اقلیتوں،خواجہ سراؤں، معذوروں کیلئے لاء کالجوں میں کوٹہ مختص کیا جائے،بیرسٹر راحیل 

اقلیتوں،خواجہ سراؤں، معذوروں کیلئے لاء کالجوں میں کوٹہ مختص کیا ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی) پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹرمحمد راحیل کامران شیخ نے اقلیتوں،خواجہ سراؤں اور معذور افراد کیلئے لاء کالجوں میں کوٹہ مختص کرنے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے حقوق انسانی کی تعلیم کے لئے اسے کالجوں اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کے نصاب میں لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے،اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان بار کونسل کے دیگر ارکان کے نام اپنے مراسلہ میں کہا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک زیادہ اچھا وطن اور معاشرہ چھوڑ کر جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قانون کی تعلیم تک رسائی دینا وقت کا تقاضہ ہے۔اس امر کو پاکستان بار کونسل لیگل ایجوکیشن رولز میں نظر انداز کیا گیا،لاء کالجوں میں ان طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئے کوٹہ مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مالی معاونت کے لئے بجٹ مختص کرنے بھی جائزہ لیا جائے،انہوں نے معذور طلبا کی سہولت کیلئے ریمپ اور واش رومز کی تعمیر کیلئے لاء کالجوں کوپابند بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی طرف سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا جائے کہ نابینا طلبہ کے قانون کی کتابیں بریل پر شائع کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی و صوبائی وزرا ء تعلیم کو باور کروانے کے لئے پاکستان بار کونسل کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا جائے انسانی حقوق کو لازمی مضمون کے طور پر کالجوں اور ہائیرسیکنڈری سکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے۔

بیرسٹر راحیل 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...