خیبر پختونخوا سمیت پورا ملک تبدیلی اور ترقی کے عملی دور سے گزررہاہے، محمود خان

خیبر پختونخوا سمیت پورا ملک تبدیلی اور ترقی کے عملی دور سے گزررہاہے، محمود ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک عوامی نمائندہ جماعت ہے، اس سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت اور کامیابی کی وجہ بھی یہی ہے کہ عام آدمی کی ترقی و خوشحالی پی ٹی آئی کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی والہانہ قیادت اور کاوشوں کی وجہ سے آج نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورا ملک تبدیلی اور ترقی کے عملی دور سے گزر رہا ہے۔ ہم نے صوبے کے تمام اضلاع کو ترقی کی اس دوڑ میں شامل کرکے آگے چلنا ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں ہسپتالوں، سکولوں،روڈز، کمیونیکشن نیٹ ورکس، سیاحت، صنعت اور دیگر انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں، جس سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام محکموں میں عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن سے صوبے کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔صحت انصاف کارڈ کی صوبے بھر کے شہریوں کو فراہمی، تعلیمی اداروں میں سٹاف کی فراہمی جبکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لئے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا قیام اور دیگر اصلاحات سے عوام کو بھر پور استفادہ دیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے اراکین صوبائی اسمبلی سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک ملاقات کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان اور اس کی معیشت کی بہتری کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور تا ڈی آئی خان موٹر وے کی تکمیل سے صوبے کے جنوبی اضلاع بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع بھر پور مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے سے جنوبی اضلاع میں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ عوام کوبہتر سفری سہولیات بھی میسر آئیگی۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کر رکھی ہے جس سے نہ صرف صوبے کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی میسر آئیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے پسماندہ اضلاع خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا،اُن کی محرومیاں دور کرنا اوراُن کے حقوق کا تحفظ کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے بہت تھوڑے عرصے میں قبائلی عوام کو سو فیصد مفت صحت سہولیات، نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، صوبائی محکموں اور عدالتوں کو قبائلی علاقہ جات تک توسیع جبکہ قبائلی اضلاع کے لئے جلد اثر انداز ہونے والے پروگرام کے تحت سینکڑوں متعدد منصوبے موجودہ صوبائی حکومت کی قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت انصاف اور میرٹ پر یقین رکھتی ہے۔ ہم پورے صوبے کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ یہ صوبہ بشمول پورے ملک میں معیشت بہت جلد مستحکم ہو گی اور پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر ے گا۔

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان ضلع کوہاٹ میں تمام ترترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سمیت عوام کو درپیش دیگر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور ضلع کوہاٹ کے علاقے گمبٹ کو تحصیل کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے سمری کی پہلے سے منظوری ہوچکی ہے انہوں نے ضلع کوہاٹ کے مین شاہراہ کی کشادگی جلد عمل میں لانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس مقصد کیلئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک کرکے مجوزہ فنڈز فراہم کرنے جبکہ شکردرہ سے کڑپہ سڑک کے منصوبے پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بہت جلد وہ خود تعمیراتی کام کا باضابطہ افتتاح کرے کوھاٹ آئیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں وزیر مملکت شہر یارآفریدی کی قیادت میں ضلع کوہاٹ سے آئے ہوئے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ملاقات کے دوران سینیٹر شبلی فراز، سابق وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی، ضلع کوہاٹ سے اراکین صوبائی اسمبلی، ایس ایم بی آر، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز و دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران وفد نے وزیراعلی کو ضلع کوہاٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشر فت، انفراسٹرکچر کی بحالی، گمبٹ کو تحصیل کا درجہ دینے، کوہاٹ مین شاہراہ کی کشادگی، زراعت کی ترقی، صحت اور تعلیم کے مسائل اورضلع کوہاٹ کے عوام کو درپیش دیگرمسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلی کو بتایا گیا کہ کوہاٹ مرکزی بازار میں ٹریفک کے گھمبیر مسئلے کے حل کیلئے سڑک کے دونوں اطراف کشادگی کے باعت دکانوں کی بحالی کیلئے 60ملین روپے پہلے سے منظور کئے گئے ہیں۔ وزیراعلی کو ضلع کوہاٹ میں یوای ٹی کیمپس، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور کامسٹ یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلی نے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کو ہدایت کی کہ ان تین منصوبوں کیلئے مجوزہ سرکاری اراضی کی نشاندہی جلد سے جلد عمل میں لائی جائے تاکہ منصوبوں پر کام شروع ہو سکے۔ وزیراعلی کو ضلع کوہاٹ میں سمال ڈیمز اور چیک ڈیمز کی افادیت اور اس میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بھی تفصیلا ًآگاہ کیا گیاجس پر وزیراعلی نے محکمہ زراعت کو درکارمنصوبوں کی نشاندہی کرکے اگلے اے ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلع کوہاٹ میں زراعت کی ترقی کیلئے ان ڈیموں کی تکمیل بڑی اہمیت کی حامل ہے جس سے ضلع کوہاٹ میں زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور زراعت کا شعبہ ترقی کرے گا۔ وزیراعلی نے کہابہت جلد وزیر صحت اور متعلقہ حکام ضلع کوہاٹ کا دورہ کریں گے اور صحت کے بیشتر مسائل موقع پر حل کریں گے۔ اس موقع پرسینیٹر شبلی فراز نے وفد کو بتایا کہ ضلع کوہاٹ میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے حوالے سے بل سینٹ میں زیر بحث ہے اور بہت جلد اس مسئلے کو بھی حل کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...