" مشرف آئین شکن تھے لیکن یہ بھی مناسب نہیں کہ۔۔۔ " سعد رفیق نے ہاتھ سے لکھی تحریر میڈیا کے حوالے کردی

" مشرف آئین شکن تھے لیکن یہ بھی مناسب نہیں کہ۔۔۔ " سعد رفیق نے ہاتھ سے لکھی ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)احتساب عدالت میں پیشی پرمسلم لیگ (ن) کے راہنماءخواجہ سعد رفیق نے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریرمیڈیا کے حوالے کردی۔انہوں نے لکھی ہوئے بیان میں کہا کہ مشرف آئین شکن تھے،لاش لٹکانے یا گھسیٹنے کی بات مناسب نہیں،اس سے قبل ان کی کمرہ عدالت میں سادہ لباس والے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی،اپولیس کی جانب سے میڈیا سے بات کرنے سے روکنے پرخواجہ سعد رفیق نے لکھی ہوئی تحریرمیڈیا کے نمائندوں کے حوالے کردی،جس میں لکھاتھا کہ اداوں کے درمیان خلیج قومی مفاد کے خلاف ہے،مشرف صاحب آئین شکن تھے،لاش لٹکانے یا گھسیٹنے کی بات مناسب نہیں،عدلیہ مخالف مہم ناقابل قبول ہے،یہاں انصاف آزاد ہے نہ جمہوریت،احتساب عدالت کے جج جواد الحسن کی عدالت میں سادہ لباس والے اہلکاروں کیساتھ تلخی ہوئی تو فاضل جج نے پوچھا کہ کمرہ عدالت میں کیوں شوربرپا ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ مجھے کہہ رہے ہیں میں انٹرویو دے رہا ہوں،اہلکار نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کمرہ عدالت میں موبائل فون استعمال کررہے ہیں۔جج نے اہلکاروں سے کہا کہ عدالت کے باہر جومرضی کریں لیکن کمرہ عدالت میں اس طرح نہیں ہونے دوں گا،ڈی آئی جی آپریشن کوطلب کرکے وضاحت مانگتاہوں کہ اس کے ماتحت عدالتی امور کو متاثر کررہے ہیں،جس پرا ہلکار نے عدالت سے غیرمشروط معافی طلب کی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور