نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس ،احسن اقبال کا13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس ،احسن اقبال کا13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس ،احسن اقبال کا13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت نے نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس میں احسن اقبال کا13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب کے حوالے کردیا،عدالت نے لیگی رہنما کو6 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کاحکم دیدیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی احتساب بیورو(نیب) نے نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس میں گرفتار ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کو احتساب عدالت میں پیش کردیا،لیگی رہنماکو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیاگیا، احسن اقبال کی جانب سے ان کے وکیل طارق محمود جہانگیری احتساب عدالت میں پیش ہوئے،نیب نے احسن اقبال کی گرفتاری کی تحریری وجوہات احتساب عدالت میں بھی پیش کردیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال کو گرفتاری کی وجوہات بتاکر گرفتار کیا گیا،نیب پراسیکیوٹرنے احسن اقبال کی گرفتاری کی وجوہات پڑھ کر سنائی ۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ منصوبے کے پی سی ون پر نظرثانی کرکے3ارب روپے تک پہنچا دیا گیا،حاصل کیے گئے ثبوتوں سے احسن اقبال کا جرم ثابت ہوتا ہے،شک ہے احسن اقبال ریکارڈ تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں،تفتیش مکمل کرنے کےلئے احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ احسن اقبال کا 14 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

وکیل صفائی نے نیب احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کردی،وکیل طارق محمود نے کہا کہ ہمیں گرفتاری کی وجوہات بھی فراہم نہیں کی گئیں، گرفتاری کی وجوہات جو ہمیں دی گئیں اور جو پڑھی گئیں وہ مختلف ہیں،وکیل صفائی طارق محمود نے کہا کہ نارروال سپورٹس کمپلیکس منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی دورمیں ہوا،احسن اقبال کی جانب سے کوئی اپروول نہیں دیا گیا، اپروول ثابت ہوتو مجھے عدالت سے نکال دیں اور 90 روزہ ریمانڈ دےدیں ۔

وکیل صفائی طارق محمودنے کہاکہ سی ڈبلیو پی کے اپروول پر منصوبے کا آغاز کیاگیا،اگر احسن اقبال کو گرفتار کیاگیا ہے تو باقی لوگ کہاں ہیں؟ کسی کابیان موجودہے کہ احسن اقبال نے کسی سے رقم یا گاڑی مانگی؟کیااحسن اقبال نے اپنے بیوی بچوں کے نام پرکوئی پراپرٹی دی یا تحفے تحائف دیئے؟وکیل صفائی نے کہا کہ کرپشن اورکرپٹ پریکٹس تویہ ہوتی ہے،احسن اقبال نے کیاکیا؟نیب کے پاس اگر کوئی ثبوت موجودہے توعدالت میں پیش کردے۔وکیل صفائی نے کہاکہ وفاقی حکومت کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے، نیب کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟تمام اجلاس کے منٹس موجود ہیں، سارا ریکارڈ وہیں ہے،اگر نیب کواحسن اقبال سے تفتیش کرنی ہے تو بلا کر تفتیش کرے۔

احسن اقبال نے کہا کہ میرے بازو پر گولی لگی تھی، اس کی سرجری ہونی تھی، 19تاریخ کومیری سرجری ہونی ہے تو نیب کو کہا کہ اس کے بعد بلا لیں، میں ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا اور نیب میں پیش ہوا، احسن اقبال نے کہا کہ 1993سے ایم این اے ہوں، میرے اثاثے بڑھے نہیں کم ہوئے،نیب بتا دے 1993 کے بعد میرے اثاثے بڑھے یا کم ہوئے ،نیب کے پاس ذرائع موجود ہیں یہ چیک کر لیں میرے اثاثے کتنے ہیں ،لیگی رہنما نے کہا کہ میرے خلاف کیس کا مقصد سیاسی نقصان پہنچانا اور کردار کشی کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعدایک کھنڈر کو ہم نے سپورٹس کمپلیکس بنایا ،عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کی سزا دی جارہی ہے ،میں نے عوام کو کہا تھا کہ میں جیت گیا تو یہ منصوبہ پورا کروں گا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ ن کاایجنڈاتھاکہ وہ سپورٹس کے شعبے میں ترقی دیں گے،ہم نے لواری ٹنل، نیو اسلام آبادایئرپورٹ اوردیگرمنصوبوں کومکمل کیا، منصوبے کی رقم پی ایس ڈی پی سے منظور ہوئی جو کوئی وزیر نہیں کرتا،نیشنل اکانومک کونسل اور کابینہ سے بھی اس منصوبے کا اپروول ہوا،اسی حلقے میں کرتار پور منصوبہ 16 ارب روپے میں پورا کیا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال نے نے پی سی ون اپنی نگرانی میں اپروو کیا، احسن اقبال نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، پنجاب حکومت سے ریکارڈ مانگا ہے جسے احسن اقبال سے کنفرنٹ کرانا ہے،احسن اقبال نے کہا کہ مجھ پر کمیشن یا کک بیکس کا کوئی الزام ہے؟ پراسیکیوٹر نیب ہاں یا نہ میں بتائیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے خزانے کو نقصان پہنچانا بھی کرپشن ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ میری یکم جنوری کو سروسز ہسپتال لاہورمیں ڈاکٹر سے اپوئنٹمنٹ ہے ،سروسرہسپتال میں میری سرجری ہونی ہے،جج احتساب عدالت محمد بشیر نے کہا کہ علاج آپ کا حق ہے مگر لاہور کیسے بھیجا جا سکتا ہے؟نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سرجری کیلئے اسلام آبادکاکوئی ہسپتال رکھ لیں،احسن اقبال نے کہاکہ سروسز ہسپتال میں ہی گولی لگنے پر پہلی سرجری ہوئی تھی،

احتساب عدالت نے احسن اقبال کا13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب کے حوالے کردیا،عدالت نے لیگی رہنما کو6 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کاحکم دیدیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...