نیب نے دراصل احسن اقبال کو کیوں گرفتار کیا؟ عدالت میں وجوہات بتا دیں

نیب نے دراصل احسن اقبال کو کیوں گرفتار کیا؟ عدالت میں وجوہات بتا دیں
نیب نے دراصل احسن اقبال کو کیوں گرفتار کیا؟ عدالت میں وجوہات بتا دیں

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیوروی (نیب) نے مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کردیا جہاں نیب نے عدالت کو ان کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ احسن اقبال کو گرفتاری کی وجوہات بتا کر گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے احسن اقبال کی گرفتاری کی تحریری وجوہات احتساب عدالت میں پیش کر دیں۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو گرفتاری کی وجوہات بتائیں کہ نارووال اسپورٹس سٹی کے پراجیکٹ کی لاگت میں اضافہ کیا گیا۔

نیب دستاویز میں احسن اقبال کی گرفتاری کی 3 وجوہات بیان کی گئی ہیں، دستاویز میں الزام لگایا گیا ہے کہ منصوبے کی لاگت 3 کروڑ 40 لاکھ روپے سے بڑھا کر 9 کروڑ 70 لاکھ کی گئی، لاگت بڑھانے کی کسی مجاز اتھارٹی یا فورم سے منظوری نہیں لی گئی، سی ڈی ڈبلیو پی سے منصوبے کا دائرہ کار بڑھانے کی منظوری نہ لینا اور خود ایسا کرنا بدنیتی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ منصوبہ پلاننگ کمیشن کے ڈیولپمنٹ مینوئل میں درج قابلِ عمل اسٹڈی کے بغیر شروع کیا گیا، 50 ملین سے زیادہ کی لاگت کا اسکوپ بڑھانے کے لیے قابلِ عمل ہونے کی اسٹڈی ضروری ہے، منصوبہ ریکارڈ کے ساتھ 15 مارچ 2012ءکو پنجاب حکومت کے حوالے کیا گیا، پنجاب اسپورٹس بورڈ کو منصوبے کی حوالگی کے باوجود احسن اقبال نے اس پر وفاقی حکومت کے فنڈز خرچ کیے۔

نیب دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ احسن اقبال نے بدنیتی سے منصوبے کا دائرہ کار بڑھایا جس کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا، منصوبے کا از سر نو پی سی ون تیار کیا گیا جس کی لاگت 2498 اعشاریہ 779 ملین تھی، نئے پی سی ون کی منظوری 17 جولائی 2014ءکو سی ڈی ڈبلیو پی نے دی، جس کی سربراہی اس وقت احسن اقبال خود کر رہے تھے۔نیب کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کا ایک اور پی سی ون تیار کرایا گیا جس کی لاگت 2994 اعشاریہ 329 ملین روپے تھی، سی ڈی ڈبلیو پی نے 3 مئی 2017ءکو اس کی منظوری دی۔نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر احمد خضر کے مطابق گرفتاری کی 5 دیگر وجوہات بھی ہیں، اب تک جرم کے ثبوتوں سے احسن اقبال براہِ راست جڑے ہوئے ہیں، ان کی گرفتاری کے بغیر ثبوت اکٹھے نہیں کیے جا سکتے، احسن اقبال کی طرف سے متعلقہ ثبوت تباہ یا غائب کرنے، ریکارڈ کو خراب کرنے کا امکان ہے، ان کے مفرور ہونے کا بھی امکان ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے، ان کا 14 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔عدالت نے نیب کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد