اثاثہ ریکوری یونٹ کا معاملہ، وہ پیرا گراف جو کابینہ کو دکھائے بغیر ہی منظوری لے لی گئی، انتہائی حیران کن خبرآگئی

اثاثہ ریکوری یونٹ کا معاملہ، وہ پیرا گراف جو کابینہ کو دکھائے بغیر ہی منظوری ...
اثاثہ ریکوری یونٹ کا معاملہ، وہ پیرا گراف جو کابینہ کو دکھائے بغیر ہی منظوری لے لی گئی، انتہائی حیران کن خبرآگئی

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) حال ہی میں وفاقی کابینہ کے روبرو اثاثہ ریکوری یونٹ کی جانب سے جو ”نوٹ“ پیش کیا گیا ہے اس کے پیرا نمبر 10? میں کیا ہے؟روزنامہ جنگ کے مطابق کابینہ نے رواں ماہ کے اوائل میں پیرا نمبر 10 منظور کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ ہدایت دی تھی کہ ”نوٹ“ کو خفیہ رکھا جائے۔شہزاد اکبر کی زیر قیادت اثاثہ ریکوری یونٹ کی جانب سے منظور کیلئے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیے جانے والے اس نوٹ اہم نکات یہ تھے کہ ”رازداری کو برقرار رکھنے کیلئے وفاقی کابینہ نے کابینہ سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ نوٹ کو سر بمہر کر دیا جائے اور عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ہی حفاظتی مہر ہٹائی جائے۔یہ نوٹ بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقم کے متعلق ہے۔

اجلاس کے اہم نکات کے مطابق، رازداری کی شق کے باعث، کابینہ کو بند کمرے کے اجلاس میں اس نوٹ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔کابینہ نے اس نوٹ کا جائزہ لیا اور پیرا نمبر 10 کی منظوری دی۔ اخباری ذرائع کے مطابق، کابینہ کے روبرو پیش کیا جانے والا ”نوٹ“ خفیہ تھا، اسے کابینہ کے وزراءکو دکھایا گیا اور نہ ہی اس معاملے کو عمومی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔اس معاملے پر اضافی ایجنڈے کے طور پر بحث کی گئی۔ کابینہ کے ایک ذریعے کے مطابق، وزراءکو بھی اس موضوع پر سرسری بریفنگ دی گئی اور دلیل دی گئی کہ برطانوی حکومت کے ادارے نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کے تحت نوٹ کی تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔

تاہم، کابینہ کے فیصلے کے مطابق معاملہ عدلیہ میں پیش کیے جانے کی صورت میں ”نوٹ“ کی مہر ہٹائی جا سکتی ہے اور اگر عدلیہ حکم دے تو اس کی تفصیلات پیش کی جا سکتی ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...