صبر و استقلال کی پیکر ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا۔۔۔خواتینِ اسلام کیلئے رول ماڈل

صبر و استقلال کی پیکر ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا۔۔۔خواتینِ ...
صبر و استقلال کی پیکر ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا۔۔۔خواتینِ اسلام کیلئے رول ماڈل

  

کائنات میں سب سے ارفع و اعلٰی خواتین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن ہیں، جنکو اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے کا شرف بخشا،انہیں اُمت کی مائیں قرار دیا اور انکی طہارت و پاکیزگی کی گواہی قرآن مجید میں سورۂ احزاب کی آیت نمبر چھتیس (36) میں ارشاد فرمائی۔

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا نام و نسب وکنیت اور قبول اسلام ۔۔۔!!!

امھات المؤمنین میں ایک نام سیدہ رملہ (رضی اللہ عنھا) کا ہے،کنیت اُم حبیبہ تھی،سلسلۂ نسب والد کیطرف سے رملہ بنت ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف اور والدہ کیطرف سے رملہ بنت ام صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف تھا،والد محترم اور والدہ محترمہ(رضی اللہ تعالی عنھما) کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں جا کر خاتم النبیین حضور نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جاتا ہے۔۔۔ اُم المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کی ولادت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت کے سترہ 17 سال پہلے، واقعہ فیل کے تیئس سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔۔۔اُم المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا شمار مقدم الاسلام ہونے کی وجہ سے سابقون الاولون میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کی ہجرت ۔۔۔!!

قبولِ اسلام کے بعد مکہ مکرمہ میں اہلِ اسلام پر حالات بہت تنگ کر دیے گئے تھے ،چنانچہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے اپنے شوہر عبیداللہ بن جحش کے ساتھ چھ 6 نبوی میں حبشہ کیطرف ہجرت فرمائی،یہ حبشہ کی دوسری ہجرت تھی،اس دوسری ہجرت میں 83 مرد اور 18 خواتین شامل تھیں،سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے دو بچے عبداللہ اور حبیبہ (رضی اللہ عنھما) بھی حبشہ میں آپ رضی اللہ عنھا کے ہمراہ رہے،بعد میں آپکی بیٹی حبیبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں بھی رہیں۔آپ رضی اللہ عنھا کے شوہر عبیداللہ بن جحش کا پہلے نصرانی مذہب سے تعلق تھا،ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کیساتھ مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا اور حبشہ کیطرف ہجرت کی مگر حبشہ میں ہی حالتِ ارتداد (اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اسلام کو چھوڑ دینا ارتداد کہلاتا ہے) پر وفات ہوئی۔۔۔۔!!

 سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنھا کا صبر واستقلال۔۔۔۔!!!

اُم المؤمنین سیدہ رملہ رضی اللہ عنھا کی اپنے وطن مکہ مکرمہ سے دوری ،شوہر کے مرتد ہونے اور حالتِ ارتداد میں موت یہ سب سانحات ایسے تھے جن سے آپ رضی اللہ عنھا کو سخت صدمات پہنچےلیکن اس کے باوجود صبر وتحمل کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اللہ تعالی کی عبادت میں اور زیادہ مصروف ہو گئیں۔ہجرت حبشہ میں آپ رضی اللہ عنھا کی ہمسفر خواتین سیدہ اُم سلمہ،سیدہ رقیہ،سیدہ لیلٰی اور سیدہ اسماء رضی اللہ تعالی عنھن آپ رضی اللہ عنھا کو ہمیشہ دلاسہ دیتیں۔۔۔۔!!!!

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف سے آپ رضی اللہ عنھا کو نکاح کا پیغام  اور آپ رضی اللہ عنھا کا ام المومنین بننے کا اعزاز ۔۔۔۔!!!

اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے شوہر کے مرتد ہو کر فوت ہونے کی خبر جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کی دلجوئی کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضُمری رضی اللہ عنہ کو بادشاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور یہ پیفام دیا کہ آپ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے برضاء ورغبت معلوم کر کے ان کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔۔۔جب حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا تو آپ رضی اللہ عنھا کو اپنے سب دکھ بھول گئے آپ رضی اللہ عنھا نے رضامندی کا اظہار فرمایا اور پیغام لانے والی باندی ابرہہ کو اپنے چاندی کے کنگن،انگوٹھیاں اور دیگر زیورات اتار کر بطور ہدیہ دے دیئے اور حضرت خالد بن سعید بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔

شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ،سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی موجودگی میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا نکاح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور بعض روایات میں آتا ہے  کہ حضرت خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ نے نکاح پڑھایا۔ ( طبقات، اصابہ،اسدالغابہ،اعلام النسآء،البدایہ والنھایہ)

شاہِ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کا خطبۂ نکاح ۔۔۔۔!!!

حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے جو خطبۂ ارشاد فرمایا کچھ یوں تھا،ترجمہ! حمد و ستائش ہے خداوندِ قدوس اور خدائے غالب اور جبار وقہار کی،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق ہیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی نبی ہیں جنکی حضرت عیسٰی ابن مریم علیھما السلام نے بشارت دی تھی،اما بعد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تحریر فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام حبیبہ رضی اللہ عنھا بنت حضرت ابوسفیان (حضرت سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے فتحِ مکہ کے دن اسلام قبول فرمایا ) سے کردوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے چار سو دینار مہر کے عوض کر دیا۔ اور پھر اسی وقت چار عو دینار حضرت خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیئے گئے۔(سیئر صحابیات رضی اللہ عنھن،زرقانی،)

حضرت سیدنا خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کا خطبہ۔۔۔۔۔۔!!!!

شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے بعد حضرت خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا ،ترجمہ!میں اللہ تعالی کی حمد وثنا کرتا ہوں،اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں،اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ ایک ہے،کوئی اسکا شریک نہیں،اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق ہیں،جنکو اللہ تعالی نے ہدایت اور دینِ برحق دیکر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے،اگرچہ مشرکین کو ناگوار ہو،امابعد ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیفام کو قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا نکاح کر دیا،اللہ تعالی اس میں برکت دیں۔۔۔ اسکے حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کیطرف سے کھانے کا اہتمام کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔(الاصابہ،صحابیاتِ مبشرات رضی اللہ عنھن،امھات المؤمنین رضی اللہ عنھن)اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے نکاح کی تقریب کے بعد ابرہہ نامی کنیز کو پچاس دینار دیئے مگر کنیز نے پچاس دینار اور پہلے دیئے ہوئے زیورات واپس کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے شاہ حبشہ (رضی اللہ عنہ) نے یہی حکم دیا ہے اور مجھے تاکید کی ہے کہ میں عود وعنبر آپکی خدمت میں پیش کروں اور یقین کیجیئے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروکار ہو چکی ہوں اور اللہ عزوجل کےدین اسلام کو قبول کر چکی ہوں،آپ مدینہ منورہ جائیں تو میرا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیجیئے گا۔(طبقات،زرقانی)حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنھا نے حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مہاجرینِ اسلام کی مدینہ منورہ روانگی کا انتظام کریں،بادشاہ کیطرف دو کشتیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں کو مدینہ منورہ روانہ کیا گیا ،اسی قافلہ میں ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھیں ،اور شاہ حبشہ نے حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو بطورِ خاص ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کی خدمت پر مامور کیا،بعض روایات میں وارد ہوتا ہے کہ شاہ حبشہ(رضی للہ عنہ) نے حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کو جہیز بھی دیا۔۔۔(طبقات،اسدالغابہ)آپ رضی اللہ عنھا چھ یا سات  ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائیں اس وقت آپ رضی اللہ عنھا کی عمر مبارک 36 یا 37 سال تھی،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ بن کر ام المؤمنین کے معزز اعزاز سے سرفراز ہو گئیں۔.....!!!

 ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے مبارک خواب کی تعبیر ۔۔۔!!!

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے نکاح سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا، آپ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھے یا "ام المؤمنین " کہہ کر مخاطب کر رہا ہے ،میرے دل میں آیا اور میں نے از خود اس مبارک خواب کی تعبیر یہی سمجھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے نکاح میں لائیں گے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ہو گیا تو میرے خواب کی تعبیر پوری ہو گئی۔۔۔۔۔۔!! 

بستر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت وتعظیم ۔۔۔۔!!!!

ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد عقیدت ومحبت رکھتی تھیں، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہیکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک(کامل) مومن نہیں ہو سکتا،جب تک میری محبت اسے اپنی اولاد،اپنے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو، (صحیح بخاری،کتاب الایمان) چنانچہ ایک بار ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے والد محترم حضرت سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ) مدینہ منورہ آئے اور اپنی بیٹی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے گھر پہنچے، اور آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنے لگے تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا فوراً اٹھی، اور والد کو ادب سے عرض کی کہ آپ اس بستر پر نہیں بیٹھ سکتے،کیونکہ اس بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے ہیں اور آپ ابھی بھی اندھے اور بہرے بتوں کی پوجا کرتے ہیں گویا کہ آپ ابھی بھی شرک سے پاک نہیں ہوئے۔ (طبقات ،زادالمعاد)۔ 

ام المؤمنین رضی اللہ عنھا اور اتباعِ شریعت ۔۔۔۔!!!

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے مزاج مبارکہ میں شریعت کی اتباع رچ بس چکی تھی،چنانچہ سیدہ زینب رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیکہ میں ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا،ام المؤمنین رضی اللہ عنھا نے خوشبو منگوائی اور اپنے رخساروں پر لگائی اور اس کے بعد فرمایا واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ہیکہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی پر سوگ منائے،سوائے اپنے شوہر کے( کہ اس کا سوگ) چار مہینے دس کا ہے۔۔۔۔

اُم المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا مرتبہ علم وفضل اور ذوق عبادت۔۔۔۔۔!!!

ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے امت مسلمہ کی روحانی ماں اور معلمہ ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بڑی خوش اسلوبی اور احتیاط سے انجام دیں، اللہ تعالی کے آخری نبی و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ رفاقت کی برکت سے علم و حکمت اور حقیقت ومعرفت کا جو انہیں فیضان حاصل ہوا، اسے روحانی اولاد تک منتقل کرنے میں پوری مستعدی اور فرض شناسی کا ثبوت دیا، چنانچہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے آپ رضی اللہ عنھا سے احادیث روایت کی ہیں۔ کتب احادیث میں 65 احادیث مبارکہ آپ رضی اللہ عنھا سے منقول ہیں۔(الاستیعاب،الاصابہ،صحیح مسلم)اسی طرح آپ رضی اللہ عنھا نہایت عبادت گزار خاتون تھیں،ہر وقت ذکرِ الہی میں مشغول رہتیں،فرائض و واجبات کی ادائیگی کے تو کیا کہنے آپ رضی اللہ عنھا نفلی عبادات بھی بہت زیادہ فرماتیں۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص 12 رکعات نفل روزانہ پڑھے گا اس کیلئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔جب ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے جب یہ سنا تو اس وقت سے لیکر آخر عمر تک ہمیشہ نوافل کی پابندی فرماتیں۔ 

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا فکر آخرت اور وفات۔۔۔۔۔!!!

امُ المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کو فکر آخرت بہت تھی، وفات سے چند روز پہلے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اور ام المؤمنین سیدہ سلمہ رضی اللہ عنھا کو اپنے پاس بُلایا اور فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان سوکنوں کا رشتہ تھا،جس سے ہمارے درمیان کچھ نوک جھونک بھی ہو جایا کرتی تھی،میں نے کچھ کہا سنا ہو تو مجھے اللہ تعالی کی رضا کیلئے معاف کر دیں،دونوں نے یک زبان ہو کر کہا،ہم نے معاف کر دیا،اس پر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ آپ دونوں (رضی اللہ عنھما) نے مجھے خوش کیا اللہ تعالی آپ کو خوش رکھیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے 74 سال کی عمر میں 44 ہجری میں وفات پائی، آپ رضی اللہ عنھا کے بھائی حضرت سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما کا دور خلافت تھا،آپ رضی اللہ عنھا کچھ عرصہ اپنے بھائی کے پاس دمشق میں تشریف لے گئیں اور پھر مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئیں،پھر ساری زندگی مدینہ منورہ میں ہی گزاری،مدینہ منورہ میں ہی آپکی وفات ہوئی اور جنت البقیع قبرستان میں ہی آپ رضی اللہ عنھا کی تدفین ہوئی۔۔۔!!!( الاستیعاب،الاصابہ،اسدالغابہ) 

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنھا قدیم الاسلام تھیں،اسلام کی خاطر انہوں نے سخت سے سخت مصائب کا مقابلہ کیا،نیک فطرت اور صالح خاتون تھیں،ایمان پر استقامت اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ جذبہ انکی روشن سیرت کا اصلی جوہر تھا،انکی پوری زندگی شریعت مطہرہ اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ایک ایسی منور قندیل تھی جس سے قیامت تک آنے والی نسلیں روشنی حاصل کرتی رہیں گی۔۔اللہُ کریم خواتینِ اسلام کو ازواج مطہرات و بنات مطہرات وصحابیاتِ مبشرات رضی اللہ تعالی عنھن کی سیرت طیبہ کو پڑھنے اور آئیڈیل بنا کر اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔۔۔آمین یا رب العلمین۔۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -