الیکشن کمیشن تقرری،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،30دسمبر کو دوبارہ کمیٹی اجلاس بلا نے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن تقرری،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،30دسمبر کو ...
الیکشن کمیشن تقرری،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،30دسمبر کو دوبارہ کمیٹی اجلاس بلا نے کا فیصلہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان چیف الیکشن کمشنراورارکان کی تقرری کےمعاملے پرڈیڈلاک ختم نہ ہوسکاجبکہ ایک بارپھرپارلیمانی کمیٹی کے بجائے سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان غیر رسمی مشاورت ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 30دسمبر کو دوبارہ کمیٹی کااجلاس بلایا جائے گا، غیر رسمی مشاورت کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے احسن اقبال کی گرفتاری اور بلاول بھٹو کو نیب کا نوٹس جاری ہونے کے خلاف احتجاجا علامتی واک آؤٹ کیا، اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احسن اقبال کو فی الفور رہا کیا جائے اور بلاول بھٹوکو جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے ،حکومت کا رویہ غیر جمہوری ہے، احتساب کم اور انتقام زیادہ نظر آرہا ہے،موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔

نجی ٹی وی کےمطابق  چیف الیکشن کمشنر اور ارکان الیکشن کمیشن کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس شیڈول تھا تاہم ایک بار پھر کمیٹی کا اجلاس نہ ہو سکا جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں مشاورت ہوئی، مشاورت کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے احسن اقبال کی گرفتاری اور بلاول بھٹو کو نیب کا نوٹس جاری ہونے کے خلاف احتجاجا علامتی واک آؤ ٹ کیا۔ واک آؤ ٹ کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ن لیگ کے سیکرٹری جنرل کو جس طریقے سے گرفتار کیا گیا ہے،فاشزم کی بھی ایک حد ہوتی ہے،تمام حدود کراس کر چکے ہیں ،بلاول بھٹو 27دسمبر کو جلسہ کرنا چاہتا ہے اِس کو جلسہ کرنے سے روکتے ہیں، احسن اقبال پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں ہے، ہم ڈرتے ورتے نہیں ہیں جس نے تحقیقات کرنی ہے کر لے لیکن بلاول بھٹو کی ماں کی برسی ہے وہ بہت بڑی سیاسی لیڈر تھی،بلاول بھٹوکو جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے اور احسن اقبال کو فی الفور رہا کیا جائے، ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے،یہ ہمارا کام نہیں روک سکتے جو قدم آگے بڑھ رہے ہیں وہ بڑھتے جائیں گے، جتنا مرضی لوگوں کو گرفتار کر لیں، موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔

سا بق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ موجودہ حکومت کا غیر جمہوری رویہ ہے،اپوزیشن کے ساتھ انہوں نے فاشسٹ قسم کا رویہ روا رکھا ہے جس کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے نظام کوآگے بڑھائیں،ایسا غیر ذمہ دارانہ رویہ میں نے کسی دور میں نہیں دیکھا، ہم بے نظیر بھٹو کی برسی منانے جا رہے ہیں اس پر بلاول بھٹو کو نوٹس آجاتا ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ عدالت نے ہمیں جلسے کی اجازت دی ہے،ہم جمہوری لوگ ہیں،ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ، پارلیمان کا استحقاق ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کرے۔ جے یو آئی (ف) کی رہنماء شاہدہ اختر علی نے کہا کہ احتساب کم اور انتقام زیادہ نظر آرہا ہے،حکومت کے رویئے کو اب بند ہوجانا چاہیے،ان کی حقیقت عوام پر آشکار ہوگئی ہے کہ کس طرح یہانتقامی رویوں پر آگئے ہیں۔ اجلاس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ کچھ برف پگھلتی ہوئی نظر آرہی ہے،30دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں امید کی جا سکتی ہے کہ ہم کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے.

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...