قائداعظم یونیورسٹی کی یادیں 

قائداعظم یونیورسٹی کی یادیں 
قائداعظم یونیورسٹی کی یادیں 

  

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا سنگ بنیاد 21 جون 1967ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدر پاکستان نے رکھا۔ ویسے تو ایوبی حکومت نے بیشمار کام کئے۔ زرعی یونیورسٹیاں بنائیں۔ جہاں انہوں نے زراعت کی ترقی کے لئے فیصل آباد ایوب ریسرچ کا ادارہ قائم کیا اور زرعی اور صنعتی ترقی کے لئے بے شمار اقدامات کئے وہاں تعلیم کے میدان میں قائد اعظم یونیورسٹی کا قیام بھی  اس وقت کی حکومت کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اس سے پہلے ہر صوبے میں ایک یونیورسٹی ضرور تھی لیکن کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہ تھا جو سارے صوبوں کے طلبا و طالبات کی تعلیمی کفالت اور علمی پیاس بجھانے کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرتا اور اپنا لازوال کردار ادا کرتا جو میں سمجھتا ہوں قائداعظم یونیورسٹی نے کما حقہ ادا کیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے قیام کا یہ بھی فائدہ ہوا کہ اس میں سارے صوبوں کے بچے داخل کئے جاتے ہیں اور اس طرح یہ درسگاہ بین الصوبائی اشتراک کا بھی کردار ادا کرتی ہے۔ سندھی،پٹھان، بلوچ اور پنجابی طلبا کے رابطوں سے ان لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں بھی آسانی پیدا ہوئی۔ مزید یہ کہ اس ادارہ نے مستقبل میں اپنی اہمیت و افادیت کو ثابت کیا۔ میری طرح بے شمار لوگوں کی زندگیاں سنوارنے میں قائداعظم یونیورسٹی کا اہم کردار ہے۔

ویسے تو میں تین سال اس ادارہ میں زیر تعلیم رہا لیکن 27 نومبر 2020ء کو میں نے فیصل آباد کے معروف شاعر اور ممتاز صحافی شفقت حسین شفقت کے ہمراہ اس یونیورسٹی کو ایک دفعہ دوبارہ غور سے دیکھا 1988-90/1992-93 کی یونیورسٹی اور آج کی یونیورسٹی میں بڑا فرق ہے۔ اسلام آباد بذات خود بڑا پھیل گیا ہے۔ اس درسگاہ میں بھی بے شمار نئے شعبہ جات بن چکے تھے۔ اس وقت  دو تین ہٹس تھے اور مشہور مجید والا ہٹ تھا اب اس طرح کے بے شمار ہٹس بن چکے ہیں اس وقت مسجد چھوٹی سی تھی۔ کیفے ہوسٹلز اور دیگر عمارات کے درمیان تھا ایک پی سی او تھا جو ساری یونیورسٹی کے طلبا کی ضرورت پوری کرتا تھا اب ہر بچے کے پاس موبائل فون ہے۔ پیرا فری سے آگے پہاڑ ہی پہاڑ تھے اب تا حد نگاہ عمارات کا ایک سلسلہ ہے۔ اس وقت میرے ایک سمیسٹر کی فیس تقریباً 320روپے تھی اور آج ایک بچے کی فیس 40ہزار روپے ہے۔ اس طرح آج  عمارت تو وہی تھی لیکن حالات اور منظر وہ نہیں تھا مقام اطمینان یہ ہے کہ ہمارے بچے اب زیر تعلیم ہیں اور آج بھی ماضی کی طرح یہ درسگاہ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک وقت یہ بھی تھا کہ پاکستان میں سمیسٹر سسٹم صرف قائداعظم یونیورسٹی میں تھا اور عملی طور پر تحقیق بھی یہیں ہو رہی تھی شاید اس کی کامیابی کا راز تحقیق اور سمیسٹر سسٹم تھا کہ آنے والے دنوں میں باقی تعلیمی اداروں میں یہی نظام رائج ہو گئے اور کامیابی سے چل رہے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے وقت بہت آگے جا چکا ہے اور ہم نے اب تبدیلی کا سوچنا شروع کیا ہے۔ آج بھی ہماری سمت درست ہوجائے۔سوچ پختہ ہو جائے۔ ملک و قوم کے وسائل اور مسائل ہمیں اپنے محسوس ہوں۔ ہم سب ایک دوسرے کی کردار کشی سے باز آجائیں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ختم ہو جائے۔ ہمارے ہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوجائے اور پھر مذکورہ سارا کچھ یقینی ہو جائے تو مجھے پورا یقین ہے کہ ہم پنجابی،سندھی۔بلوچی اور پٹھان میں تقسیم نہیں ہوں گے بلکہ ہم پاکستانی بن جائینگے اور پھر ہر شہری جو جہاں بھی ہو پاکستان کی شناخت بن جائے گا۔آج اپنے بچوں کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا تو یاد آیا میرے والد محترم بھی کبھی اسی طرح میرے ساتھ یہاں گھومتے تھے اور میرے مستقبل کے بارے میں سہانے خواب دیکھا کرتے تھے۔ ماضی آج خواب لگ رہا تھا اور دل سے ٹھنڈی آہیں نکل رہی تھیں کاش بیتے دن لوٹ آتے۔ آج بھی میں Hutts پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ کھانا کھاتا، ان سے مختلف علمی موضوعات پر بات کرتا۔

ایک بار پھر اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ ٹرپ پر جاتا اور ہم سب مل کر خوب اٹھکھیلیاں کرتے۔ مباحثہ جات میں حصہ لینے کے لئے تقریر تیار کرکے آئینہ کے روبرو ریہرسل کرتا اور پھر آڈیٹوریم میں بھر پور انداز میں جوش خطابت اور شعر و سخن سے سامعین کو متاثر کر کے خوب داد سمیٹتا اور ٹرافی وصول کر کے اپنے ڈیپارٹمنٹ کا نام اونچا کرتا۔ ریسرچ میتھاڈالوجی کے بارے میں ڈاکٹر نعیم قریشی سے ریسرچ کی اہمیت و افادیت کے بارے سوال کرتا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے مستقبل کی بابت ڈاکٹر رفیق افضل سے بات چیت کرتا۔ قائد اعظم کی جو باتیں ابھی تک مجھے معلوم نہیں ہو سکیں وہ ڈاکٹر ریاض احمد سے پوچھ کر مجھے آج شعوری طور پر احساس ہوتا کہ قائد اعظم کی شخصیت کے کتنے پہلو تھے اور یہ کہ ایسی سر بر آوردہ شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں کیونکہ چمن میں دیدہ ور بڑی مشکل ہی سے پیدا ہوتا ہے اور آخر میں میں لائبریری کا ایک چکر لگا کر تین بجے والی بس پر سوار ہو کر آبپارہ چلا جاتا اور واپسی پر ہوسٹل نمبر3 کے کمرہ نمبر 97 میں سو کر خواب دیکھتا کہ میں ملک میں ایک ذمہ دار عہدہ پر متمکن ہوں گا اور پھر میں ہوں گا اور میرا ملک ہوگا اور پھر کیا ہوگا  جو ہو گا دیکھا جائیگا۔ میری حد تک جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب اللہ میری اور میری قوم کی آئندہ  نسلوں کے نصیب جگائے اور وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کریں 

پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پا لے ہیں 

مزید :

رائے -کالم -