روک سکو تو لو ہم پنڈی آرہے ہیں،روکا تو احتجاج اور ضرورت پڑنے پر مزاحمت بھی ہوگی: عاجزدھامراہ

روک سکو تو لو ہم پنڈی آرہے ہیں،روکا تو احتجاج اور ضرورت پڑنے پر مزاحمت بھی ...
روک سکو تو لو ہم پنڈی آرہے ہیں،روکا تو احتجاج اور ضرورت پڑنے پر مزاحمت بھی ہوگی: عاجزدھامراہ

  



حیدرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلزپارٹی کے  رہنما عاجز دھامراہ نے کہاہے کہ راولپنڈی میں  بے نظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب شرکت کے لئے ہمیں پنڈی جانے سے روکاجارہا اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وفاقی کابینہ میں بیٹھے ایک ’شیطان‘ نے ہماری پنڈی کی ریلوے بکنگ کینسل کرادی ہے،بلاول کا راستہ نیازی اور اس کے حواری نہیں روک سکتے ، ہم متنبہ کرتے ہیں کہ روک سکو تو لو ہم پنڈی آرہے ہیں،ہمیں روکا گیا تو احتجاج اور ضرورت پڑنے پر مزاحمت بھی ہوگی۔

سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے عاجز دھامراہ نےکہاکہ بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی  برسی اِس سال اُسی مقام پر منائیں گے جہاں اُن کی شہادت ہوئی تھی اور جہاں پر چاروں صوبو ں کی رنجیر کو توڑا گیا تھا لیکن شاید ملکی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کے اندر کسی مضبوط وفاق پرست جماعت کی ضرورت نہیں،ہم مضبوط وفاق پر یقین رکھتے ہیں،اس کی پاداش میں ہم نے سزائیں بھگتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ27دسمبر ہمیں ایک عظم قربانی کی یاد دلاتا ہے،جس دن محترمہ نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں پنڈی جانے سے روکاجارہااور دھمکیاں دی جاررہی ہیں،  وفاقی کابینہ میں بیٹھے ایک شیطان نے ہماری پنڈی کی ریلوے کی بکنگ کینسل کرادی ہے لیکن ان کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ آپ پنڈی جانے سے روکنے کی ایک بار پھر ناکام کوشش کررہے ہیں، حکومت کے پاس ایک بہانہ ہے کہ سیکیورٹی خدشات ہیں اس لئے اجازت نہیں دے رہے،یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پارٹی کارکنوں کو اپنی قائد کی برسی منانے سے روکاجائے؟۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے بلاول بھٹو کو 24دسمبر کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ،اس نوٹس سے نیازی اور نیب گٹھ جوڑ ظاہر ہوتا ہے ،بلاول کا راستہ نیازی اور اس کے حواری نہیں روک سکتے ، ہم متنبہ کرتے ہیں کہ27دسمبر کو چوڑیاں پہن کر نہیں آئیں گے،وفاق کو کہتا ہوں ’’روک سکو تو روک لو‘‘ ہم پنڈی آرہے ہیں ،راستہ روکا تو احتجاج ہوگا اور ضرورت پڑنے پر مزاحمت بھی کریں گے۔  انہوں  نے کہاکہ نیب کی سہولت کاری کی مذمت کرتے ہیں،چیئرمین نیب اس لئے  سہولت کار بنے ہوئے ہیں کہ سرکار کی جیب میں  ان کی ویڈیو کا ’پارٹ ٹو ‘ہے ،احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، حکومت اپنی قانون سازی کے لئے دونوں بڑی جماعتوں کو دباؤ میں لینے کی کوشش کررہی ہے ، حکومت دل سے نہیں چاہتی کہ آرمی چیف کو ایکسٹیشن ملے ،اس لئے آرمی چیف کے معاملے کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /حیدرآباد