احسن اقبال کی گرفتاری سیاسی انتقام کی نئی مثال،اسفندیارولی 

  احسن اقبال کی گرفتاری سیاسی انتقام کی نئی مثال،اسفندیارولی 

  



پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے ن لیگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی ایک نئی اور تازہ مثال ہے،احتساب اگر واقعی کرنا ہے تو بلاامتیاز کریں جس کا آغاز خود مجھ سے اور عمران خان سے کیا جائے۔ ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ حکومتی وزراء کی کرپشن پر خاموشی اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے سے تاثر مل رہا ہے کہ عمران خان نیب کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن چیئرمین نیب کو سوچنا چاہیے کہ کل کو عمران خان نہیں ہوگا، پھر کیا کریں گے؟ سیاسی گرفتاریوں سے اپوزیشن کو ڈرانے دھمکانے کی غلط روایت بنائی جارہی ہے جو ملک کے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف الزام لگانے اور پیشی پر گرفتار کرنے سے سیاسی انتقام واضح ہوگئی ہے، اس سے پہلے بھی کئی اپوزیشن رہنما صرف الزامات کی بنیاد پر جیل میں ہیں۔عمران خان اور اسکی ٹیم اپنی کرپشن چھپانے کیلئے سپریم کورٹ کا سہارا لے رہی ہے، نیب کی جانب سے بی آر ٹی، مالم جبہ سکینڈل پر خاموشی اور حکومتی وزراء کے خلاف کارروائی نہ کرنا احتساب کو سیاسی انتقام ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ 

اسفندیارولی  

مزید : صفحہ آخر