’رانا ثناءاللہ اور صحافی عمر چیمہ پر تشدد کرنے والا ایک ہی شخص تھا‘

’رانا ثناءاللہ اور صحافی عمر چیمہ پر تشدد کرنے والا ایک ہی شخص تھا‘
’رانا ثناءاللہ اور صحافی عمر چیمہ پر تشدد کرنے والا ایک ہی شخص تھا‘

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثناءاللہ خان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے جس کے باعث وہ ٹاک آف دی ٹاﺅن بنے ہوئے ہیں، ایسے میں حامد میر کا ایک پرانا کالم بھی منظر عام پر آیا ہے جو انہوں نے 4 جولائی 2019 کو لکھا تھا اور اس میں انکشاف کیا تھا کہ رانا ثناءاللہ پر مشرف دور میں اور 2010 میں صحافی عمر چیمہ پر تشدد کرنے والا ایک ہی شخص تھا۔

حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ’ 2002کے الیکشن میں رانا ثناءاللہ تیسری مرتبہ ایم پی اے بن گئے اور پنجاب اسمبلی میں مشرف حکومت پر تنقید کرنے لگے۔ 8مارچ 2003کو انہیں فیصل آباد میں کچھ نقاب پوشوں نے اغواءکیا اوران پر لوہے کی راڈیں برسائی گئیں۔ پھر جسم کے مختلف حصوں پر بلیڈوں سے زخم لگا کر ان پر پٹرول چھڑکا گیا۔ اس دوران ایک اغواءکار کی نقاب سرک گئی اور رانا صاحب نے اسے پہچان لیا، پھر ان ایک درجن مسلح افراد نے رانا ثناءاللہ کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر ان کی مونچھیں، بھنویں اور سر کے بال مونڈھ دئیے اور فیصل آباد سے لاہور موٹر وے کے راستے پر پھینک دیا۔ چند دن کے بعد وہ پنجاب اسمبلی میں ایک دفعہ پھر پرویز مشرف کو للکار رہے تھے۔ ان کے موقف میں پہلے سے زیادہ سختی پیدا ہوگئی۔‘

حامد میر نے رانا ثناءاللہ پر تشدد کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جس نقاب پوش کا نقاب سرکا تھا اسی نے بعد میں انگریزی روزنامے سے وابستہ صحافی عمر چیمہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے لکھا ’ 2010میں اسلام آباد میں ”دی نیوز“ کے عمر چیمہ کو اغواءکرکے ان کے ساتھ وہی کیا گیا جو فیصل آباد میں رانا ثناءاللہ کے ساتھ ہوا تھا۔ رانا صاحب پنجاب کے وزیرِ قانون تھے۔ انہیں پتہ چل گیا کہ جس نقاب پوش کو انہوں نے فیصل آباد میں پہچانا تھا، عمر چیمہ پر تشدد اسی کی نگرانی میں ہوا تھا۔ رانا صاحب اس تشدد کی انکوائری کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اسلام آباد میں پیش ہوگئے اور ملزم کی نشاندہی کردی لیکن اس کمیشن کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔‘

مزید : علاقائی /اسلام آباد