کہ نہ صرف جارحانہ اور امتیازی ہے بلکہ حالیہ قانون کی منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت خطرناک انتہاء پسندانہ رجحانات کو پروان چڑھا رہی ہے اور مذکورہ متنازعہ ترمیمی شہریت کے حوالے سے ایک گروہ کے حوالے سے ایسا مذہبی طریقہ کار طے کرتی ہے جو مساوات اور عدم امتیاز کی بین الاقوامی قدروں اور انسانی حقوق بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے، اس سلسلے میں واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کوا ٓئین کے تحت تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور ان کابھر پورتحفظ کیا جاتا ہے اور تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ اپنی اقلیتوں کو قومی دھارے کا حصہ تصور کرتے ہیں اوران کی فلاح وبہبود میں پیش ہیں اور پاکستان میں اقلیتیں ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنا  بھر پورکردادا کررہی ہے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے گوادر کے مسائل حل نہ ہونے پر شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے سپیکر ڈیسک کے سامنے دھرنادیا اور شدید نعرہ بازی کی اپوزیشن رکن ثناء بلوچ نے کہاہے کہ چھوٹے موٹے مسائل ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں پچھلے اسمبلی میں سرداراختر مینگل نے گوادر کے حوالے سے قرارداد پاس کیا کیونکہ گوادر میں انتقال آباد ی اور زمینوں کا مسئلہ ہے جب تک قانون سازی نہیں کی جاتی اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوسکتا حکومتی اراکین 3ماہ کاٹائم دیں اورقانون سازی کی حوالے سے ہمیں بتا یا جائے گوادر کے قدرتی وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے اور عوام کے حقوق پرکوئی سودا بازی نہیں کرینگے اپوزیشن رکن سید فضل آغا نے کہا کہ گوادر بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے اور وہاں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیاجائے اگرایسا نہ کیاگیا تو اس سے مزید مسائل پیدا ہونگے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے آئین وقانونی لحاظ سے جو بھی فیصلے ہوتے ہیں عوام کو اعتماد میں لیا جائے ہماری تجویز ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے اور اس میں تجاویز دیکر قانون سازی کریں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے گوادر کے حوالے سے حکومتی اقدامات واضح ہے اور ہم نے ہمیشہ گوادر کی ترقی وخوشحالی کیلئے اقدامات ا ٹھائے ہیں گوادر میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا تھا اور اس مسئلے کو کافی حد تک حل کردیاگیا گوادر میں بڑے پیمانے پر ترقی ہورہی ہے یونیورسٹی بند رہی ہے مزید بھی عملی اقدامات کئے جارہے ہیں 10ارب روپے کے پروجیکٹس گوادرمیں شروع ہیں جبکہ وہاں سے منتخب ہونے والے نمائندہ کافنڈ اس کے علاوہ ہے انہوں نے کہا کہ گوادر کے معاملے پر عوام کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کیا گیا حکومت بلوچستان مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے گوادر میں قانون سازی سمیت دیگر معاملات پراپوزیشن کوساتھ لیکر چلیں گے پینل آف چیئر مین نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت ہے تو قانون سازی کی جائے اوراپوزیشن وحکومتی اراکین ملکر پرانے بل کو لاکر قانون سازی کریں صوبائی صدر اصغر  خان اچکزئی نے کہا کہ چمن میں قبائلی رہنما کے گھر پر چھاپہ، چادر و چار دیواری کی پامالی کی مذمت کرتا ہوں قبائلی رہنما کے گھر پر چھاپہ کا نوٹس لیکر زمہ داروں سے وضاحت طلب کی جائے بشیر بلور اور انکے خاندان نے جمہوریت کیلئے جدو جہد کی صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اگر کسی گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے تو اس کا کیا نتیجہ نکلا کاروائی میں قانونی ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کیا گیا اپوزیشن رکن سیدفضل ا ٓغا نے کہا کہ کوئٹہ میں بنیادی سہولیات ناپید ہیں اٹھارہ ماہ میں حکومت کوئٹہ کے اسپتالوں کی حالت بہتر نہیں بناسکی۔

بلوچستان اسمبلی 

مزید : صفحہ آخر


loading...