قتل یا خودکشی؟ دو بیٹیوں کا باپ پراسرارطور پر جل کر جاں بحق، پولیس نے قانونی کارروائی تک نہ کی

قتل یا خودکشی؟ دو بیٹیوں کا باپ پراسرارطور پر جل کر جاں بحق، پولیس نے قانونی ...
قتل یا خودکشی؟ دو بیٹیوں کا باپ پراسرارطور پر جل کر جاں بحق، پولیس نے قانونی کارروائی تک نہ کی

  

قصور(ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ صدر بھائی پھیرو کے علاقہ میں دو بیٹیوں کا باپ پراسرارطور پر جل کر چل بسا،پولیس نے واقعہ کے  حوالے سے قانونی کارروائی تک نہ کی۔ قریبی رشتے داروں نے معاملے کو مشکوک قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیچہ وطنی کا رہائشی اشرف عرف اچھو نائی  بھائی پھیرو کے علاقہ میں آتشزدگی کے پراسرارواقعہ میں جان کی بازی ہار گیا۔ لواحقین نے اس کے گاوں لے جاکر خاموشی سے تدفین کردی ، دونوں جگہ پر  تھانے میں کسی قسم کا اندراج ہوا نہ ہی کوئی تفتیش کی گئی۔چیچہ وطنی کے نواحی گائوں 47/12-Lکا رہائشی اشرف عرف اچھو نائی کچھ عرصہ سے بھائی پھیرو کے علاقہ جمبر میں رہائش پذیر تھا ، اپنی بھابھی کی جانب سے گھر سے نکال دئے جانے کے بعد بھائی پھیرو کے علاقہ میں  شبیرجٹ آرے والے کے گھر میں اپنی دو بیٹیوں اور بیوی کے ہمراہ رہائش پذیر تھا ۔جہاں وہ یکم دسمبر کو وہ جل کر مرگیا ، لیکن شبیر جاٹ اور اچھو کی فیملی نے اچھو کے آبائی گائوں سے دو افراد رانا مزمل اور حبیب اللہ کو بلا کر لاش ان کے حوالہ کردی ۔ اگلے روز رات کے وقت میت کو آبائی گاوں میں دفن کردیا گیا ۔ تاہم حیران کن طو رپر اس دوران نہ تو پولیس کو اطلاع دی گئی اور واقعہ علم میں آنے کے باوجود پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

رابطہ کرنے پر تھانہ صدر بھائی پھیرو اور تھانہ اوکانوالہ چیچہ وطنی نے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ، جبکہ ذرائع کے مطابق چیچہ وطنی میں اچھو کی تدفین کے دوران مقامی (اوکانوالہ ) پولیس رانا مزمل کے ڈیرے پر موجود رہی ، لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی ، اسی طرح تھانہ صدر بھائی پھیرو پولیس کے بارے میں بھی علم ہوا ہے کہ معاملہ ان کے بھی علم میں تھا لیکن شبیر جٹ نے پولیس کو خاموش رکھنے میں خصوصی کردار ادا کیا ۔ مقتول کے قریبی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اسے شبیر جٹ اور مقتول کی بیٹیوں نے مل کر قتل کیا ہے ۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -قصور -