مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی آٹھویں مرحلے میں داخل ہو چکی: سردار مسعو د خان 

مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی آٹھویں مرحلے میں داخل ہو چکی: سردار مسعو د خان 

  



اسلام آباد (آئی این پی) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے شہری مودی کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف اور اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ہمیں بھی اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے حقوق کے لئے اسی جدوجہد کرنی ہوگی۔ بھارتیا جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کشمیریوں کو ختم کر کے ان کی زمین، باغات، خوبصورت وادیوں، پہاڑوں اور دریاؤں پر قبضہ کرنے کا خواب آنکھوں میں سجا کر مقبوضہ کشمیر پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز(نمل) میں دو روزہ بین الاقوامی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے اس سال اگست کے اوائل میں مقبوضہ کشمیر پر ایک بار پھر قبضہ کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور اب اسے اپنی کالونی میں بدل دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی آٹھویں مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اب کشمیریوں کو کہا جا رہا ہے کہ ان کے گھر جن میں وہ رہتے ہیں اور ان کی زمین ان کی ملکیت نہیں رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ مودی اور اس کا خوشامدی ٹولہ اب آزادکشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے اور پاکستان کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ آزادکشمیر کو اس خطہ کے باسیوں نے ڈوگرہ فوج سے لڑ کر آزادکرایا تھا اور وہ اس کی حفاظت بھی کریں گے۔ انہوں نے بھارت کے اس دعوے کو کہ آزادکشمیر کو قبائلی پٹھانوں نے آزادکرایا تھا جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا یہ جھوٹا دعوی کشمیر پر فوجی قبضہ جمانے کیلئے ایک بہانہ کے سوا کچھ نہیں۔ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت اس وقت کے حکمرانوں کے ظالمانہ معاشی اور سیاسی نظام اور کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش کا نتیجہ تھا۔ جموں وکشمیر کے عوام آج بھی پاکستان کا حصہ بننے کی خواہش لے کر جدوجہد کر رہے ہیں جس کی حمایت اور مدد کرنا ہمارے لئے فرض کا درجہ رکھتی ہے۔ آج کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ نہرو اور گاندھی کشمیر اور کشمیریوں سے ہمدردی رکھتے تھے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہرو اور گاندھی نے ڈوگرہ حکمرانوں اور برطانوی حکومت سے مل کر کشمیر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی طرف سے آزادکشمیر پر حملہ اور پاکستان کو ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں جنگ میں بدل سکتی ہیں اور اگر یہ جنگ ہوئی تو یہ جوہری جنگ ہو گی جس سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا یہ بیانیہ لے کر بین الاقوامی برادری تک پہنچنا ہو گا لیکن بد قسمتی سے اقوام متحدہ کے اندر اور باہر دنیا کے بااثر ممالک نے معاشی و سیاسی مفادات کے پیش نظر بھارت کے خلاف بولنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور وہ پاکستان اور بھارت کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

 سردار مسعود خان

مزید : صفحہ آخر